أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّاٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوا وَّاَحۡسَنُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ  ۞

ترجمہ:

ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے جو کچھ (پہلے) کھاپی چکے ہیں اسی سے ان پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی بہ شرطی کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہے اور ایمان پر برقرار رہے اور نیک عمل کرتے رہے ‘ پھر اللہ سے ڈرتے رہے اور بدستور ایمان پر قائم رہے پھر اللہ سے ڈرتے رہے اور اچھے کام کرتے رہے اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے جو کچھ (پہلے) کھاپی چکے ہیں اسی سے ان پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی بہ شرطی کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہے اور ایمان پر برقرار رہے اور نیک عمل کرتے رہے ‘ پھر اللہ سے ڈرتے رہے اور بدستور ایمان پر قائم رہے پھر اللہ سے ڈرتے رہے اور اچھے کام کرتے رہے اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (المائدہ : ٩٣) 

شان نزول کا بیان : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے تھے اور اسی حال میں فوت ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے جو کچھ (پہلے) کھاپی چکے ہیں ‘ ان سے ان پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ (الایہ) (مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩١۔ ٢٤٥٢۔ ٢٠٨٨‘ دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ١ ص ٢٣٤‘ طبع قدیم ‘ جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ٥٠‘ امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ‘ المستدرک ج ٤‘ ص ١٤٣) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے کچھ لوگ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ‘ جب شراب حرام کردی گئی تو صحابہ نے کہا ہمارے ان اصحاب کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے رہے اور فوت ہوگئے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٦٢۔ ٣٠٦١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٥٠‘ مسند ابو یعلی ‘ ١٧٢٠‘ جامع البیان ‘ ج ٧‘ ص ٥٠) 

تحریم خمر کی تاریخ : 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

میں نے سورة مائدہ کی تفسیر میں یہ لکھا تھا کہ شراب فتح مکہ کے سال (٨ ھ) میں فتح مکہ سے پہلے حرام کی گئی تھی ‘ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ دمیاطی نے اپنی سیرت میں جزم کے ساتھ لکھا ہے کہ شراب کو حدیبیہ کے سال حرام کیا گیا اور حدیبیہ کا واقعہ چھ ہجری میں ہوا تھا ‘ اور امام ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ یہ حکم بنو نضیر کے واقعہ میں نازل ہوا تھا اور جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے اور راجح قول کے مطابق یہ چار ہجری کا واقعہ ہے ‘ لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو میں (انس) لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور میں اس وقت قوم میں سب سے چھوٹا تھا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٥٥٨٣) تو اگر چار ہجری میں شراب کی تحریم نازل ہوئی تو حضرت انس اس وقت چودہ سال کے ہوں گے ‘ تو پھر وہ ان میں سب سے چھوٹے کیسے ہوئے۔ (فتح الباری ‘ ج ١٠‘ ص ٣١‘ مطبوعہ لاہور ‘ ١٤٠١) 

شراب کو حرام کر کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ہے ‘ کیونکہ شراب عقل کو زائل کردیتی ہے سو جو چیز عقل کو زائل کر دے ‘ اس کو حرام کردینا ہم پر بہت بڑا انعام ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے تو پھر گزشتہ امتوں میں خمر کو کیوں حلال رکھا گیا ‘ جبکہ عقل کی ان کو بھی ضرورت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نشہ کرنا تمام ادیان میں حرام رہا ہے ‘ ان پر خمر کی قلیل مقدار حلال تھی ‘ ہم پر خمر کی قلیل مقدار بھی حرام کردی گئی ‘ تاکہ قلیل مقدار میں خمر کا پینا کثیر مقدار میں خمر پینے کا ذریعہ نہ بن جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر خصوصی کرم ہے ‘ کیونکہ اس نے ہم کو خیر امم قرار دیا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر اس حکمت کی وجہ سے ابتداء اسلام میں خمر کو حرام کیوں نہیں قرار دیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء اسلام میں خمر کو مباح رکھا ‘ تاکہ مسلمان خمر کے فساد کا خود مشاہدہ کریں ‘ حتی کہ جب ان پر خمر حرام کردی گئی تو انہوں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم برحق ہے۔ 

اللہ کے خوف کو تین بار ذکر کرنے کی توجیہات : 

اس آیت میں فرمایا ہے بشرطیکہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور ایمان پر برقرار رہیں اور نیک عمل کرتے رہیں ‘ پھر اللہ سے ڈرتے رہیں اور بدستور ایمان پر قائم رہیں ‘ پھر اللہ سے ڈرتے رہیں اور اچھے کام کرتے ہیں۔ 

اس آیت میں دو مرتبہ ایمان لانے اور تین مرتبہ اللہ سے ڈرنے کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس کی کئی تفسیریں ہیں۔ 

(١) پہلے ایمان اور تقوی سے مراد اصل ایمان اور اصل تقوی ہے ‘ یعنی انہوں نے شرک اور کفر کو ترک کیا اور اللہ پر ایمان لائے اور دوسری مرتبہ اللہ سے ڈرنے اور اس پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس ایمان اور تقوی پر برقرار رہے اور تیسری مرتبہ اللہ سے ڈرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے اس کے بندوں پر ظلم کرنے سے باز رہے ‘ اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہے۔ 

(٢) پہلی بار اللہ کے ڈر اور اس پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اس کے نازل کیے ہوئے سابقہ احکام مثلا نماز ‘ روزہ اور جہاد وغیرہ پر ایمان لائے اور دوسری مرتبہ اللہ کے خوف اور اس پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے بعد میں نازل ہونے والے احکام پر ایمان لائے ‘ مثلا بعد میں شراب ‘ جوئے ‘ انصاب اور ازلام کو حرام کیا گیا ‘ تو وہ ان کی حرمت پر ایمان لے آئے۔ پھر تیسری بار اللہ کے ڈر سے مراد یہ ہے کہ وہ خوف خدا سے محرمات سے اجتناب کرنے پر برقرار رہے اور نیک سلوک کرتے رہے۔ 

(٣) پہلی بار اللہ کے ڈر اور اس پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ خوف خدا سے محرمات سے بچتے تھے اور ایمان اور اعمال صالحہ پر برقرار رہتے تھے ‘ اور دوسری بار ذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ خوف خدا سے بعد میں حرام کی جانے والی چیزوں ‘ مثلا شراب سے مجتنب ہوئے اور اس کی تحریم پر ایمان لائے اور تیسری بار ذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے ڈر سے اس اجتناب اور اعمال صالحہ پر برقرار رہے۔ 

(٤) تین بار ذکر سے تین اوقات مراد ہیں ‘ یعنی وہ ماضی میں اللہ سے ڈرتے تھے ‘ حال میں بھی اللہ سے ڈرے اور مستقبل میں بھی اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ 

(٥) تین بار ذکر سے تین احوال مراد ہیں ‘ یعنی وہ خوف خدا سے کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو اللہ عزوجل کی شان کے لائق نہ ہو ‘ اور نہ وہ کوئی ایسی بات کہتے ہیں جو آداب رسالت کے منافی ہو ‘ اور نہ کوئی ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے اپنے نفس اور عام مسلمانوں کے لیے باعث ضرر ہو ‘ بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں کوشاں رہتے ہیں۔ 

(٦) وہ خوف خدا سے کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ‘ خلاف سنت اور خلاف اولی کاموں سے بچتے ہیں اور بعض ایسے مباح کاموں سے بچتے ہیں جو دناءت اور خست نفس کا سبب ہوں۔ 

(٧) اس سے مراد سلوک کی ابتداء سلوک کا وسط اور سلوک کی انتہاء ہے جس میں انسان حقیقی سے واصل ہوجاتا ہے۔ 

(٨) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے عمر کے تین ادوار مراد ہوں ‘ یعنی وہ عمر کی ابتداء میں بھی اللہ سے ڈرتے تھے ‘ وسط میں بھی اور آخر میں بھی۔ 

(٩) وہ شراب کی تحریم نازل ہونے سے پہلے بھی اس سے اجتناب کرتے تھے ‘ اس کی تحریم نازل ہونے کے بعد بھی اس سے اجتناب کرتے رہے اور باقی اعمال میں خوف خدا سے گناہوں سے اجتناب کرتے رہے اور نیک عمل کرتے رہے۔ 

(١٠) اس تکرار سے ایمان اور خوف خدا کی تاکید اور اس میں مبالغہ مقصود ہے ‘ تاکہ مسلمان اس پر نہایت اہمیت کے ساتھ برقرار رہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 93