أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَيَبۡلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَىۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ تَنَالُـهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَ رِمَاحُكُمۡ لِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡـغَيۡبِ‌ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰى بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ تم کو ضرور ایسے شکار سے آزمائے گا جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں تاکہ اللہ یہ ظاہر کر دے کہ کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ سو جس نے اس (تنبیہ) کے بعد حد سے تجاوز کیا اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ تم کو ضرور ایسے شکار سے آزمائے گا جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں تاکہ اللہ یہ ظاہر کر دے کہ کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ سو جس نے اس (تنبیہ) کے بعد حد سے تجاوز کیا اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (المائدہ : ٩٤) 

شان نزول اور مناسبت : 

ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حدیبیہ کے سال میں نازل ہوئی ‘ بعض مسلمانوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور بعض نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا ‘ اور جب ان کے سامنے شکار آتا تو ان کے احوال اور افعال مختلف ہوتے اور ان پر احکام مشتبہ ہوجاتے۔ تب اللہ نے ان کے احوال اور افعال کے احکام بیان کرنے اور حج اور عمرہ میں ممنوعہ کام بیان کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ (الجامع لا حکام القرآن ج ٦ ص ‘ ٢٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عمرہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ‘ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وحشی جانوروں کے شکار کی آزمائش میں مبتلا کیا اور وہ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے ‘ وحشی جانور بکثرت ان کی سواریوں کے گرد پھر رہے تھے ‘ اور وہ ان کے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں تھے۔ حضرت ابو جعفر (رض) نے فرمایا پرندوں کے چوزے اور وحشی جانوروں کے بچے اور انڈے ان کے ہاتھوں کی زد میں تھے اور بڑے جنگلی جانور ‘ مثلا جنگلی گدھا ‘ گائے اور اونٹ وغیرہ ان کے نیزوں کی زد میں تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جو شکار قریب تھے ‘ وہ ان کے ہاتھوں کی دسترس میں تھے اور جو شکار دور تھے ‘ وہ ان کے نیزوں کے نشانوں پر تھے۔ نیزہ کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ وہ شکار کرنے کا بڑا ہتھیار ہے ‘ تیر اور دیگر ہتھیار بھی اس میں شامل ہیں۔ (روح المعانی جز ٧ ص ‘ ٢١ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جن پاکیزہ اور پسندیدہ چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے ‘ ان جانوروں کے شکار کرنے کو محرم پر حرام قرار دیا ‘ اور شکار کرنے پر اس کی تلافی اور تدارک کے لیے تاوان بیان فرمایا۔ 

” تاکہ اللہ یہ جان لے “ کی توجیہات۔ 

اس آیت کے دوسرے جز کا لفظی معنی یہ ہے ‘ تاکہ اللہ یہ جان لے کر کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ہمیشہ سے جاننے والا ہے اور کسی شخص کے کسی کام کرنے یا نہ کرنے پر اس کا علم موقوف نہیں ہے ‘ اس لیے ہم نے اس کا معنی یہ کیا ہے ‘ تاکہ اللہ یہ ظاہر کر دے کہ کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علم سے مراد علم ظہور ہے۔ اس کو حکماء کی اصطلاح میں علم تفصیلی سے تعبیر کرتے ہیں ‘ جو معلومات کا عین ہے ‘ اس کے برخلاف علم اجمالی عالم کا عین ہوتا ہے۔ 

علامہ بیضاوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کا ذکر کیا ہے اور اس سے مراد معلوم کو واقع کرنا اور اس کو ظاہر کرنا ہے۔ نیز علامہ بیضاوی نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا علم بالفعل متعلق ہوجائے اور بعض مفسرین نے کہا یہاں پر مضاف محذوف ہے یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء جان لیں کہ کون اللہ سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے ‘ تاکہ اللہ پہچان کرا دے اس کی جو بن دیکھے اللہ سے ڈرتا ہے۔ 

حالت احرام میں شکار کرنے کی سزا : 

اس کے بعد فرمایا سو جس نے اس تنبیہ کے بعد حد سے تجاوز کیا اس کے لیے درد ناک عذاب ہے کیونکہ تنبیہ کے بعد محرم کا شکار کے درپے ہونا اللہ تعالیٰ کے حکم سے محض لاپرواہی برتنا ہے اور بےباکی ہے اور اس کے ڈر اور خوف سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا ہے اور جو شخص اپنے نفس کو لگام ڈالنے پر قادر نہ ہو اور اس قسم کے آسان احکام میں آزمائش پر پورا نہ اتر سکے ‘ اس سے کب توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑے بڑے اور سخت احکام میں آزمائش پر پورا اتر سکے گا۔ متبادر یہ ہے کہ یہ عذاب آخرت میں ہوگا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کی پشت برہنہ کرکے اس پر کوڑے لگائیں جائیں گے اور شیخ الاسلام نے کہا اس کو دنیا میں بھی سزا دی جائے گی اور وہ آخرت میں بھی عذاب کا مستحق ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 94