سوال :

زید جماعت میں اول صف میں کھڑا تھا اور پیچھے صفیں موجود تھیں۔

فورا اس کو یاد آیا کہ اس کا وضو نہیں ہے۔اب وہ وہیں کھڑا رہا اور جماعت کے ساتھ نماز مکمل کی۔

بعد میں بہت نادم ہوا توبہ استغفار کی اور نماز لوٹائی۔اب زید پر کیا حکم ہے اور اگر دوبارہ ایسی صورت آجاۓ تو زید کیا کرے ؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

نماز کو طہارت کے ساتھ پڑھنا فرض ہے کیونکہ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ،

أگر کسی کو یاد نہ رہا کہ وہ طہارت سے ہے أور نماز پڑھنا شروع کردی یا پھر نماز میں طہارت ٹوٹ گئی تو دونوں حالتوں میں وہ فورا نماز چھوڑ کر طہارت حاصل کرے أور لوگوں سے نہ گھبرائے کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے:

فالله أحق أن تخشوه إن كنتم مؤمنين ( توبہ ، 13 )

ترجمہ: ہس اللہ ہی سب سے زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم أس سے ڈرو أگر تم ایمان والے ہو.

لہذا جب بھی کوئی خلاف شرع کام ہو تو لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اللہ سے ڈرتے ہوئے أپنے عمل کی اصلاح کرنی چاہیے .

أگر کسی نے طہارت کے بغیر نماز شروع کی جیسے کہ زید نے کیا تو طہارت حاصل کرکے دوبارہ شروع سے نماز پڑھے گا ،

لیکن زید کو یاد آنے کے باوجود أس نے نماز بغیر طہارت کے جاری رکھی تو اس عمل میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے بعض أیسے شخص کی تکفیر کرتے ہیں ،

أور مفتی بہ قول کے مطابق أسکی تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ أس نے نماز بغیر طہارت کے استہزاء نہیں پڑھی بلکہ لوگوں سے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے وہ نماز سے نہیں نکلا أور أسکو وہ برا بھی جان رہا تھا پھر أس نے توبہ بھی کی لہذا راجح قول کے مطابق أسکی تکفیر نہیں ہوگی ، أور یہ أصول تکفیر کے بھی موافق ہے ،

البحر الرائق میں ابن نجیم نے ، الدرمختار میں علامہ حصکفی نے ، أور حاشیہ ابن عابدین میں علامہ شامی نے ان سب علماء نے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ أگر أس نے استہزاء بغیر طہارت کے نماز نہیں پڑھی تو أسکی تکفیر نہیں ہوگی جیسے کہ زید نے کیا لہذا اس پر توبہ لازم تھی جو أس نے کرلی

علامہ ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں:

وهذا هو الأصح فكانت الصلاة بغير طهارة نظير الصلاة إلى غیر القبلة أو مع الثوب النجس فينبغي التسوية بينهما في الحكم وهو عدم التكفير كما لا يخفى.

( البحر الرائق لابن نجیم ، 1/151 )

ترجمہ: یہی أصح ہے پس بغیر طہارت کے نماز پڑھنا أس نماز کی طرح ہے جو بغیر قبلہ رخ کیے یا ناپاک کپڑوں کے ساتھ پڑھی گئی تو ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان حکم بھی برابر ہو أور وہ عدم تکفیر ( تکفیر نہ کرنا) ہے جیسے کہ یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ( یعنی یہ واضح ہے کہ أیسے شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی).

زید نے جو عمل کیا ہے أس عمل کی بنیاد پہ تکفیر مختلف فیہ ہے تو جب تکفیر مختلف فیہ ہو تو علامہ حصکفی أسکا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي : مايكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا ، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح .

( الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدین ، 4/247 )

ترجمہ:

إمام شرنبلالی کی شرح وھبانیہ میں ہے کہ جسکا کفر متفق علیہ ہو أسکا عمل و نکاح باطل ہوجائے گا أور أسکی أولاد زنا کی اولاد کی کہلائے گی ( أگر وہ تجدید ایمان و نکاح نہیں کرتا) ، أور أگر کفر مختلف فیہ ہو تو أیسے شخص کو استغفار و توبہ و تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا .

إس عبارت میں علامہ شامی تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:

احتیاطا.

تجدید نکاح احتیاطا کرے گا.

علامہ ابن عابدین کی عبارت سے واضح ہے کہ تجدید نکاح احتیاطا ہوگا لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ تجدید نکاح کرے.

لہذا زید اس فعل سے کافر نہیں ہوا أور نہ ہی تجدید نکاح لازم ہے ، أگر احتیاطا کرنا چاہے تو کرسکتا ہے یہ خروج عن الخلاف کے تحت قول کیا گیا ہے اسکی تصریح خود ابن عابدین نے کی ہے .

أگر دوبارہ أیسی صورت ہو تو جیسے ہم نے سورہ توبہ کی آیت سے واضح کیا ہے کہ بغیر کسی سے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے وہ فورا نماز سے نکل جائے اور طہارت حاصل کرے أور دوبارہ شروع سے نماز لوٹائے یا أگر جماعت مکمل نہیں ہوئی تو إمام کے ساتھ مل جائے أور رہی ہوئی نماز مسبوق کی طرح مکمل کرے کیونکہ أس نے نماز ہی بغیر طہارت کے شروع کی تھی.

نکلتے وقت ایسی حالت بنائے کہ لوگ سمجھیں کہ کہیں نسیر وغیرہ بہ رہی ہے یعنی ناک کو پکڑ کر .