امام محمد

نام ونسب ۔نام ،محمد ۔ کنیت ،ابو عبداللہ ۔والدکا نام ،حسن ہے اور سلسلہ نسب یوں ہے ۔ ابوعبداللہ محمد بن حسن بن فرقد شیبانی ۔ شیبانی آپکے قبیلہ کی طرف منسوب ہے ۔بعض محققین کے نزدیک یہ نسبت ولائی ہے کہ آپکے والد بنو شیبان کے غلام تھے ۔

آپکے والد کا اصل مسکن جزیرہ شام تھا ،دمشق کے قریب حرساکے رہنے والے تھے ،بعد میں ترک وطن کرکے شہر واسطہ آگئے تھے ۔

ولادت وتعلیم :۔آپکی ولادت ۱۳۲ھ میں بمقام شہر واسطہ (عراق ) میں ہوئی پھر آپکے والد نے کوفہ کو اپنا مسکن بنایا اور آپکی تعلیم وتربیت کا آغاز یہاں ہی ہوا ۔

چودہ سال کی عمر میں امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے مجلس میں آکر امام اعظم کے بارے میں سوال کیا ،امام ابویوسف نے آپکی رہنمائی کی آپ نے امام اعظم سے دریافت کیا کہ ایک نابالغ لڑکا عشاء کی نماز پڑھ کر سوجائے اور اسی رات فجر سے پہلے وہ بالغ ہوجائے تووہ نماز دہرائے گا یا نہیں ، امام اعظم نے فرمایا دہرائے گا ۔امام محمد نے اسی وقت اٹھ کر ایک گوشہ میں نماز پڑھی ۔امام اعظم نے یہ دیکھ کر بے ساختہ فرمایا انشاء اللہ یہ لڑکا رجل رشید ثابت ہوگا ۔اس واقعہ کے بعد امام محمد گاہے گاہے امام اعظم کی مجلس میں حاضرہوتے رہے ،کم سن تھے اور بے حد خوبصورت ،جب باقاعدہ تلمذکی درخواست کی توامام اعظم نے فرمایا پہلے قرآن حفظ کرو پھر آنا۔ سات دن بعد پھر حاضر ہوگئے ،امام اعظم نے فرمایا: میں نے کہا تھا کہ قرآن مجید حفظ کرکے پھر آنا عرض کیا: میں نے قرآن کریم حفظ کرلیا ہے ۔امام اعظم نے ان کے والد سے کہا اس کے سرکے بال منڈوادو لیکن بال منڈوانے کے بعد ان کا حسن اوردمکنے لگا ۔ابو نواس نے اس موقع پر یہ اشعار کہے : ۔

حلقوا راسہ لیکسوہ قبحا ٭ غیرۃ منھم علیہ وشحا

کان فی وجہہ صباح ولیل ٭ نزعوا لیلہ وابقوہ صبحا

لوگوں نے ان کا سر مونڈدیا تاکہ ان کی خوبصورتی کم ہو ،ان کے چہرہ میں صبح بھی تھی اوررات بھی ،رات کو انہوں نے ہٹادیا صبح تو پھر بھی باقی رہی ۔

آپ مسلسل چار سال خدمت میں رہے ،پھر امام ابویوسف سے تکمیل کی ۔انکے علاوہ مسعر بن کدام ،اوزاعی ،سفیان ثوری اورامام مالک وغیرہ سے علم حدیث میں خوب استفادہ کیا اورکمال حاصل کیا ۔

خود فرماتے تھے: مجھے آبائی ترکہ سے تیس ہزار درہم یادینار ملے تھے جن میں سے آدھے میں نے لغت و شعر کی تحصیل میں خرچ کرڈالے اور نصف فقہ وحدیث کیلئے ۔

اساتذہ ۔آپ نے طلب علم میں کوفہ کے علاوہ مدینہ ،مکہ ،بصرہ ،واسطہ شام ،خراسان اور یمامہ وغیرہ کے سیکڑوں مشائخ سے علم حاصل کیا ،چندمشاہیرکے نام یہ ہیں ۔

امام اعظم ابوحنیفہ ،امام ابویوسف ،امام زفر ،سفیان ثوری ،مسعربن کدام ،مالک بن مغول ،حسن بن عمارہ ،امام مالک ،ابراہیم ،ضحاک بن عثمان ،سفیان بن عیینہ ،طلحہ بن عمرو ،شعبہ بن الحجاج ،ابوالعوام ،امام اوزاعی ،عبداللہ بن مبارک ،زمعہ بن صالح ،

تلامذہ: ۔آپکے تلامذہ کی تعداد نہایت وسیع ہے ۔چند یہ ہیں ۔

ابو حفص کبیر احمد بن حفص عجلی استاذ امام بخاری ۔موسی بن نصیر رازی، ہشام بن عبیداللہ رازی ،ابوسلیمان جوزجانی ،ابوعبیدالقاسم بن سلام ،محمد بن سماعہ ،معلی بن منصور ،محمد بن مقاتل رازی ،شیخ ابن جریر ،یحیی بن معین ،ابوزکریا ،یحیی بن صالح ،حاظی حمصی ، یہ امام بخاری کے شیوخ شام سے ہیں ۔عیسی بن ابان ،شداد بن حکیم ،امام شافعی جنکو آپ نے اپناتمام علمی سرمایہ سونپ دیاتھا جو ایک اونٹ کا بوجھ تھا ۔

ابو عبید کہتے ہیں :میں نے امام شافعی کو دیکھا کہ امام محمد نے انکو پچاس اشرفیاں دیں اوراس سے پہلے پچاس روپے دے چکے تھے ۔

ابن سماعہ کا بیان ہے :امام محمد نے اما م شافعی کیلئے کئی بار اپنے اصحاب سے ایک ایک لاکھ روپے جمع کرکے دیئے ۔

امام مزنی فرماتے تھے :امام شافعی سے منقول ہے کہ ایک دفعہ میں عراق میں قرضہ کی وجہ سے محبوس ہوگیا ،امام محمد کو معلوم ہوا تو مجھے چھڑالیا ۔

یہ ہی وجہ تھی کہ امام شافعی امام محمد کی نہایت تعظیم وتوقیر کرتے اور واضح الفاظ میں احسانات کا اظہار کرتے تھے ،فرماتے۔

فقہ کے بارے میں مجھ پر زیادہ احسان محمد بن حسن کاہے ۔

حافظ سمعانی نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیا ۔

اللہ تعالیٰ نے دوشخصوں کے ذریعہ میری معاونت فرمائی ۔سفیان بن عیینہ کے ذریعہ

حدیث میں اور امام محمد کے ذریعہ فقہ میں ۔

علامہ کردری نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیاکہ:۔

علم اور اسباب دنیوی کے اعتبار سے مجھ پر کسی کا بھی اتنا بڑا احسان نہیں جس قدر امام محمد کا ہے ۔

آپکے دوسرے عظیم شاگر د اسدبن الفرات ہیں ، خصوصی اوقات میں آپ نے انکی تعلیم وتربیت کی ۔ساری ساری رات انکو تنہا لیکر بیٹھتے ،پڑھاتے اور مالی امداد بھی کرتے تھے ،جب پڑھ لکھ کر فاضل ہوگئے تو امام محمد کی روایت سے امام اعظم کے مسائل ،اورابن قاسم کی روایت سے امام مالک کے مسائل پر مشتمل ۶۰ کتابوں کا ایک مجموعہ مرتب کیاجس کانام اسدیہ رکھا ۔علماء مصر نے اس مجموعہ کی نقل لینا چاہی اور قاضی مصر کے ذریعہ سفارش کی ،آپ نے اسکی اجازت دیدی اور چمڑے کے تین سوٹکڑوں پر اسکی نقل کرائی گئی جوابن القاسم کے پاس رہی ۔بعد کے مدونہ نسخوں کی اصل بھی یہ ہی اسدیہ ہے ۔

امام محمد کے پاس مال کی اتنی فراوانی تھی کہ تین سومنیم مال کی نگرانی کیلئے مقرر تھے ۔لیکن آپنے اپنا تمام مال ومتاع محتاج طلبہ پر خرچ کردیا یہاں تک کہ آپکے پاس لباس بھی معمولی رہ گیا تھا ۔

معمولات زندگی :۔ آپ راتوںکو نہیں سوتے تھے ،کتابوں کے ڈھیر لگے رہتے۔ جب ایک فن کی کتابوں سے طبیعت گھبراتی تودوسرے فن کا مطالعہ شروع کردیتے تھے ،جب راتوں کو جاگتے اور کوئی مسئلہ حل ہوجاتا توفرماتے ،بھلاشاہزادوں کو یہ لذت کہاں نصیب ہوسکتی ہے ۔

امام شافعی فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے آپکے یہاں قیام کیا ،اور صبح تک نماز پڑھتا رہا ،لیکن امام محمد رات بھر پہلو پر لیٹے رہے اور صبح ہونے پر یونہی نماز میں شریک ہوگئے ۔مجھے یہ بات کھٹکی تو میں نے عرض کیا ،آپ نے فرمایا : کیا آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں سوگیا تھا ،نہیں میں نے کتاب اللہ سے تقریبا ًایک ہزار مسائل کا استنباط کیا ہے ۔تو آپ نے رات بھر اپنے لئے کام کیا اور میں نے پوری امت کیلئے ۔

محمد بن مسلمہ کا بیان ہے، کہ آپ نے عموماًرات کے تین حصے کردیئے تھے ،ایک سونے کیلئے ،ایک درس کیلئے اور ایک عبادت کیلئے ۔

کسی نے آپ سے کہا : آپ سوتے کیوں نہیں ہیں ۔فرمایا : میں کس طرح سوجائوں جبکہ مسلمانوں کی آنکھیں ہم لوگوں پر بھروسہ کرکے سوئی ہوئی ہیں ۔

فضل وکمال ۔امام شافعی فرماتے ہیں : اگر میں کہنا چاہوں کہ قرآن مجید محمد بن حسن کی لغت پر اتراہے تو میں یہ بات امام محمد کی فصاحت کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں ۔نیز یہودونصاری امام محمد کی کتابوں کامطالعہ کرلیں تو ایمان لے آئیں ۔فرماتے ہیں : میں نے جس شخص سے بھی کوئی مسئلہ پوچھا تواس کی تیوری پر بل آگئے مگر امام محمد سے جب بھی کوئی مسئلہ پوچھا تو آپ نے نہایت خندہ پیشانی سے وہ مسئلہ سمجھایا ۔

امام احمد بن حنبل سے کسی نے پوچھا ۔

یہ مسائل دقیقہ آپ نے کہاں سے سیکھے توفرمایا : امام محمد کی کتابوں سے ۔

ابن اکثم نے یحیی بن صالح سے کہا ، تم امام مالک اورامام محمد دونوں کی خدمت میں

رہے ہو ، بتائو ان دونوں میں کون زیادہ فقیہ تھا ،توآپ نے بلا تردد جواب دیا ،امام محمد ۔

ربیع بن سلیمان کہتے ہیں ۔

میں نے محمد بن حسن سے زیادہ کوئی صاحب عقل نہیں دیکھا ۔

جرأت واستقلال ۔امام محمد بے حدغیوراور مستقل مزاج تھے ،اقتدار وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کرتے اور اظہار حق کے راستے میں کوئی چیز ان کیلئے رکاوٹ نہیں بنتی تھی ۔ ایک دفعہ خلیفہ ہارون رشید کی آمد پر سب لوگ کھڑے ہوگئے محمد بن حسن بیٹھے رہے ۔کچھ دیر بعد خلیفہ کے نقیب نے محمد بن حسن کو بلایا ان کے شاگرداوراحباب سب پریشان ہوگئے کہ نہ جانے شاہی عتاب سے کس طرح خلاصی ہوگی ۔جب آپ خلیفہ کے سامنے پہنچے تواس نے پوچھا کہ فلاں موقع پر تم کھڑے کیوں نہیں ہوئے ،فرمایا کہ جس طبقہ میں خلیفہ نے مجھے قائم کیا ہے میں نے اس سے نکلنا پسند نہیں کیا ۔آپ کی تعظیم کیلئے قیام کرکے اہل علم کے طبقہ سے نکل کراہل خدمت کے طبقہ میں داخل ہونا مجھے مناسب نہیں تھا ۔پھر کہا :آپ کے ابن عم یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ آدمی اس کی تعظیم کیلئے کھڑے رہیں وہ اپنا مقام جہنم میں بنائے ۔حضور کی مراد اس سے گروہ علماء ہے پس جو لوگ حق خدمت اوراعزاز شاہی کے خیال سے کھڑے رہے انہوں نے دشمن کیلئے ہیبت کا سامان مہیا کیا اور جو بیٹھے رہے انہوں نے سنت اور شریعت پر عمل کیا جو آپ ہی کے خاندان سے لی گئی ہے اور جس پر عمل کرنا آپ کی عزت اورکرامت ہے ۔ہارون رشید نے سن کرکہا سچ کہتے ہو ۔

عہدہ قضاء: ۔امام ابویوسف کو فقہ حنفی کی ترویج اوراشاعت کا بے حد شوق تھا وہ چاہتے تھے کہ ملک کا آئین فقہ حنفی کے مطابق ہو۔اس لئے انہوں نے ہارون رشید کی درخواست پر قاضی القضاہ (چیف جسٹس ) کا عہدہ قبول کرلیاتھا، کچھ عرصہ بعد ہارون رشید نے شام کے علاقہ کیلئے امام محمد کا بحیثیت قاضی تقرر کیا ،امام محمد کو علم ہوا تو وہ امام ابویوسف کے پاس گئے اور اعتذارکیا اوردرخواست کی کہ مجھے اس آزمائش سے بچایئے ،امام ابویوسف نے مسلک حنفی کی اشاعت کے پیش نظر ان سے اتفاق نہیں کیا ۔وہ ان کو یحیی برمکی کے پاس لے گئے یحیی نے ان کو ہارون رشید کے پاس بھیج دیا ۔اس طرح مجبور ہوکر ان کو عہدہ قضاء قبول کرنا پڑا ۔

حق گوئی وبے باکی۔امام محمداپنے احباب اورارکان دولت کے اصرار کی بناء پر عہد ہ قضاء پر متمکن ہوئے۔ جتنا عرصہ قاضی رہے بے لاگ فیصلے کرتے رہے لیکن قدرت کو ان کی آزمائش مقصود تھی ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یحیی بن عبداللہ نامی ایک شخص کو خلیفہ پہلے امان دے چکا تھا ۔ بعد میں کسی وجہ سے خلیفہ اس پر غضب ناک ہوا اوراس کو قتل کرنا چاہا۔ اپنے اس مذموم فعل پر خلیفہ قضاۃ کی تائید چاہتا تھا تاکہ اسکے فعل کو شرعی جواز کا تحفظ حاصل ہوجائے ۔خلیفہ نے تمام قاضیوں کو دربار میں طلب کیا سب نے خلیفہ کے حسب منشاء نقض امان کی اجاز ت دیدی لیکن امام محمد نے اس سے اختلاف کیا اور برملا فرمایا:یحیی کو جوامان دی جاچکی ہے وہ صحیح ہے اوراس امان کو توڑنے اور یحیی کے خون کی اباحت پرکوئی شرعی دلیل نہیں ہے لہذا اس کو قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے ۔انکی حق گوئی سے مزاج شاہی برہم ہوگیا لیکن جن کی نظر میں منشا الوہیت ہوتا ہے وہ کسی اورمزاج کی پرواہ نہیں کرتے، جودلوں میں اس قہار حقیقی کا خوف رکھتے ہیں وہ مخلوق کی ناراضگی کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے ۔امام محمد اپنے اس فیصلہ کے رد عمل کو قبول کرنے کیلئے تیار تھے ۔چنانچہ اس اظہارحق کی پاداش میں نہ صرف یہ کہ آپ کو عہدئہ قضاء سے ہٹایا گیا اور افتاء سے روکاگیا بلکہ کچھ عرصہ کیلئے آپ کو قید میں بھی محبوس کیاگیا ۔

عہدئہ قضاء پر بحالی :۔ امام محمد کے عہدہ قضاء سے سبکدوش ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہارون رشید کی بیوی ام جعفر کو کسی جائیداد کے وقف کرنے کا خیال آیا اس نے امام محمد سے وقف نامہ تحریر کرنے کی درخواست کی آپ نے فرمایا مجھے افتاء سے روک دیا گیا ہے اس لئے معذور ہوں ۔ امام جعفر نے اس سلسلہ میں ہارون رشید سے گفتگوکی جس کے بعد اس نے نہ صرف آپ کو افتاء کی اجازت دی بلکہ انتہائی اعزاز واکرام کے ساتھ آپ کو قاضی القضاۃ کا عہد ہ پیش کردیا ۔

تصانیف ۔امام محمد کی تمام زندگی علمی مشاغل میں گذری۔ائمہ حنفیہ میں انہوں نے سب سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں ،مولانا عبدالحی لکھنوی اور مولانافقیر محمد جہلمی نے لکھا ہے کہ انہوں نے نوسوننانوے کتابیں لکھی ہیں اوراگر ان کی عمر وفاکرتی تووہ ہزار کا عدد پوراکردیتے ۔بعض محققین کایہ بھی خیال ہے کسی موضوع پر جو کتاب لکھی جاتی ہے اس میں متعدد مسائل کو مختلف عنوانات پر تقسیم کردیا جاتا ہے، جیسے کتاب الطہارۃ ،کتاب الصلوۃ ، کتاب الصوم وغیرہ پس جن لوگوں نے ۹۹۹ کا عددلکھاہے وہ ان کی تصانیف کے تمام عنوانوں کے مجموعہ کے اعتبار سے لکھا ہے ،بہر حال ان کی تصانیف کی جو تفصیل دستیاب ہوسکی وہ اس طرح ہے ۔

مؤطاامام محمد ۔حدیث میں یہ امام محمد کی سب سے پہلی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے زیادہ تر امام مالک سے سنی ہوئی روایات کو جمع کیاہے۔ بستان المحدثین میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے مؤطا کے سولہ نسخے ذکر کئے ہیں لیکن آج دنیا میں صرف دونسخے مشہور ہیں ۔ ایک امام محمد کی روایت کا مجموعہ جس کو مؤطا امام محمد کہتے ہیں اور دوسرا یحیی بن یحیی مصمودی کا نسخہ جو مؤطا امام مالک کے نام سے مشہور ہے ۔لیکن مؤطا امام محمد ،مؤطاامام مالک سے چند وجوہ پر فوقیت رکھتی ہے ۔

اولاً یہ کہ امام محمد یحیی بن یحیی سے علم حدیث میں زیادہ بصیرت اورفقہ میں ان سے بڑھ کر مہارت رکھتے تھے ۔

ثانیاً:۔ مؤطا کی روایت میں یحیی بن یحیی سے متعدد جگہ غلطیاں واقع ہوئیں ۔چنانچہ خود مالکی محدث شیخ محمد عبدالباقی زرقانی نے انکے بارے میں لکھاہے۔ قلیل الحدیث لہ اوھام ، ’انکو اکثر وہم لاحق ہو تے تھے اور حدیث میں وہ بہت کم معرفت رکھتے تھے ۔اور امام محمد کے بارے میں ذہبی جیسے شخص کو بھی اعتراف کرنا پڑا ،وکان من بحور العلم والفقہ قویا فی ماروی عن مالک ’امام محمد علم کے سمندر تھے اور امام مالک سے روایت کرنے میں وہ بہت قوی تھے ۔

ثالثا: یحیی بن یحیی کوامام مالک سے پوری مؤطا کے سماع کا موقع نہ مل سکا ۔کیونکہ جس سال وہ امام کی خدمت میں حاضرہوئے اسی سال امام مالک کا وصال ہوگیا ۔اسی وجہ سے وہ موطا امام مالک میں احادیث’’ عن مالک ‘‘کے صیغہ سے روایت کرتے ہیں ۔ برخلاف امام محمد کے کہ وہ تین سال سے زیادہ عرصہ امام مالک کی خدمت میں رہے اورموطا کی تمام روایات کا انہوں نے امام مالک سے براہ راست سماع کیا ہے ،اسی وجہ سے وہ’’ اٰخبرنا مالک‘‘ کے صیغہ کے ساتھ موطا میں احادیث روایت کرتے ہیں۔ اس کتاب میں امام محمد ترجمۃ الباب کے بعد سب سے پہلے امام مالک کی روایت کا ذکر کرتے ہیں ۔اور اگر مسلک حنفی اس روایت کے مطابق ہوتو اس کے بعد’’ بہ ناخذ‘ فرماتے ہیں اوراگر اس روایت کا ظاہر مسلک حنفی کے خلاف ہوتو اس کی توجیہ ذکرکرکے مسلک حنفی کی تائید میں احادیث اورآثار واردکرتے ہیں اور بسا اوقات دوسرے ائمہ فتویٰ کے اقوال بھی ذکر کرتے ہیں ۔چونکہ اس کتاب میں امام محمد نے امام مالک کے علاوہ دوسرے مشائخ کی روایات بھی ذکرکی ہیں ۔اسی لئے یہ کتاب امام مالک کی طرف منسوب ہونے کے بجائے امام محمد کی طرف منسو ب ہوگئی ۔موطا امام محمد میں کل ایک ہزار ایک سو اسی احادیث ہیں جن میں ایک ہزار پانچ احادیث امام مالک سے مروی ہیں اور ایک سو پچھتر دوسرے شیوخ سے ۔سترہ امام ابوحنیفہ سے اور چار امام ابویوسف سے مروی ہیں ۔اس کتاب کی بعض احادیث کے طرق اوراسانید پر اگرچہ جرح کی گئی ہے لیکن ان کی تائید اور تقویت دوسری اسانید سے ہوجاتی ہے ۔

کتاب الآثار ۔ حدیث میں یہ امام محمد کی دوسری تصنیف ہے ۔اس کتاب میں امام محمد نے احادیث سے زیادہ آثار کو جمع کیاہے ۔غالباً اسی وجہ سے انکی یہ تصنیف کتاب الآثار کے نام مشہور ہوگئی ۔اس کتاب میں ایک سوچھ احادیث اورسات سواٹھارہ آثار ہیں ۔ان کے علاوہ اس میں انہوں نے امام اعظم کے اقوال کا بھی ذکر کیا ہے ۔

کتاب الحج ۔اس کتاب میں بھی امام محمد نے احادیث کو جمع کیا ہے ۔امام مالک اور بعض دوسرے علماء مدینہ سے امام محمد کو فقہی اختلاف تھا ۔انہوں نے اپنے موقف کواحادیث اورآثار کی روشنی میں ثابت کرنے کیلئے اس کتاب کو تالیف کیا۔ اس کتاب کے متعدد قلمی نسخے مدینہ منورہ کے کتب خانوں میں موجود ہیں ۔

حدیث میں بھی اگرچہ امام محمد نے چند کتابیں تالیف فرمائی ہیں لیکن ان کا اصل موضوع فقہ ہے ، اوراس سلسلے میں انہوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔امام محمد کی فقہی تصنیفات کی دوقسمیں کی جاتی ہیں ۔ایک ظاہر الروایۃ اوردوسری نوادر ۔ظاہر الروایۃ امام محمد کی ان کتابوں کوکہاجاتا ہے جن کے بارے میں تواتر سے ثابت ہے کہ امام محمد کی تصانیف میں۔ یہ چھ کتابیں ہیں ۔مبسوط ، زیادات ،جامع صغیر ،جامع کبیر ،سیرصغیر اور سیرکبیر ۔اور نوادر امام محمد کی

ان تصانیف کو کہاجاتا ہے جن کا امام محمد کی طرف منسوب ہونا تواتر سے ثابت نہیں۔

مبسوط ۔علم فقہ میں امام محمد کی سب سے ضخیم تصنیف ہے ،یہ کتاب چھ جلدوں میں تین ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔اس میں دس ہزار سے زیادہ مسائل مذکور ہیں ۔اس کتاب کے متعدد نسخے ہیں، مشہور نسخہ وہ ہے جو ابوسلیمان جوزجانی سے مروی ہے ۔امام شافعی نے اس کو حفظ کرلیا تھا ۔ ایک غیرمسلم اہل کتاب اس کوپڑھ کر مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا کہ جب محمد اصغر کی کتاب ایسی ہے تومحمد اکبر کی کتاب کی کیاشان ہوگی ۔(کشف الظنون ج ۲ ص ۱۰۸۱) مصر اور استنبول کے کتب خانوں میں اس کے متعدد قلمی نسخے موجود ہیں ۔

الجامع الکبیر :۔ فقہ کے موضوع پر یہ امام محمد کی دوسری کتاب ہے ،اس میں مسائل فقہیہ کو دلائل نقلیہ سے ثابت کیا ہے ۔نیز اس کتاب کی عربی بھی بے حد بلیغ ہے۔ جس طرح یہ کتاب فقہی طور پر حجت تسلیم کی جاتی ہے اسی طرح اسکی عربیت بھی زبان وبیان کے اعتبار سے حجت مانی جاتی ہے ۔اس کتاب کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں حاجی خلیفہ نے پچاس سے زیادہ اس کی شروح کا ذکر کیا ہے ۔اس کتاب کے متعدد راوی ہیں ۔اور اس کے قلمی نسخے استنبول کے کتب خانوں میں موجود ہیں ۔

الجامع الصغیر ۔ فقہ میں امام محمد کی یہ تیسری تصنیف ہے اس کتاب میں ۱۵۳۶ مسائل ہیں جن میں سے دوکے سواباقی تمام مسائل کی بنیاد احادیث اورآثار پر رکھی ہے باقی د و مسئلوں کو قیاس سے ثابت کیاہے ۔اس کتاب کی وجہ تالیف یہ ہے کہ امام ابویوسف نے امام محمد سے فرمائش کی کہ وہ امام اعظم کے ان مسائل کو جمع کریں جوامام محمد نے امام ابویوسف کی وساطت سے سماع کئے ہیں۔ جب یہ کتاب امام محمد نے لکھ کر امام ابویوسف پر پیش کی تووہ بے حد خوش ہوئے اور باوجود اپنی جلالت علمی کے سفر وحضر میں ہرجگہ اس کو اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔اس کتاب کے مسائل کی تین قسمیں ہیں ۔پہلی قسم میں وہ مسائل ہیں جن کا ذکر امام محمد کی دوسری کتب میں نہیں ہے ۔دوسری قسم میں وہ مسائل ہیں جن کا ذکر دوسری کتب میں ہے لیکن یہ تصریح نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے یا نہیں ،یہا ں پر اس بات کی تصریح کردی ہے ۔تیسری قسم میں وہ مسائل ہیں جن کا محض اعادہ کیاہے مگر وہ بھی تغییر عبارت کی وجہ سے افادہ سے خالی نہیں۔ عہدئہ قضاء کیلئے اس کتاب کا مطالعہ ضروری خیال کیا جاتا تھا۔ اس کی تیس سے زیادہ شروح لکھی گئی ہیں (کشف الظنون ج ۱ص۵۶۱) متاخرین میں سے ایک شرح مولانا عبدالحی ٔ لکھنوی نے لکھی ہے اوراس کے شروع میں مبسوط مقدمہ ’’النافع الکبیر لمن یطالع الجامع الصغیر ‘‘کے نام سے تحریر کیاہے جس میں اس کتاب کی تمام خصوصیات اور اس کی شروح کا ذکر کیاہے ۔

السیر الصغیر ۔ علم فقہ میں امام محمد کی یہ چوتھی تصنیف ہے ۔امام اعظم نے اپنے تلامذہ کو سیر ومغازی کے باب میں جو کچھ املا کرایا یہ اس کا مجموعہ ہے ۔

السیرالکبیر ۔ فقہ کے موضوع پر یہ امام محمد کی پانچویں تصنیف ہے ۔امام اوزاعی نے سیر صغیر کا تعاقب کیا اور اس کے جواب میں امام محمد نے سیر کبیر کو تالیف کیا ،سیر ومغازی کے موضوع پر یہ ایک انتہائی مفید کتاب شمار کی جاتی ہے ۔اس کتاب میں جہاد وقتال اور امن وصلح کے مواقع اور طرق بیان کئے ہیں۔غیر مسلم اقوام سے مسلمانوں کے تعلقات ان کے حقوق وفرائض اور تجارتی اورعام معاملات پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اسلام کے بین الاقوامی نقطۂ نظر کو سمجھنے کیلئے اس کتاب کامطالعہ بہت ضروری ہے ۔

یہ کتاب امام محمد کی انتہائی اہم اورادق کتاب شمار جاتی ہے ،قوت استدلال اوردقت بیان کے اعتبار سے یہ کتاب انکی دیگر تمام کتب میں ممتاز ہے ۔ہارون الرشید کو اس کتاب سے اس درجہ دلچسپی تھی کہ اس نے اپنے دونوں لڑکوں امین اور مامون کو اس کا سماع کرایا۔ اس کتاب کی متعدد شروح لکھی جاچکی ہیں جن میں سب سے زیادہ شہرت امام سرخسی کی شرح کو حاصل ہوئی ،یہ شرح مع متن کے حیدر آباد دکن سے چھپ چکی ہے ۔

زیادات ۔ ظاہر الروایۃ میں امام محمد کی یہ چھٹی تصنیف ہے جو کہ سیرصغیر سیر کبیر کے تتمہ کے حکم میں ہے۔ کیونکہ سیر اور مواضع کہ جو مسائل ان دو کتابوں میں رہ گئے تھے ان کا اس کتاب میں ذکر کردیا گیا ہے ۔اس کے قلمی نسخے استنبول کی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔

فقہ سے متعلق امام محمد کی ان چھ کتابوں کو ظاہرہ الروایہ کہاجاتا ہے ۔امام محمد بن محمد حاکم شہید متوفی ۳۳۴ھ نے مبسوط جامع صغیر اور جامع کبیر سے مکرر مسائل اور مطول عبارات کو حذف کرکے ایک مختصر متن تیار کیا اور اسکا نام’’ الکافی فی فروع الحنفیہ‘‘ رکھا ۔ایک مرتبہ انہیں خواب میں امام محمد کی زیارت ہوئی فرمایاتم نے میری کتابوں کے ساتھ کیاکیا ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے فقہاء کو متساہل اور کسل مند پایا اس لئے مطول اور مکرر امور کو حذف کردیا ۔امام محمد نے جلال میں آکر فرمایا جس طرح تم نے میری کتابوں میں کاٹ چھانٹ کی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری بھی ایسی ہی کانٹ چھانٹ کریگا ۔چنانچہ ایساہی ہوا مروکے لشکر نے آپ کو قتل کردیا پھر آپ کے جسم کے دو ٹکڑے کرکے درخت پر لٹکادیا ۔حدائق حنفیہ ص ۱۷۰

امام حاکم شہید کی الکافی کی متعدد علماء نے شروح لکھیں لیکن سب سے زیادہ شہرت شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ۴۸۳ ھ کی شرح مبسوط کو حاصل ہوئی ۔یہ کتاب تیس اجزاء پر مشتمل ہے اور مصنف نے اس شرح کو قید خانے میں بغیر کسی مطالعہ کے فی البدیہہ املا کرایا ہے ۔فقہ حنفی میں یہ کتاب اصول کا درجہ رکھتی ہے اور ہدایہ وغیرہ میں جب مطلقاً مبسوط کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد یہ ہی مبسوط سرخسی ہوتی ہے۔

دیگر کتب ۔ ظاہر الروایۃ کے علاوہ امام محمد نے فقہ کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف فرمائی ہیں جن کا احصا ء مشکل ہے ۔چند کتابوں کا ذکر ہم ہدایۃ العارفین کے حوالے سے کررہے ہیں ۔ (۱) الاحتجاج علی مالک (۲) الاکتساب فی الرزق المستطاب (۳) الجرجانیات (۴) الرقیات فی المسائل (۵) عقائد الشیبانیہ (۶) کتاب الاصل فی الفروع (۷) کتاب الاکراہ (۸) کتاب الحیل (۹) کتاب السجلات (۱۰) کتاب الشروط (۱۱) کتاب الکسب (۱۲) کتاب النوادر (۱۳) الکیسانیات (۱۴)مناسک الحج (۱۵) انوارالصیام (۱۶) الہارونیات اور بہت سی کتابیں ۔

سانحہ وصال ۔امام محمد نے اٹھا ون سال عمر گزاری اور عمر کا بیشتر حصہ فقہی تحقیقات اور مسائل کے استنباط اور اجتہاد میں گذارا ۔جب دوبارہ عہدئہ قضا پر بحال ہوئے اور قاضی القضاۃ مقرر ہوئے تو ان کو ایک مرتبہ ہارون الرشید اپنے ساتھ سفر پر لے گیا ،وہاں رے کے اندر نبویہ نامی ایک بستی میں آپ کا وصال ہوگیا ۔اسی سفر میں ہارون رشید کے ساتھ نحوکے مشہور امام کسائی بھی تھے جو آپ کے خالہ زاد بھائی ہو تے تھے اور اتفاق سے اسی دن یادودن بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا ۔ہارون رشیدکو ان دونوں ائمہ فن کے وصال کا بے حد ملال ہوا اوراس نے افسوس سے کہا آج میں نے فقہ اور نحو دونوں کو ’’رے ‘‘ میں دفن کردیا ۔ روایت ہے کہ بعد وصال کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ آپ کا نزع کے وقت کیا حال تھا ۔آپ نے فرمایا میں اس وقت مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پر غور کررہا تھا مجھ کو روح نکلنے کی کچھ خبر نہیں ہوئی ۔

خطیب بغدادی نے امام محمد کے تذکرہ کے اخیر میں محمویہ نامی ایک بہت بڑے بزرگ جن کا شمار ابدال میں کیاجاتا ہے ،سے ایک روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن کو ان کے وصال کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا اے ابوعبداللہ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ کہااللہ نے مجھ سے فرمایا اگر تمہیں عذاب دینے کا ارادہ ہوتاتو میں تمہیں یہ علم نہ عطا کرتا ،میں نے پوچھا اور ابویوسف کا کیا حال ہے فرمایا مجھ سے بلند درجہ میں ہیں۔ پوچھا اور ابوحنیفہ ؟ کہا وہ ہم سے بہت زیادہ بلند درجوں پر فائز ہیں ۔ (تذکرۃ المحدثین ۔ مصنفہ مولانا غلام رسول صاحب سعیدی۔ احوال المصنفین)