بحالت حیض

حدیث نمبر :513

روایت ہے انہی سے کہ میں بحالت حیض پیتی پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وہی برتن دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ والی جگہ پر رکھ کر پیتے اور میں بحالت حیض ہڈی چوستی پھر آپ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ کی جگہ رکھتے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنی بیوی کا جھوٹھا کھانا پینا جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔فقہاءجومردکوعورت کا جھوٹھا کھانا منع کرتے ہیں وہاں اجنبی عورت مراد ہے۔لہذا وہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پاک نہایت سادہ اور بے تکلف تھی امت کو سادگی اختیار کرنی چاہیئے۔تیسرے یہ کہ ہڈی منہ سے چوسنا سنت ہے،کانٹے سے کھانا طریقہ نصاریٰ ہے۔چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ وہ خوش نصیب بی بی ہے کہ بارہا انکا لعاب حضور کے لعاب کے ساتھ جمع ہوا،خصوصًا وفات شریف کے وقت مسواک میں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہڈی چوسنا،گوشت چوسنا،گوشت چھوڑانے کے لئے نہ ہوتا تھا وہ تو پہلے چھوٹ چکا ہوتا تھا بلکہ محبوبیت ظاہر فرمانے کے لئے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.