أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جَعَلَ اللّٰهُ الۡـكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَـرَامَ قِيٰمًا لِّـلنَّاسِ وَالشَّهۡرَ الۡحَـرَامَ وَالۡهَدۡىَ وَالۡقَلَاۤئِدَ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اللہ نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے لوگوں کے قیام کا سبب بنادیا ‘ اور حرمت والے مہینہ کو اور کعبہ کی قربانی کو اور جانوروں کے گلوں میں پڑے ہوئے پٹوں کو، یہ اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ‘ بیشک اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے لوگوں کے قیام کا سبب بنادیا ‘ اور حرمت والے مہینہ کو اور کعبہ کی قربانی کو اور جانوروں کے گلوں میں پڑے ہوئے پٹوں کو، یہ اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ‘ بیشک اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔ جان لو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے اور یہ کہ اللہ بہت بخشنے والا ہے ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (المائدہ : ٩٨۔ ٩٧) 

مشکل الفاظ کے معنی : 

کعبہ : یہ چوکور اور بلند بیت ہے جس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے مکہ میں بنایا ‘ کعب کے معنی بلند ہونا ہے اور یہ چونکہ بلند بیت ہے ‘ اس لیے اس کو کعبہ کہا گیا۔ 

قیاما للناس : جس چیز کے سبب سے لوگوں کے معاملات قائم اور درست ہوں ‘ کعبہ کی زیارت کر کے اور اس کا طواف کرکے لوگوں حج اور عمرہ کی عبادات کو انجام دیتے ہیں ‘ جس سے ان کی آخرت درست ہوتی ہے ‘ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو امن کی جگہ بنادیا ہے اور تمام دنیا سے تجارتی سامان کھنچ کر کعبہ کی سرزمین میں چلا آتا ہے اس سے ان کی دنیا درست ہوتی ہے۔ 

الشھر الحرام : چار حرمت والے مہینے ہیں۔ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب۔ ان مہینوں کے سبب سے بھی ان کے معاملات قائم اور درست رہتے ہیں ‘ کیونکہ ان مہینوں میں جنگ اور قتال کرنا جائز نہیں ہے۔ 

الھدی : جن جانوروں کو قربان کرنے کے لیے حرم میں بھیجا جائے ‘ ان کو الھدی کہتے ہیں ‘ غرباء اور فقراء ان کا گوشت کھاتے ہیں ‘ جس سے ان کی مدد ہوتی ہے۔ 

القلائد : قلادہ پٹے کو کہتے ہیں ‘ اس سے مراد قربانی کا وہ جانور ہے جس کے گلے میں ہار یا پٹا ہو۔ اہل عرب کا طریقہ تھا کہ جس جانور کو قربانی کے لیے کعبہ کی طرف بھیجتے ‘ اس کے گلہ میں پٹا ڈال دیتے ‘ اس کی اہمیت کی وجہ سے اس کا خصوصیت سے ذکر کیا۔ 

مناسبت : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے محرم پر شکار کرنے کو حرام فرمایا تھا ‘ اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ جس طرح حرم وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے باعث امن ہے ‘ اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی امن کا باعث ہے اور دنیا اور آخرت کی بھلائیوں اور سعادتوں کے حصول کا سبب ہے۔ 

کعبہ اور دیگر شعائر حرم کا لوگوں کے لیے مصلح اور مقوم ہونا : 

عرب میں کوئی امیر اور رئیس نہیں تھا جو ضعیف اور مظلوم کا حق قوی اور ظالم سے دلا سکے اور جو کسی بدکار کو سزا اور نیکو کار کو جزا دے سکے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو البیت الحرام ہے ‘ لوگوں کے معاملات کی درستگی اور اصلاح کا سبب بنادیا ‘ جیسے کسی ملک کا بادشاہ اپنی رعیت کے معاملات کو درست اور قائم رکھتا ہے اور ان میں عدل و انصاف برقرار رکھتا ہے ‘ اسی طرح سے کعبہ اور حرمت والے مہینے زمانہ جاہلیت میں ان کی اصلاح اور درستگی کا سبب تھے ‘ کیونکہ وہ البیت الحرام کی تعظیم کرتے تھے ‘ اور اس شہر میں جنگ وجدال سے اجتناب کرتے تھے اور سال کے چار حرمت والے مہینوں میں بھی لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرتے تھے ‘ کیونکہ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں لوگ حج کے لیے سفر کرتے تھے اور محرم میں سفر حج سے واپس جاتے تھے ‘ اور رجب میں عمرہ کے لیے سفر کرتے تھے اور وہ زائرین بیت کو بیت اللہ کی تعظیم کی وجہ سے مامون اور محفوظ رکھتے تھے۔ اسی طرح قربانی کے جو جانور حرم میں لے جائے جاتے تھے جن کو الھدی اور القلائد کہا جاتا تھا ‘ ان کی بھی بیت اللہ کی وجہ سے تعظیم کرتے تھے ‘ بیت اللہ کی تعظیم ان کے دل و دماغ میں مستحکم ہوچکی تھی اور ان کے رگ وپے میں سرایت کرچکی تھی۔ 

اور زمانہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعظیم کو اسلامی عبادات کا اہم حصہ بنادیا ‘ سو فرمایا : 

(آیت) ” واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرا بیتی لطآئفین والعکفین والرکع السجود “۔ (البقرہ : ١٢٥) 

ترجمہ : اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کا مرجع اور مقام امن بنادیا اور (ہم نے حکم دیا کہ) مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو ‘ اور ہم نے ابراہیم اور اسمعیل سے عہد لیا کہ وہ میرے بیت کو طواف کرنے والوں ‘ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں۔ 

مناسک حج کی ادائیگی کی وجہ سے اس بےآب وگیاہ ‘ ویران اور بنجر زمین میں تمام دنیا سے مسلمان ٹوٹ کر آتے ہیں ‘ اور ہر جگہ سے یہاں تجارتی سامان ‘ پھل اور غلہ پہنچتا ہے ‘ اور یوں اس بیت کی وجہ سے ساکنان حرم کے لیے اسباب زلیت فراہم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) ” اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (القصص : ٥٧) 

ترجمہ : کیا ہم نے انہیں حرم میں نہیں بسایا ؟ جو امن والا ہے ‘ اس کی طرف ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں جو ہماری طرف سے عطا کردہ ہیں ‘ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 

دور دور سے لوگ حرم میں آکر عبادت کرتے ہیں اور دنیا کی زیب وزینت سے اجتناب کرتے ہیں ‘ احرام کی ممنوعات سے باز رہتے ہیں ‘ قرآن مجید کی حرم میں تلاوت کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ حرم میں نمازیں پڑھتے ہیں اور طواف کرنے کی سعی کرتے ہیں ‘ حج کے اجتماع کو دیکھ کر محشر کو یاد کرتے ہیں ‘ ان کے دلوں میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف زیادہ ہوتا ہے اور وہ برے کاموں سے باز رہنے اور بقیہ عمر میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کا عہد کرتے ہیں ‘ حرم میں کی ہوئی نیکیوں کا اللہ تعالیٰ ایک لاکھ گنا اجر عطا فرماتا ہے ‘ زائرین یہاں آتے ہیں اور واپس جاتے ہوئے اپنا دل یہیں چھوڑ جاتے ہیں اور ساری عمر یہیں آنے کی پیاس رہتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 97