علمِ غیب رسول ﷺ:

القرآن :وما ھُو علی الغیب بضنین ۔

ترجمہ :یہ نبی ﷺغیب کی خبریں بتانے میں بخیل نہیں ۔(پارہ 30:آیت نمبر 24سورہ )

القرآن :عٰلمُ الغیب فلا یُظھرُ علیٰ غیبہ احد ًا ہ الا من ار تضیٰ من رّسول فانّہُ یسلُکُ من بین یدیہِ و من خلفہٖ رصدًا (سورہ جن آیت 26/27،پارہ 29)

ترجمہ :غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوںکے ۔ ان کے آگے پیچھے پہرہ مقرّر ہے ۔

عقیدہ :اہلسنّت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ سرکارِ اعظم ﷺکو اللہ تعالیٰ نے علم غیب عطائی ہے اسی لئے حضور ﷺ نے قیامت تک کے سارے حالات اپنی زبان سے بتادیئے ۔