مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 99

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صرف حکم پہنچانا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صرف حکم پہنچانا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ (المائدہ : ٩٩) 

کسی کو جبرا ہدایت یافتہ بنانا فرائض رسالت میں سے نہیں ہے :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اللہ کا عذاب بہت سخت ہے اور یہ کہ اللہ بہت بخشنے والا ہے ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے عذاب کا ذکر کیا تاکہ لوگ اللہ کے عذاب کے ڈر سے گناہوں سے باز رہیں ‘ پھر اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر فرمایا کہ اگر انسان سے شامت نفس سے کوئی گناہ ہوجائے ‘ تو پھر اللہ کی رحمت پر نظر رکھے ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر لوگوں کو عمل کی ترغیب دی اور فرمایا رسول کا کام صرف تبلیغ کرنا اور ہدایت دینا ہے ‘ نیک کاموں کی ترغیب دینا اور برے کاموں سے روکنا اور ان کو عذاب سے ڈرانا ہے ‘ تم کو نہ تو جبرا صالح اور نیکو کار بنانا رسول کا منصب ہے اور نہ تم میں ایمان اور تقوی پیدا کرنا رسول کی ذمہ داری ہے اور نہ نیکیوں پر ثواب عطا کرنا اور برائیوں پر عذاب دینا رسول کا کام ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو نیکی اور برائی کے راستے دکھا اور بتا دیئے تو ان کا کام ختم ہوگیا ‘ اب ان پر عمل کرنا نہ کرنا تمہارا معاملہ ہے اور اس پر ثواب عطا کرنا یا عذاب دینا یہ اللہ کا کام ہے۔ 

البتہ قرآن مجید کی دیگر آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گنہگاروں کی مغفرت کے لیے اور نیکو کاروں کے درجات میں ترقی کے لیے شفاعت فرمائیں گے ‘ جس کی تفصیل اپنے مقام پر آچکی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 99

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.