حدیث نمبر :514

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگاتے حالانکہ میں حائضہ ہوتی پھر قرآن تلاوت کرتے ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ معلوم ہواکہ حائضہ عورت کے زانویاگود میں سررکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہےکیونکہ حائضہ کی نجاست حکمی ہے حقیقی نہیں۔مردہ غسل دینے سے پہلے نجس حقیقۃً بھی ہوتا ہے اس لئے قبل غسل اس کے پاس بلا ڈھکے ہوئے قرآن پڑھنا منع ہے،لہذا یہ حدیث اس مسئلے کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی گود قرآن اور قرآن والے محبوب کی رحل بنی،اس وقت بھی اورحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت بھی،کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وصال آپ کی گود میں ہوا اور آپ کا حجرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنا،لہذا آپ کی گود اور آپ کا حجرہ عرش عظیم سے بڑھ کرہے،اﷲ تعالٰی اس دامن میں مجھ سے نالائق گنہگارکوجگہ دے۔آمین!شعر

انکا پہلو ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ان کے حجرہ میں قیامت تک بنی ہیں جاگزیں