یُوْصِیْكُمُ  اللّٰهُ  فِیْۤ  اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ  مِثْلُ  حَظِّ  الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ  كُنَّ  نِسَآءً  فَوْقَ  اثْنَتَیْنِ  فَلَهُنَّ  ثُلُثَا  مَا  تَرَكَۚ-وَ  اِنْ  كَانَتْ  وَاحِدَةً  فَلَهَا  النِّصْفُؕ-وَ  لِاَبَوَیْهِ  لِكُلِّ  وَاحِدٍ  مِّنْهُمَا  السُّدُسُ   مِمَّا  تَرَكَ  اِنْ  كَانَ  لَهٗ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّهٗ  وَلَدٌ  وَّ  وَرِثَهٗۤ  اَبَوٰهُ  فَلِاُمِّهِ  الثُّلُثُۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَهٗۤ  اِخْوَةٌ  فَلِاُمِّهِ  السُّدُسُ   مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصِیْ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ  وَ  اَبْنَآؤُكُمْ  لَا  تَدْرُوْنَ  اَیُّهُمْ  اَقْرَبُ  لَكُمْ  نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً  مِّنَ  اللّٰهؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  عَلِیْمًا  حَكِیْمًا(۱۱)

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر(ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو -(ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی(ف۳۲) توماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دَین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا(ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے

(ف25)

وَرَثہ کے متعلق ۔

(ف26)

اگر میت نے بیٹے بیٹیاں دونوں چھوڑی ہوں تو ۔

(ف27)

یعنی دختر کا حصہ پِسر سے آدھا ہے اور اگر مرنے والے نے صرف لڑکے چھوڑے ہوں تو کل مال اُنکا ۔

(ف28)

یادو(۲ )

(ف29)

اِس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلا لڑکا وارث رہا ہو تو کُل مال اُس کا ہوگا کیونکہ اوپربیٹے کا حصّہ بیٹیوں سے دُونا بتایا گیا ہے تو جب اکیلی لڑکی کا نصف ہوا تو اکیلے لڑکے کا اُس سے دُونا ہوا اور وہ کُل ہے

(ف30)

خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کہ ان میں سے ہر ایک کو اولاد کہاجاتا ہے

(ف31)

یعنی صرف ماں باپ چھوڑے اور اگر ماں با پ کے ساتھ زوج یا زوجہ میں سے کسی کو چھوڑا تو ماں کا حصہ زوج کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے اس کا تہائی ہوگا نہ کہ کُل کا تہائی

(ف32)

سگے خواہ سوتیلے ۔

(ف33)

اور ایک ہی بھائی ہو تو وہ ماں کا حصّہ نہیں گھٹا سکتا ۔

(ف34)

کیونکہ وصیت اور دَین یعنی قرض ورثہ کی تقسیم سے مقدم ہے اور دَین وصیت پر بھی مقدم ہے۔ حدیث شریف میں ہے اِنَّ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ

(ف35)

اِس لئے حصوں کی تعیین تمہاری رائے پر نہیں چھوڑی ۔

وَ  لَكُمْ  نِصْفُ  مَا  تَرَكَ  اَزْوَاجُكُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّهُنَّ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَهُنَّ  وَلَدٌ  فَلَكُمُ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْنَ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصِیْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  لَهُنَّ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّكُمْ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  اِنْ  كَانَ  رَجُلٌ  یُّوْرَثُ  كَلٰلَةً  اَوِ  امْرَاَةٌ  وَّ  لَهٗۤ  اَخٌ  اَوْ  اُخْتٌ  فَلِكُلِّ  وَاحِدٍ  مِّنْهُمَا  السُّدُسُۚ-فَاِنْ  كَانُوْۤا  اَكْثَرَ  مِنْ  ذٰلِكَ  فَهُمْ  شُرَكَآءُ  فِی  الثُّلُثِ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصٰى  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍۙ-غَیْرَ  مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً  مِّنَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌ  حَلِیْمٌؕ(۱۲)

اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں(ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے

(ف36)

خواہ ایک بی بی ہو یا کئی ایک ہوگی تو وہ اکیلی چوتھائی پائے گی کئی ہونگی تو سب اس چوتھائی میں برابر شریک ہوں گی خواہ بی بی ایک ہو یا کئی ہوں حصہ یہی رہے گا ۔

(ف37)

خواہ بی بی ایک ہو یا زیادہ

(ف38)

کیونکہ وہ ماں کے رشتہ کی بدولت مستحق ہوئے اور ماں تہائی سے زیادہ نہیں پاتی اور اِسی لئے اُن میں مرد کا حصہ عورت سے زیادہ نہیں ہے۔

(ف39)

اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یا کسی وارث کے حق میں وصیت کرکے

مسائل۔ فرائضِ وارث کئی قِسم ہیں اصحابِ فَرائض یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے حصے مقرر ہیں مثلاً بیٹی ایک ہو تو آدھے مال کی مالک زیادہ ہوں تو سب کے لئے دو تہائی ۔ پوتی اور پرپوتی اور اس سے نیچے کی ہر پوتی اگر میت کے اولاد نہ ہو تو بیٹی کے حکم میں ہے اور اگر میت نے ایک بیٹی چھوڑی ہو تو یہ اُس کے ساتھ چھٹا پائے گی اور اگر میت نے بیٹا چھوڑا تو ساقط ہوجائے گی کچھ نہ پائے گی اور اگر میت نے دو بیٹیاں چھوڑیں تو بھی پوتی ساقط ہوگی لیکن اگر اُس کے ساتھ یا اُس کے نیچے درجہ میں کوئی لڑکا ہوگا تو وہ اُس کو عَصبہ بنادے گا۔ سگی بہن میّت کے بیٹا یا پوتا نہ چھوڑنے کی صورت میں بیٹیوں کے حکم میں ہے۔ علاتی بہنیں جو باپ میں شریک ہوں اور اُن کی مائیں علٰیحدہ علٰیحدہ ہوں وہ حقیقی بہنوں کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی مثل ہیں اوردونوں قسم کی بہنیں یعنی علاتی و حقیقی میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں اور بیٹے اور پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ کے ساتھ ساقط اور امام صاحب کے نزدیک دادا کے ساتھ بھی محروم ہیں ۔ سوتیلے بھائی بہن جو فقط ماں میں شریک ہوں اِن میں سے ایک ہو تو چھٹا اور زیادہ ہوں تو تہائی اور ان میں مرد عورت برابر حصہ پائیں گے اور بیٹے پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ دادا کے ہوتے ساقِط ہوجائیں گے باپ چھٹا حصہ پائے گا اگر میت نے بیٹا یا پوتا یا اُس سے نیچے کے پوتے چھوڑے ہوں اور اگر میت نے بیٹی یا پوتی یا اور نیچے کی کوئی پوتی چھوڑی ہو توباپ چھٹا اور وہ باقی بھی پائے گا جو اصحاب فرض کو دے کر بچے دادا یعنی باپ کا باپ۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں مثل باپ کے ہے سوائے اس کے کہ ماں کو ثُلثِ مَابَقِیَ کی طرف رد نہ کرسکے گا۔ ماں کا چھٹا حصہ ہے اگر میت نے اپنی اولاد یا اپنے بیٹے یا پوتے یا پرپوتےکی اولاد یا بہن بھائی میں سے دو چھوڑے ہوں خواہ وہ بھائی سگے ہوں یا سوتیلے اور اگر اُن میں سے کوئی نہ چھوڑا ہو تو ماں کل مال کا تہائی پائے گی اور اگر میت نے زوج یا زوجہ اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو ماں کو زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو باقی رہے اُس کا تہائی ملے گا اور جَدّہ کا چھٹا حصہ ہے خواہ وہ ماں کی طرف سے ہو یعنی نانی یا باپ کی طرف سے ہو یعنی دادی ایک ہو یا زیادہ ہوں اور قریب والی دور والی کے لئے حاجب ہوجاتی ہے اور ماں ہر ایک جدہ کو محجوب کرتی ہے اور باپ کی طرف کی جدات باپ کے ہونے سے محجوب ہوتی ہیں اِس صورت میں کچھ نہ ملے گا زوج چہارم پائے گا اگر میت نے اپنی یا اپنے بیٹے پوتے پر پوتے وغیرہ کی اولاد چھوڑی ہو اور اگر اس قسم کی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر نصف پائے گا زوجہ میت کی اور اس کے بیٹے پوتے وغیرہ کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ پائے گی اور نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی عصبات وہ وارث ہیں جن کے لئے کوئی حصہ معیّن نہیں اصحابِ فرض سے جو باقی بچتا ہے وہ پاتے ہیں اِن میں سب سے اولٰی بیٹا ہے پھر اُس کا بیٹا پھر اور نیچے کے پوتے پھر باپ پھر دادا پھر آبائی سلسلہ میں جہاں تک کوئی پایا جائے پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کا بیٹا پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا پھر دادا کے چچا پھر آزاد کرنے والا پھر اُس کے عصبات ترتیب وار اور جن عورتوں کا حصّہ نصف یا دو تہائی ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور جو ایسی نہ ہو ں وہ نہیں ذوی الارحام اصحابِ فرض اور عصبات کے سوا جو اقارب ہیں وہ ذوی الارحام میں داخل ہیں اور ان کی ترتیب عصبات کی مثل ہے۔

تِلْكَ  حُدُوْدُ  اللّٰهِؕ-وَ  مَنْ  یُّطِعِ  اللّٰهَ  وَ  رَسُوْلَهٗ  یُدْخِلْهُ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَاؕ-وَ  ذٰلِكَ  الْفَوْزُ  الْعَظِیْمُ(۱۳)

یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اُسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچی نہریں رواں ہمیشہ اُن میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی

وَ  مَنْ  یَّعْصِ   اللّٰهَ  وَ  رَسُوْلَهٗ  وَ  یَتَعَدَّ  حُدُوْدَهٗ  یُدْخِلْهُ  نَارًا  خَالِدًا  فِیْهَا   ۪-  وَ  لَهٗ  عَذَابٌ  مُّهِیْنٌ۠(۱۴)

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اُسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰)

(ف40)

کیونکہ کُل حَدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے اس لئے کہ مؤمن کیسا بھی گنہگار ہو ایمان کی حد سے تو نہ گزرے گا ۔