امام داؤد طائی

نام و نسب:۔نام، داؤد۔ کنیت ، ابو سفیان۔ والد کا نام نصیر ہے ۔طائی کوفی ہیں اور فقیہ زاہد کے لقب سے مشہور ہیں ۔

تعلیم و تر بیت:۔ ابتدائی تعلیم کے بعد سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کی درسگاہ میں داخل ہوئے اور بیس سال تک اکتساب علم میں مشغول رہے۔ ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے تھے۔

عبادت و ریاضت:۔ حدیث وفقہ حاصل کر نے کے بعد تار ک الدنیا ہو گئے تھے، اہل تصوف میں سید السادات اور بے مثل صوفی مانے گئے ہیں ۔ حضرت حبیب بن سلیم راعی سے بیعت ہوئے، پوری زندگی نہایت سادگی کے ساتھ بے سرو سامانی کے عالم میں گزاری،زہد و قناعت کا یہ عالم تھا کہ وراثت میں بیس دینار ملے تھے جنکو بیس سال میں خرچ کیا۔

عطا بن مسلم کہتے ہیں :۔

ہم جب آپ کے مکان پر آپ سے ملاقات کے لئے گئے تو انکے یہاں بچھانے کے لئے ایک چٹائی ، تکیہ کے لئے ایک اینٹ، ایک تھیلا جس میں خشک روٹی کے چند ٹکڑے اوروضو کے لئے ایک لوٹا تھا۔

اساتذہ:۔امام اعظم ابو حنیفہ، عبد الملک بن عمیر، اسمعیل بن خالد، حمید الطویل ، سعد بنسعید انصاری، ابن ابی لیلی، امام اعمش۔

تلامذہ:۔ عبد اللہ بن ادریس، سفیان بن عیینہ ، ابن علیہ ، مصعب بن مقدام، اسحاق بن منصورسلولی، امام وکیع، ابو نعیم ، وغیرہم،۔

وصال:۔ ایک دن ایک صالح شخص نے خواب دیکھا کہ آپ دوڑ رہے ہیں ۔ پوچھا کیا بات ہے؟ جواب میں ارشاد فرمایا: ابھی ابھی قید خانہ سے چھٹکارا پا کر آ رہا ہوں، وہ صالح شخص بیدارہوا تو اسے پتہ چلا کہ حضرت امام داؤد طائی وصال فرما چکے ہیں ۔

ابو نعیم نے آپ کا سنہ وصال ۱۶۰ ہجری بیان کیا ہے ۔ لیکن ابن نمیر نے کہا کہ آپ کاوصال ۱۶۵ ھ میں ہوا۔

زیب عالم (۱۶۵) مادۂ تاریخ سے اس قول کی تصدیق ہو تی ہے ۔(انوار امام اعظم)