أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ سَاَ لَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کیے تھے ‘ پھر وہ لوگ ان ہی سوالات کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کیے تھے ‘ پھر وہ لوگ ان ہی سوالات کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ (المائدہ : ١٠٢) 

کثرت سوالات اور مطالبات کی وجہ سے پچھلی امتوں کا ہلاک ہونا : 

اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ تم سے پہلی قوموں نے اپنے نبیوں سے چند فرمائشی معجزات کا سوال کیا تھا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سوالات کو پورا کردیا اور ان نبیوں کو وہ معجزات عطا فرما دیئے تو وہ ان نبیوں پر ایمان لانے کی بجائے اپنے انکار اور کفر میں پختہ ہوگئے ‘ جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اونٹنی کا سوال کیا تھا ‘ اور جب وہ اونٹنی آگئی تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں ‘ اور حضرت علیہ (علیہ السلام) کی قوم نے یہ سوال کیا تھا کہ ان پر آسمان سے دسترخوان نازل کیا جائے اور جب ان پر دستر خوان نازل کردیا گیا تو وہ کفر میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے اور ان کی زبان سے تنبیہہ کی ہے کہ وہ سوالات کرنے کے معاملہ میں اپنے سے پہلی امتوں کے راستہ پر نہ چل پڑیں ‘ اس لیے فرمایا کہ تم فرمائشی معجزات کا سوال نہ کرو ‘ نہ کسی کا پوشیدہ راز معلوم کرو ‘ اور جو چیز تم پر فرض یا حرام نہیں کی گئی اس کا سوال نہ کرو ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا بیان کیا جائے تو تم کو ناگوار ہو یا تم کسی دشواری میں پڑجاؤ۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تم کو جن چیزوں سے منع کیا ہے ‘ ان سے اجتناب کرو ‘ اور جن چیزوں کا حکم دیا ہے ‘ ان کو بجا لاؤ‘ جتنی تمہاری استطاعت ہے ‘ کیونکہ تم سے پہلے لوگ محض زیادہ سوالات کرنے اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ (صحیح مسلم ‘ فضائل ‘ ١٣٠‘ (١٣٣٧) ٥٩٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہارے لیے جو چیزیں چھوڑی ہیں ‘ تم بھی ان کو چھوڑ دو ‘ تم سے پہلے لوگ اپنے سوالوں کی وجہ سے اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ‘ پس جب میں تم کو کسی چیز سے منع کردوں تو اس سے اجتناب کرو ‘ اور جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ‘ اپنی استطاعت کے مطابق۔ (صحیح بخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٨٨‘ صحیح مسلم ‘ الحج ‘ ٤١٢‘ (١٣٣٧) ٣١٩٩‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٨‘ سنن نسائی ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦١٩‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١۔ ٢٠۔ ١٩۔ ١٨‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٧١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 102