أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡــئَلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَـكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ‌ۚ وَاِنۡ تَسۡـئَـلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَـكُمۡ ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں ‘ اور اگر تم ایسے وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ نے ان سے درگزر کیا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں ‘ اور اگر تم ایسے وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ نے ان سے درگزر کیا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔ (المائدہ : ١٠١) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کرنے کے متعلق احادیث : 

لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکثرت سوال کرتے تھے ان میں مسلمان بھی تھے اور منافق بھی۔ مسلمان تو امر واقع کو دریافت کرنے کے لیے سوال کرتے تھے ‘ اور منافق امتحانا ‘ استہزاء اور عنادا سوال کرتے تھے ‘ کوئی پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے ؟ اور کوئی پوچھتا کہ میری اونٹنی کہاں ہے ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے اس جیسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ نے فرمایا : کہ اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور روؤ زیادہ ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور بلند آواز سے رونے لگے ‘ ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٢١‘ صحیح مسلم ‘ فضائل : ١٣٤‘ (٢٣٥٩) ٦٠٠٤‘ سنن ترمذی ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٦٧‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٥٤) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استہزاء سوال کرتے تھے ‘ کوئی پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے ؟ کوئی کہتا میری اونٹنی گم ہوگئی ‘ وہ اونٹنی کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٢٢) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کیے ‘ حتی کہ بہت زیادہ سوال کیے تو ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا : تم مجھ سے جس چیز کے متعلق سوال کرو گے میں تمہیں اس چیز کے متعلق بیان کروں گا ‘ میں دائیں اور بائیں دیکھ رہا تھا ‘ اس وقت ہر شخص اپنے کپڑوں میں سر ڈالے ہوئے رو رہا تھا ‘ ایک شخص کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تھا تو لوگ اس کو اس کے باپ کے غیر کی طرف منسوب کرتے تھے ‘ وہ کہنے لگا اے اللہ کے نبی میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باحذافہ ہے ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے کہا ہم اللہ کو رب مان کر راضی ہیں ‘ اور اسلام کو دین مان کر اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول مان کر ‘ ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے آج کی طرح خیر وشر کو نہیں دیکھا میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر کو پیش کیا گیا ‘ حتی کہ میں نے ان کو اس دیوار کے پاس دیکھا۔ قتادہ اس حدیث کا اس آیت کو پڑھتے وقت ذکر کرتے تھے : ” اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کروـ۔۔۔۔۔۔۔ “ (صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٠٨٩‘ صحیح مسلم ‘ فضائل ١٣٧‘ (٢٣٥٩) ٦٠٠٨‘ مسند احمد ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٧٥٦‘ طبع دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ١٣٦٦٧۔ ١٢٨٢٠‘ طبع دارالفکر ‘ بیروت ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ١٧٧‘ طبع قدیم) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کے راستے کی استطاعت رکھتے ہوں (آل عمران : ٩٧) تو صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہر سال میں ؟ آپ خاموش رہے ‘ انہوں نے پھر پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہر سال میں ؟ آپ نے فرمایا نہیں اور اگر میں ہر سال میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں ‘۔ (المائدہ : ١٠١) (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٨٤‘ صحیح مسلم ‘ الحج ‘ ٤١٢‘ (١٣٣٧) ٣١٩٩‘ سنن نسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦١٩) 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے ‘ درآنحالیکہ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ تھا ‘ آپ منبر پر بیٹھ گئے ‘ ایک شخص نے سوال کیا : میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں ‘ دوسرے نے سوال کیا ‘ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا حذافہ ؟ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کھڑے ہو کر عرض کیا ہم اللہ کو رب مان کر راضی ہیں ‘ اسلام کو دین مان کر اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر اور قرآن کو امام مان کر ‘ یا رسول اللہ ! ہم زمانہ جاہلیت اور شرک سے تازہ تازہ نکل کر آئے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد کو اللہ جانتا ہے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١١٠ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

آپ سے سوال کرنے کی ممانعت کی وجوہات : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جن چیزوں کے متعلق سوال کیے جاتے تھے ان میں سے بعض مخفی ہوتی تھیں ‘ جن کے ظاہر ہونے سے کسی کا پردہ فاش ہوسکتا تھا اور اس کی رسوائی کا خطرہ تھا۔ مثلا حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی نے پوچھا تھا : کہ میرے باپ کون ہیں ؟ فرض کیجئے ‘ کہ ان کے باپ حذافہ نہ ہوتے ‘ کوئی اور ہوتے تو لوگوں میں رسوا ہوجاتے اور ان کی ماں کی ناموس پر دھبہ لگ جاتا ‘ اسی طرح جس شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا ہر سال میں حج کرنا فرض ہے ‘ اگر آپ ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور مسلمان محض اس وجہ سے مشکل میں پڑجاتے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ سے گھی ‘ پنیر اور جنگلی گدھے کے متعلق سوال کیا گیا ‘ آپ نے فرمایا حلال وہ ہے جو اللہ کی کتاب میں حلال ہے اور حرام وہ ہے ‘ جو اللہ کی کتاب میں حرام ہے اور جس سے اللہ نے سکوت کیا ‘ وہ معاف ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٣٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٦٧) 

حضرت ابو ثعلبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں ‘ ان کو ضائع مت کرو اور کچھ حدود مقرر کی ہیں ‘ ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے ‘ ان میں ملوث نہ ہو اور کچھ اشیاء سے سکوت فرمایا ‘ ان میں تمہارے لیے رخصت ہے ‘ اللہ انہیں بھولا نہیں ہے ‘ تم ان سے بحث نہ کرو۔ (سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ١٢‘ المستدرک ‘ ج ٢ ص ١٢٢) 

حضرت سعد بن وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جو مسلمانوں پر حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ ان پر حرام کردی گئی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٩‘ صحیح مسلم ‘ فضائل ‘ ١٢٣‘ (٢٣٨٨) ٦٠٠١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦١٠) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے تم کو جن چیزوں سے منع کیا ہے ‘ ان میں سے اجتناب کرو اور جن کا حکم دیا ہے ‘ ان کو بجا لاؤ جتنی تمہاری استطاعت ہے ‘ کیونکہ تم سے پہلے لوگ محض زیادہ سوالات کرنے اور اپنے نبیوں سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ (صحیح مسلم ‘ فضائل : ١٣٠ (١٣٣٧) ٥٩٩٨) 

آپ سے سوال کرنے کی ممانعت اور اجازت کے محامل : 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ زیر تفسیر آیت اور احادیث مذکورۃ الصدر میں سوالات کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ حالانکہ قرآن مجید کی ایک اور آیت اور ایک حدیث میں سوال کرنے کا حکم فرمایا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 

(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (الانبیاء : ٧) 

ترجمہ : اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے سوال کرو۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں گئے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا ‘ جس سے اس کا سر پھٹ گیا ‘ پھر اس کو احتلام ہوگیا ‘ اس نے اپنے اصحاب سے پوچھا کیا میرے لیے تیمم کرنے کی رخصت ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ‘ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو ‘ تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں۔ سو اس نے غسل کیا اور وہ فوت ہوگیا ‘ جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو ہم نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا انہوں نے اس کو مار ڈالا ‘ اللہ انکو ہلاک کر دے ‘ جب ان کو مسئلہ کا علم نہیں تھا تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا ؟ کیونکہ جہالت کی شفا سوال کرنا ہے ‘ اس کے لیے تیمم کرنا کافی تھا ‘ یا وہ اپنے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کرتا اور باقی جسم پر پانی بہاتا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٧٢‘ مسند احمد ج ١‘ ص ٣٧٠‘ طبع قدیم) 

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتحان لینے کے لیے یا آپ سے استہزاء کے طور پر سوال کرنے سے ان کو منع کیا گیا تھا ‘ یا جس عبادت کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم نہیں دیا تھا ‘ نہ اس کا اپنی کتاب میں ذکر کیا تھا ‘ اس کے متعلق سوال کرنے سے مسلمانوں کو منع فرمایا تھا ‘ یا جس چیز سے کسی کی پردہ دری ہوتی ہو اس کے متعلق سوال کرنے سے منع فرمایا تھا ‘ لیکن جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو اور اس کا وجوب ثابت ہوچکا ہو ‘ اس کی وضاحت کے متعلق سوال کرنا جائز ہے ‘ جیسا کہ اس آیت کے آخری حصہ میں فرمایا : اور اگر تم ایسے وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جارہا ہوگا تو وہ تم پر ظاہر کردی جائے گی۔ (المائدہ ١٠١) 

اثناء وحی میں جو حکم مجمل ہو اس کی وضاحت کے لیے سوال کرنا ‘ جو چیزسمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھنا ‘ کسی پیش آمدہ حاجت کے متعلق سوال کرنا ‘ یہ تمام سوالات جائز ہیں اور قرآن مجید اور احادیث میں ان کی بہت نظائر ہیں۔ 

آپ سے کیے ہوئے سوالات کے متعلق قرآن مجید کی آیات : 

اللہ تعالیٰ نے مطلقہ کی عدت بیان فرمائی ‘ اور جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو اس کی عدت بیان فرمائی اور حاملہ کی عدت بیان فرمائی اور اس عورت کی عدت بیان نہیں فرمائی جس کو حیض آتا ہو ‘ نہ حمل ٹھہرتا ہو ‘ یعنی وہ بہت بوڑھی ہو ‘ تو صحابہ نے اس کے متعلق سوال کیا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(آیت) ” والی یئسن من المحیض من نسآئکم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھر “۔ (لطلاق : ٤) 

ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تمہیں اشتباہ ہو (کہ انکی عدت کیا ہوگی ؟ ) تو ان کی عدت تین مہینے ہے 

(آیت) ” یسئلونک ماذا ینفقون قل ماانفقتم من خیر فللوالدین والاقربین والیتمی والمسکین وابن السبیل “۔ (البقرہ : ٢١٥) 

ترجمہ : وہ آپ سے خرچ کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہئے کہ تم جو (مال) بھی خرچ کرو تو وہ ماں باپ ‘ قریبی رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے خرچ کرو۔ 

(آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر وصد عن سبیل اللہ و کفر بہ والمسجدالحرام واخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ والفتنۃ اکبر من القتل “۔ (البقرہ : ٢١٧) 

ترجمہ : وہ آپ سے ماہ حرام میں قتال کے متعلق پوچھتے ہیں ‘ آپ کہئے اس میں قتل کرنا بڑا گناہ ہے ‘ اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام جانے سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکلنا ‘ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے اور فساد کرنا قتل سے زیادہ سخت ہے۔ 

(آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (البقرہ : ٢١٩)

ترجمہ : وہ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہئے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے (بھی) ہیں ‘ اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑا ہے۔ 

(آیت) ” یسئلونک عن الیتمی قل اصلاح لھم خیر “۔ (البقرہ : ٢٢٠ )

ترجمہ : وہ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہئے کہ ان کی اصلاح زیادہ بہتر ہے۔ 

(آیت) ” یسئلونک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النسآء فی المحیض۔۔۔۔۔۔ “۔ (البقرہ : ٢٢٢ )

ترجمہ : وہ آپ سے حیض کے حکم کا سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہئے کہ وہ گندگی ہے ‘ پس عورتوں سے حالت حیض میں الگ رہو۔ 

قرآن مجید میں اس طرح کے سوالات کی پندرہ آیتیں ہیں ‘ جن میں سے بارہ آیتوں میں صحابہ کرام کے سوالات ہیں ‘ ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی پیش آمدہ مسئلہ میں ‘ کسی چیز کا حکم معلوم کرنے کے لیے ‘ کسی شرعی حکم کی وضاحت کے لیے ‘ اور کسی اشتباہ کو دور کرنے کے لیے سوال جائز ہے ‘ احادیث میں بھی اس کی بہت نظائر ہیں۔ 

آپ سے کیے ہوئے سوالات کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام امور مستقبلہ کے متعلق بھی سوال کرتے تھے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ایک مجلس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام سے گفتگو فرما رہے تھے ‘ کہ ایک اعرابی نے آپ کی حدیث کے دوران سوال کیا : قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے اپنی حدیث جاری رکھی ‘ پھر سائل کو متوجہ کر کے فرمایا جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا ‘ اس نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

صحابہ کرام کسی پیش آمدہ مسئلہ اور حادثہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے تھے : 

حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے ٹھہر گئے ‘ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ‘ ایک شخص نے کہا مجھے پتا نہیں چلا اور میں نے ذبح سے پہلے سرمنڈا لیا ‘ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں (اب) ذبح کرلو ایک اور شخص نے کہا مجھے پتا نہیں چلا میں نے رمی سے پہلے نحر کرلیا ‘ آپ نے فرمایا اب رمی کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کو مقدم یا موخر کیا گیا ہو۔ آپ نے فرمایا کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔ (صحیح بخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٨٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام احمد اور امام شافعی کے نزدیک تقدیم تاخیر میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس سے دم لازم آتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے ‘ اور اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ اس سے آخرت میں حرج یعنی گناہ نہیں ہوگا۔ 

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو اھاب کی بیٹی سے شادی کی ‘ ایک عورت نے ان سے کہا : میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے ‘ حضرت عقبہ نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تم نے پہلے مجھے بتایا تھا ‘ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ پہنچے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس سے الگ کیوں نہیں ہوتے ؟ جبکہ یہ کہا گیا ہے ‘ تو عقبہ اس عورت سے الگ ہوگئے۔ (صحیح بخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٨٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

آپ کا یہ ارشاد بطور استحباب ہے ‘ ورنہ ایک عورت کے قول سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ‘ ثبوت رضاعت کے لیے دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آتی تھی ‘ میں نے حضرت مقداد سے کہا کہ اس کے متعلق سوال کریں انہوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس میں وضو ہے۔ (صحیح البخاری : ج ١ رقم الحدیث : ١٣٢) 

خواتین آپ سے عورتوں کے خصوصی مسائل دریافت کرتی تھیں : 

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلیم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیا نہیں فرماتا ‘ کیا عورتوں پر بھی احتلام کی وجہ سے غسل فرض ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں جب وہ پانی دیکھ لے ‘ حضرت ام سلمہ (رض) نے کپڑے میں اپنے منہ کو چھپا کر کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں پھر بچہ کس وجہ سے اس کے مشابہ ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری : ج ١ رقم الحدیث : ١٣٠ بیروت) 

قرآن مجید کی کسی اصطلاح کے متعلق بھی صحابہ آپ سے سوال کرتے تھے : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں قتال کرنے کی کیا تعریف ہے ؟ ہم میں سے کوئی شخص غصب کی وجہ سے قتال کرتا ہے ‘ کوئی گروہی تعصب کی وجہ سے قتال کرتا ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف سر اٹھایا ‘ اس وقت وہ شخص کھڑا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی دین کی سربلندی کے لیے قتال کیا ‘ وہی اللہ عزوجل کی راہ میں قتال کرتا ہے (صحیح البخاری : ج ١ رقم الحدیث : ١٢٣ مطبوعہ بیروت) 

بعض اوقات صحابہ آپ کی حدیث کے معارضہ قرآن مجید کی آیت پیش کرتے ‘ پھر آپ اس کا جواب دیتے تھے : 

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ (رض) جب بھی آپ سے کوئی حدیث سنتیں اور آپ اس کے مطلب کو نہ پہنچتیں تو آپ سے رجوع کرتی تھیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص سے حساب لیا گیا ‘ اس کو عذاب دیا گیا حضرت عائشہ (رض) نے کہا کیا اللہ یہ نہیں فرماتا اس سے عنقریب بہت آسان حساب لیا جائے گا۔ (الاشقاق ‘ ٨) آپ نے فرمایا اس آیت میں حساب کا پیش کرنا مراد ہے ‘ لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا جائے گا ‘ وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری : ج ١ رقم الحدیث : ١٠٣ بیروت) 

مشکل سوالات اور بجھارت ڈالنے کی ممانعت : 

امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلیوں اور بجھارتوں کے ڈالنے سے منع فرمایا ‘ کسی کو ساکت اور عاجز کرنے کے قصد سے اس پر بجھارت ڈالنا منع ہے ‘ اور شاگردوں کا امتحان لین کے لیے بجھارت ڈالنا جائز ہے ‘ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثل ہے ‘ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٦٣) 

حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) کے سامنے لوگوں نے سوالات کیے تو انہوں نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشکل سوال کرن سے منع فرمایا ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا میں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے افضل کوئی قوم نہیں دیکھی اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف تیرہ سوالات کیے جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے۔ وہ تیرہ سوالات یہ ہیں : 

(١) (آیت) ” واذا سالک عبادی عنی ‘ ‘۔ 

(٢) (آیت) ” یسئلونک عن الاھلۃ “۔ 

(٣) (آیت) ” یسئلونک ماذا ینفقون “۔ 

(٤) (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام “۔ 

(٥) (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “۔ 

(٦) (آیت) ” یسئلونک عن الیتامی “۔ 

(٧) (آیت) ” ویسئلونک ماذا ینفقون “۔ 

(٨) (آیت) ” ویسئلونک عن المحیض “۔ یہ آٹھ سوالات سورة البقرۃ میں ہیں۔ 

(٩) (آیت) ” یسئلونک ماذا احل لھم “۔ (المائدہ) 

(١٠) (آیت) ” یسئلونک عن الساعۃ۔ “۔ (الاعراف) 

(١١) (آیت) ” یسئلونک عن الانفال “۔ (الانفال) 

(١٢) (آیت) ” یسئلونک عن الجبال “۔ 

تحقیق یہ ہے کہ صرف سوالات صحابہ نے کیے تھے ‘ قرآن میں ” یسئلونک “ کے صیغہ سے باقی جو سوال ہیں وہ یہود اور مشرکین کے ہیں۔ طاؤس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس چیز کے لیے متعلق سوال کرے جو نہیں ہے ‘ کیونکہ جو چیز بھی ہونے والی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کردیا۔ (جامع البیان العلم وفضلہ ‘ ج ٢‘ ص ١٤٢‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

سوالات کرنے کے جائز اور ناجائز مواقع : 

بہرحال اب حصول علم کے لیے شرعی سوالات کا کرنا جائز ہے ‘ کیونکہ اب یہ خوف نہیں کہ کسی کے سوال کرنے کی وجہ سے کسی شے کی حرمت نازل ہوجائے گی ‘ حلال و حرام احکام نازل ہونے کا معاملہ وحی پر موقوف ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد سلسلہ وحی ختم ہوچکا ہے۔ پس اگر کوئی شخص پیش آمدہ مسئلہ میں یا کسی نئے حادثۃ میں یا کسی غیر منصوص صورت نازلہ میں کسی مسئلہ کا حل دریافت کرنے کے لیے علماء سے سوال کرتا ہے تو اس کا یہ سوال کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے ‘ اگر تم کو علم نہیں ہے تو علم والوں سے سوال کرو۔ (الانبیاء : ١٧) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہالت کی شفا سوال کرنا ہے۔ (سنن ابو داؤد : ٣٣٦) اور جو شخص کسی پر اپنا علمی تفوق ظاہر کرنے کے لیے سوال کرے ‘ تاکہ اس کو جواب نہ آئے اور وہ عاجز ہوجائے یا جو شخص محض ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے سوال کرے یا جو شخص عنادا سوال کرے ‘ سوا ی سے سوال ناجائز ہیں ‘ خواہ کم ہوں یا زیادہ البتہ ! علماء کسی مسئلہ میں ایک دوسرے کی رائے معلوم کرنے کے لیے جو سوال کرتے ہیں اور مذاکرہ اور مباحثۃ کرتے ہیں ‘ وہ جائز ہے۔ اسی طرح کسی کی دلیل پر نقض وارد کرنا اور مسلمات بین الفریقین سے معارضہ کرنا بھی جائز ہے اور احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے مناظرہ کرنا بھی جائز ہے ‘ تاہم مناظرہ میں فریق مخالف کو حکمت کے ساتھ کسی کفریہ کلمہ سے بچانا چاہیے ‘ اور اگر یہ چاہے کہ وہ کوئی کفریہ کلمہ کہے اور میں اس کی تکفیر کروں تو یہ خود کفر ہے اور اگر یہ چاہے کہ وہ دین میں کوئی ناروا بات کہے اور میں اس کی مذمت کروں تو یہ حرام ہے ‘ بلکہ یہ نیت ہونی چاہیے کہ میں دلائل پیش کرکے حکمت کے ساتھ فریق مخالف کو حق کا قائل کرلوں ‘ نہ یہ کہ اس کو مناظرہ میں شکست دوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 101