وَ  الّٰتِیْ  یَاْتِیْنَ  الْفَاحِشَةَ  مِنْ  نِّسَآىٕكُمْ  فَاسْتَشْهِدُوْا  عَلَیْهِنَّ  اَرْبَعَةً  مِّنْكُمْۚ-فَاِنْ  شَهِدُوْا  فَاَمْسِكُوْهُنَّ  فِی  الْبُیُوْتِ  حَتّٰى  یَتَوَفّٰهُنَّ  الْمَوْتُ  اَوْ  یَجْعَلَ  اللّٰهُ  لَهُنَّ  سَبِیْلًا(۱۵)

اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳)

(ف41)

یعنی مسلمانوں میں کے ۔

(ف42)

کہ وہ بدکاری نہ کرنے پائیں ۔

(ف43)

یعنی حد مقرر فرمائے یا توبہ اور نکاح کی توفیق دے جو مفسرین اس آیت میں ” اَلْفَاحِشَۃَ ” (بدکاری) سے زنا مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حبس کا حکم حدود نازل ہونے سے قبل تھا حدود کے ساتھ منسوخ کیا گیا (خازن و جلالین و احمدی)

وَ  الَّذٰنِ  یَاْتِیٰنِهَا  مِنْكُمْ  فَاٰذُوْهُمَاۚ-فَاِنْ  تَابَا  وَ  اَصْلَحَا  فَاَعْرِضُوْا  عَنْهُمَاؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  تَوَّابًا  رَّحِیْمًا(۱۶)

اور تم میں جو مرد عورت ایسا کام کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے(ف۴۵)

(ف44)

جِھڑ کو گُھڑ کو برا کہو شرم دلاؤ جوتیاں مارو(جلالین و مدارک و خازن وغیرہ)

(ف45)

حسن کا قول ہے کہ زنا کی سزا پہلے ایذا مقرر کی گئی پھر حَبۡس پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ابن بحر کا قول ہے کہ پہلی آیت ” وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ ” ان عورتوں کے باب میں ہے جو عورتوں کے ساتھ(بطریقِ مُساحقت) بدکاری کرتی ہیں اور دوسری آیت ” وَالَّذَانِ ” لواطت کرنے والوں کے حق میں ہے اور زانی اور زانیہ کا حکم سورہ نور میں بیان فرمایا گیا اس تقدیر پر یہ آیتیں غیر منسوخ ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دلیل ظاہر ہے اس پر جو وہ فرماتے ہیں کہ لواطت میں تعزیر ہے حد نہیں ۔

اِنَّمَا  التَّوْبَةُ  عَلَى  اللّٰهِ  لِلَّذِیْنَ  یَعْمَلُوْنَ  السُّوْٓءَ  بِجَهَالَةٍ  ثُمَّ  یَتُوْبُوْنَ  مِنْ  قَرِیْبٍ  فَاُولٰٓىٕكَ  یَتُوْبُ  اللّٰهُ  عَلَیْهِمْؕ-وَ  كَانَ  اللّٰهُ  عَلِیْمًا  حَكِیْمًا(۱۷)

وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف46)

ضَحّاک کا قول ہے کہ جو توبہ موت سے پہلے ہو وہ قریب ہے۔

وَ  لَیْسَتِ  التَّوْبَةُ  لِلَّذِیْنَ  یَعْمَلُوْنَ  السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى  اِذَا  حَضَرَ  اَحَدَهُمُ  الْمَوْتُ  قَالَ  اِنِّیْ  تُبْتُ  الْـٰٔنَ  وَ  لَا  الَّذِیْنَ  یَمُوْتُوْنَ  وَ  هُمْ  كُفَّارٌؕ-اُولٰٓىٕكَ  اَعْتَدْنَا  لَهُمْ  عَذَابًا  اَلِیْمًا(۱۸)

اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ اُن کی جو کافر مریں اُن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے (ف۴۹)

(ف47)

اور توبہ میں تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔

(ف48)

قبول توبہ کا وعدہ جو اوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی (احمدی)

(ف49)

اس سے معلوم ہوا کہ وقتِ موت کافر کی توبہ اور اس کا ایمان مقبول نہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  یَحِلُّ  لَكُمْ  اَنْ  تَرِثُوا  النِّسَآءَ  كَرْهًاؕ-وَ  لَا  تَعْضُلُوْهُنَّ  لِتَذْهَبُوْا  بِبَعْضِ   مَاۤ  اٰتَیْتُمُوْهُنَّ  اِلَّاۤ  اَنْ  یَّاْتِیْنَ  بِفَاحِشَةٍ  مُّبَیِّنَةٍۚ-وَ  عَاشِرُوْهُنَّ  بِالْمَعْرُوْفِۚ-فَاِنْ  كَرِهْتُمُوْهُنَّ  فَعَسٰۤى  اَنْ  تَكْرَهُوْا  شَیْــٴًـا  وَّ  یَجْعَلَ  اللّٰهُ  فِیْهِ  خَیْرًا  كَثِیْرًا(۱۹)

اے ایمان والو تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہران کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱)مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیائی کاکام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (ف۵۵)

(ف50)

شان نزول: زمانہ جاہلیت کے لوگ مال کی طرح اپنے اقارب کی بی بیوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو بے مہر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کردیتے اور خود مہر لے لیتے یا انہیں قید کر رکھتے کہ جو ورثہ انہوں نے پایا ہے وہ دے کر رہائی حاصل کریں یا مر جائیں تو یہ اُن کے وارث ہوجائیں غرض وہ عورتیں بالکل ان کے ہاتھ میں مجبور ہوتی تھیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کرسکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی ۔

(ف51)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اس کے متعلق ہے جو اپنی بی بی سے نفرت رکھتا ہو اور اِس لئے بدسلوکی کرتا ہو کہ عورت پریشان ہو کر مہر واپس کردے یا چھوڑ دے اس کی اللہ تعالٰی نے مُمانعت فرمائی۔

ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجعت کرتے پھر طلاق دیتے اس طرح اس کو مُعَلَّق رکھتے تھے کہ نہ وہ ان کے پاس آرام پاسکتی نہ دوسری جگہ ٹھکانہ کرسکتی، اس کو منع فرمایا گیا۔

ایک قول یہ ہے کہ مَیّت کے اولیاء کو خطاب ہے کہ وہ اپنے مورث کی بی بی کو نہ روکیں۔

(ف52)

شوہر کی نافرمانی یا اس کی یا اس کے گھر والوں کی ایذاؤ بدزبانی یا حرام کاری ایسی کوئی حالت ہو تو خُلع چاہنے میں مُضائِقہ نہیں ۔

(ف53)

کھلانے پہنانے میں بات چیت میں اور زوجیت کے امور میں ۔

(ف54)

بدخُلقی یا صورت ناپسند ہونے کی وجہ سے تو صبر کرو اور جدائی مت چاہو ۔

(ف55)

ولد صالح وغیرہ ۔

وَ  اِنْ  اَرَدْتُّمُ  اسْتِبْدَالَ  زَوْجٍ  مَّكَانَ  زَوْجٍۙ-وَّ  اٰتَیْتُمْ  اِحْدٰىهُنَّ  قِنْطَارًا  فَلَا  تَاْخُذُوْا  مِنْهُ  شَیْــٴًـاؕ-اَتَاْخُذُوْنَهٗ  بُهْتَانًا  وَّ  اِثْمًا  مُّبِیْنًا(۲۰)

اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اُسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لوگے جھوٹ باندھ کر اورکھلے گناہ سے (ف۵۹)

(ف56)

یعنی ایک کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا۔

(ف57)

اس آیت سے گراں مہر مقرر کرنے کے جواز پر دلیل لائی گئی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایاکہ عورت کے مہر گراں نہ کرو ایک عورت نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اے ابن خطاب اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اس پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمر تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے جو چاہو مقرر کرو سبحان اللہ خلیفۂ رسول کے شانِ انصاف اور نفس شریف کی پاکی رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی اِتَّبَاعَہٗ آمین

(ف58)

کیونکہ جدائی تمہاری طرف سے ہے

(ف59)

یہ اہلِ جاہلیّت کے اس فعل کا رد ہے کہ جب اُنہیں کوئی دوسری عورت پسند آتی تو وہ اپنی بی بی پر تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس دے دے اس طریقہ کو اس آیت میں منع فرمایا اور جھوٹ اور گناہ بتایا ۔

وَ  كَیْفَ  تَاْخُذُوْنَهٗ  وَ  قَدْ  اَفْضٰى  بَعْضُكُمْ  اِلٰى  بَعْضٍ   وَّ  اَخَذْنَ  مِنْكُمْ  مِّیْثَاقًا  غَلِیْظًا(۲۱)

اور کیوں کر اُسے واپس لو گے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف۶۰)

(ف60)

وہ عہد اللہ تعالی کا یہ ارشا دہے” فَاِمْسَاک ٌ م بِمَعرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْح ٌ مْ بِاِحْسَانٍ”

مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکَّد ہوجاتا ہے

وَ  لَا  تَنْكِحُوْا  مَا  نَكَحَ  اٰبَآؤُكُمْ  مِّنَ  النِّسَآءِ  اِلَّا  مَا  قَدْ  سَلَفَؕ-اِنَّهٗ  كَانَ  فَاحِشَةً  وَّ  مَقْتًاؕ-وَ  سَآءَ  سَبِیْلًا۠(۲۲)

اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بے شک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ (ف۶۳)

(ف61)

جیسا کہ زما نۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنی ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا۔

(ف62)

کیونکہ باپ کی بی بی بمنزلہ ماں کے ہے کہا گیا ہے نکاح سے وطی مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موطوء ہ یعنی جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا یا وہ باندی ہو اس کا وہ مالک ہو کر ان میں سے ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔

(ف63)

اب اس کے بعد جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بیان فرمایا جاتا ہے ان میں سات تو نسب سے حرام ہیں ۔