امام اعظم ابو حنیفة – رحمه الله- کا ملحدین کے ساتھ مناظرہ

امام اعظم ابو حنیفہ اپنے شیخ حماد بن ابي سلمان کے پاس خواب کی تعبیر پوچھنے کے غرض سے آۓ تو شیخ محترم کو پریشان دیکھ کر اپنے خواب کی تعبیر پوچھنا بھول گے اور عرض کی کہ:

استاذ محترم!

کیا ہوا ؟ آپ پریشان ہیں

استاذ محترم نے فرمایا:

بادشاہ کی طرف سے پیغام آیا ہے کہ ملحدین آپ سے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا کہ:

میں تو خود اللہ کی اس طرح معرفت کا ادراک نہیں کرپایا جیسے کرنے کا حق تھا( اللہ أکبر)

امام اعظم ابو حنیفہ نے عرض کی:

استاذ محترم!

آپ مجھے اجازت دیں میں ان کے ساتھ مناظرہ کرنے جاتا ہوں

استاذ محترم نے فرمایا:

جائیں اللہ برکت عطاء فرمائے۔

امام أعظم بادشاہ کے محل میں داخل ہوئے تو آپ نے سلام کیا لیکن ملحدین نے سلام کا جواب نہ دیا

بادشاہ نے پوچھا:

آپ کے استاذ محترم کہاں ہیں؟

امام أعظم أبو حنیفہ نے جواب دیا:

مجھے میرے شیخ نے بھیجا ہے اپنی طرف سے

ملحدین کا سردار بولا(بدتمیز):

کیا تمہارے استاذ کے پاس علم نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مناظرہ کرسکے؟

امام أعظم أبو حنیفہ نے فرمایا:

تم لوگ اس اہل نہیں کہ میرے استاذ محترم سے مناظرہ کرسکو۔

پھر خلیفہ نے کہا:

مناظرہ شروع کرو

ملحد نے پہلا سؤال کیا:

اے ابو حنیفہ ! کیا تم نے رب کو دیکھا ہے؟

ابو حنیفہ نے فرمایا:

اسکو کوئی نہیں دیکھ سکتا وہ سب کو دیکھتا ہے

ملحد بولا:

ہم ایسا کلام نہیں مانتے ، مادی شے سے دلیل دو

امام أعظم نے فرمایا:

اگر تم ایسے شخص کے پاس بیٹھے ہو جسکی موت کا وقت قریب ہو تو اس سے کونسی شے نلکتی ہے؟

ملحد نے کہا:

روح

امام نے کہا:

روح تمہارے سامنے نکلتی ہے کیا تم لوگ اس وقت روح کو دیکھ سکتے ہو؟

ملحدوں نے کہا:

نہیں

امام أعظم نے فرمایا:

تم روح کو نہیں دیکھ سکتے تو پھر اس ذات کو کیسے دیکھ سکتے ہو جو روح کا خالق ہے ، جب روح کو مانتے ہو بغیر دیکھے تو خالق کو کیوں نہیں؟

ملحد نے دوسرا سؤال کیا( کیونکہ پہلے سے لاجواب ہوگیا):

اللہ کس طرف ہے؟

امام أعظم نے فرمایا:

ہر طرف

ملحد نے کہا:

ہم قرآن کو نہیں مانتے مادی شے سے دلیل دو

امام أعظم أبو حنیفہ نے فرمایا:

اگر تم اندھیرے کمرے میں ہو پھر اچانک وہ روشن ہوجائے تو نور کی جہت بتا سکتے ہو کہ وہ نور کس طرف ہوگا یعنی اسکی جہت؟

ملحدوں نے کہا:

وہ نور ہر طرف ہوگا

امام أعظم أبو حنیفہ نے فرمایا:

میرا رب تو نور علی نور ہے تو اسکی جہت کیسے ہوسکتی ہے وہ بھی ہر جگہ ہے

ملحد نے لاجواب ہوکر تیسرا سؤال کیا:

تم کہتے ہو جن کو آگ سے پیدا کیا گیا تو پھر اسکو دوزخ کی آگ سے عذاب کیسے ہوگا؟

امام أعظم أبو حنیفہ نے فرمایا:

یہ سؤال کے جواب کے لیے مجھے ایک فعل کرنا ہوگا اگر آپ بادشاہ ناراض نہ ہوں؟

فرمایا:

کریں

امام أعظم أبو حنیفہ نے مٹی کا ایک روڑا اٹھایا اور ملحد کے سر پہ مارا

بادشاہ نے کہا:

یہ کیا کیا ابو حنیفہ؟

فرمایا جیسے اس مٹی سے اس ملحد کو جو مٹی سے بنا ہوا ہے تکلیف ہوئی ایسے ہی آگ بھی جن کو تکلیف دے گی

ملحدین کے سردار نے کہا:

مجھے اپنے استاذ محترم کا پتا بتاؤ تاکہ میں انکی شاگردی اختیار کروں

اس طرح وہ ملحدین مسلمان ہوگۓ۔

سبحان اللہ

(کتاب: الأئمۃ الأربعۃ ، الشناوی ، منقول من موقع الروحانیات فی الاسلام)

واللہ أعلم

ابن طفیل الأزہری ( محمد علی )