حکایت نمبر217 : وعدہ نبھانے کی انوکھی مثال

اِسحاق بن ابراہیم مَوْصِلی کے والد سے منقول ہے:” ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید اور جَعْفَر بن یحیی بَرْمَکِی حج کے لئے روانہ ہوئے ،میں بھی ساتھ تھا۔ جب ہم مدینہ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرْفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچے تو جَعْفَربن یحیی نے مجھ سے کہا: ”کیا تم میرے لئے کوئی ایسی لونڈی تلاش کر سکتے ہو جو حسن وجمال اور ذہانت میں بے مثال ،نغمہ گنگنانے میں باکمال اور انتہائی باادب ہو۔” میں نے کہا:” کوشش کرتا ہوں کہ ایسی لونڈی کہیں مل جائے۔” چنانچہ، میں ایسی صفات کی حامل لونڈی کی تلاش میں لگ گیا۔ بالآخر مجھے معلوم ہوا کہ فلاں شخص کے پاس ایسی لونڈی مل سکتی ہے۔

میں مطلوبہ شخص کے پاس پہنچا ا وراپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ اس نے ایک لو نڈی مجھے دکھائی تو میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنی خوبصورت وباادب لونڈی میں نے آج تک نہ دیکھی تھی۔اس کے چہرے کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ جب اس نے نغمہ گنگنایا توآواز بڑی دلکش وسریلی تھی۔ مجھے وہ بہت پسند آئی میں نے اس کے مالک سے کہا :”بتاؤ !اس کی کیا قیمت لوگے ؟” مالک نے کہا:” میں ایک دام بتاؤں گا او راس سے ایک پیسہ بھی کم نہ کرو ں گا۔ ”میں نے کہا :” بتا ؤ۔ ”کہا: ”چالیس ہزار دینار۔” میں نے کہا:” ٹھیک ہے، یہ لونڈی ہماری ہوگئی تم کچھ انتظار کرو میں رقم کا انتظام کرتا ہوں۔”کہا:” ٹھیک ہے یہ لو نڈی تمہاری ہے ، تم رقم لے آؤ۔” چنانچہ، میں جَعْفَربن یحیی کے پاس آیا اور کہا:”جیسی لونڈی آپ کو مطلوب تھی وہ مل گئی ہے اس میں وہ تمام صفات بَدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں جو آپ نے بتائی تھیں۔ وہ انتہائی حسین وجمیل، سریلی آواز کی مالک، بہترین رنگ وروپ والی اور انتہائی باادب ہے ۔ میں سودا طے کر آیا ہوں آپ مزدوروں کو حکم دیں کہ رقم اٹھائیں۔” مزدوروں نے درہموں کی تھیلیاں اٹھائیں اورمیرے ساتھ لونڈی کے مالک کے پاس آگئے، جَعْفَر بن یحیی کچھ دیر بعد اکیلا ہی وہاں پہنچا ۔ جب لونڈی کے حسن وجمال کو دیکھا بہت متعجب ہوا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ اسے معلوم ہوگیا کہ میں نے اس کے لئے اچھی چیز کا انتخاب کیا ہے ۔ لونڈی نے اپنی دلکش وسریلی آواز میں نغمہ گنگنایا تو جَعْفَر بن یحیی بہت خوش ہوااورمجھ سے کہا:” تمہارا انتخاب ہمیں بہت پسند آیا۔ جلدی سے لونڈی کی قیمت ادا کردو۔”میں نے مالک سے کہا:” یہ پورے چالیس ( 40) ہزار دینار ہیں ہم نے ان کا وزن کرلیا ہے اگر تم چاہوتو دوبارہ وزن کرلو۔” اس نے کہا:” ہمیں تم پر بھروسہ ہے ۔” جب لونڈی نے ہماری گفتگو سنی تو اپنے مالک سے کہنے لگی :”میرے سردار !یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ مجھے بیچنا چاہتے ہیں ؟ ”اس نے کہا :” تُو تو جانتی ہے کہ ہم کتنی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ، ابھی ہمارے حالات بہت اچھے ہیں،لیکن حالات بدلتے دیر نہیں لگتی اگر ہم پر تنگی کے دن آگئے تو کیا بنے گا؟ میں تو کسی کے سامنے کبھی بھی ہاتھ نہیں پھیلا سکتا ، لہٰذا حالات کے پیشِ نظر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ تجھے کسی ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کردوں جو تجھے ہمیشہ خوش رکھے اوروہاں تیری تمام خواہشات پوری ہوسکیں۔” لونڈی نے بڑی غمگین آوازمیں کہا: ”میرے آقا! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر آپ کی جگہ میں ہوتی اور میری جگہ آپ ہوتے تو میں تمام دنیا کی دولت کے بدلے بھی آپ کو فروخت نہ کرتی۔کیا آپ کو اپنا وعدہ یا دنہیں؟ آپ نے ہی تو وعدہ کیا تھا کہ کبھی بھی تجھے بیچ کر تیری رقم نہیں کھاؤ ں گا ۔”لونڈی کی درد مندانہ گفتگو سن کر مالک کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اس نے روتے ہوئے کہا :” تم سب گواہ ہوجاؤ کہ یہ لونڈی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی خاطر آزاد ہے اب میں اس سے نکاح کرتا ہوں اور میرا گھر اس کا مہر ہے ۔”جب عقدِ نکاح ہوگیا تو جَعْفَر بن یحیی نے مجھ سے کہا:” چلو واپس چلتے ہیں۔” میں نے مزدوروں کو حکم دیا کہ تمام رقم واپس لے چلو۔”جَعْفَر بن یحیی نے کہا :” نہیں ! خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !اب اس رقم سے ایک درہم بھی واپس نہیں جائے گا۔” پھر لونڈی کے مالک کی طرف متوجہ ہو کر کہا:” یہ تمام رقم تجھے مُبَارَک ہو ،اس سے اپنی اور اپنی نئی منکوحہ کی ضروریات پوری کرو۔” یہ کہہ کر جَعْفَر بن یحیی نے ہمیں ساتھ لیا اورچالیس ہزار دینار وہیں چھوڑ کر واپس چلاآیا۔