أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا‌ ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ شَيۡـئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس دین کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول (کی شریعت) کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہ طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ اور دادا کو پایا خواہ ان کے باپ دادا کسی چیز کا علم نہ رکھتے ہوں نہ ہدایت یافتہ ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس دین کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول (کی شریعت) کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہ طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ اور دادا کو پایا خواہ ان کے باپ دادا کسی چیز کا علم نہ رکھتے ہوں نہ ہدایت یافتہ ہوں۔ (المائدہ : ١٠٤) 

بحیرہ وغیرہ کی تحریم کا خلاف عقل ہونا : 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کے کفار کی تشریع کو رد کردیا ہے ‘ اور یہ اعلان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا ہے ‘ اور نہ یہ اس کی سنت ہے اور نہ شریعت میں اس کو عبادت قرار دیا ہے ‘ اور اگر یہ جاہل عقل سے کام لیتے تو اول تو کفر اور شرک نہ کرتے اور اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا نہ کرتے اور ان جانوروں کو بتوں کے لیے وقف کرکے اور ان سے حصول نفع کو حرام کر کے مزید گمراہ نہ ہوتے ‘ جو پتھر کسی قسم کے نفع اور نقصان پر اصلا قادر نہیں ہیں ‘ نہ ان کی پکار سن سکتے ہیں ‘ نہ اس کا جواب دے سکتے ہیں ‘ ان کی پرستش کرنے سے کیا حاصل ؟ اور جانوروں کو ان کی خاطر حرام کرنے سے کا فائدہ ہے ؟ 

تقلید مذموم اور تقلید محمود :

عقل سے کام لیتے تو بت پرستی نہ کرتے اور نہ بتوں کی خاطر ان جانوروں کو حرام کرتے لیکن وہ بغیر غور وفکر کے اپنے آباؤ و اجداد کی اندھی تقلید میں گرفتار ہیں ‘ حالانکہ ان کے آباؤ اجداد جاہل اور گمراہ تھے اور جاہلوں کی تقلید ضرر محض ہے۔ عقل ‘ علم اور دین کے منافی ہے اور مصلحت کے خلاف ہے ‘ اس آیت میں مطلقا تقلید کی مذمت نہیں کی ‘ بلکہ ان لوگوں کی تقلید کی مذمت کی ہے جو جاہل اور گمراہ ہوں ‘ اور اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو لوگ عالم اور ہدایت یافتہ ہوں ان کی تقلید جائز اور صحیح ہے ‘ امام رازی نے لکھا ہے کہ ہدایت یافتہ عالم کی تقلید اس وقت صحیح ہے ‘ جب مقلد کو معلوم ہو کہ اس عالم کا قول دلیل اور حجت پر مبنی ہے ‘ اور بوقت ضرورت وہ اس عالم سے دلیل معلوم کرکے بیان کرسکے ‘ اس صورت میں یہ محض اندھی تقلید نہیں ہوگی اور وہ شخص دراصل اسی دلیل کے مطابق عمل کر رہا ہے ‘ اور یہ چیز عقل اور علم کے خلاف نہیں ہے۔ 

ہر دور میں ان پڑھ عوام اپنے پیش آمدہ مسئال میں علماء اور مفتیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں ‘ اور عالم اور مفتی اس مسئلہ کا جو حل بیان کرتا ہے ‘ اس پر عمل کرتے ہیں ‘ کیونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ یہ فتوی قرآن اور حدیث کی کسی دلیل پر مبنی ہے اور بوقت ضرورت وہ دلیل بیان بھی کردی جاتی ہے ‘ سو درحقیقت وہ شخص قرآن اور حدیث پر عمل کر رہا ہے مقلد محض نہیں ہے ‘ اور ہدایت یافتہ عالم کا مقلد ہے ‘ جاہل اور گمراہ کا مقلد نہیں ہے ‘ اسی طرح ائمہ اربعہ کے مقلدین ہیں ‘ وہ اپنے امام کے قول پر اس لیے عمل نہیں کرتے کہ یہ ان کے امام پر عمل نہیں کررہا ‘ بلکہ قرآن اور حدیث پر عمل کر رہا ہے اور چونکہ عام آدمی کا عمل قرآن اور حدیث کو محیط نہیں ہے اور وہ ان سے مسائل کے استنباط پر قادر نہیں ہے اور قرآن و حدیث سے حاصل شدہ احکام کو اپنے پیش آمدہ مسئلہ پر منطبق کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ‘ اس لیے اسے کسی قرآن اور حدیث کے متبحر اور ماہر عالم کی طرف رجوع کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اس لیے وہ کسی ہدایت یافتہ متبحر اور ماہر دین کی تقلید کرتا ہے اور ائمہ ہدایت یافتہ اور قرآن و حدیث کے علوم کے ماہر اور امام تھے۔ سو ان کی تقلید کرنا بالکل جائز ‘ صحیح اور عقل سلیم کے مطابق ہے ‘ ان کے اقوال قرآن و حدیث پر مبنی ہیں ‘ یہ دلائل انہوں نے خود بھی بیان کیے اور ان کے متبع علماء نے بھی بیان کیے ‘ اس کے باوجود ان کی نیک نفسی اور علم ودیانت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے کہا اگر ہمارا کوئی قول کسی حدیث صحیح کرنا ہے۔ یہ محض ان کی تقلید نہیں ہے اور نہ ہی اندھی تقلید ہے ‘ کیونکہ ان کے اقوال قرآن و حدیث پر مبنی ہیں اور نہ یہ کسی جاہل اور گمراہ کی تقلید ہے ‘ بلکہ یہ ان کی تقلید ہے جو اپنے اپنے دور اور ہدایت کے آفتاب وماہتاب تھے ‘ سو اس آیت سے ائمہ اربعہ کی تقلید پر طعن کرنا علم اور دیانت کے خلاف ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 104