أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌ۚ لَا يَضُرُّكُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اهۡتَدَيۡتُمۡ‌ ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا فَيُـنَـبِّـئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو : تم اپنی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی سے نہیں کوئی ضرر ہوگا ‘ اللہ ہی کی طرف تم سب نے لوٹنا ہے ‘ پھر وہ تم کو خبر دے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو : تم اپنی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی سے نہیں کوئی ضرر ہوگا ‘ اللہ ہی کی طرف تم سب نے لوٹنا ہے ‘ پھر وہ تم کو خبر دے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔ (المائدہ : ١٠٥) 

مناسبت اور شان نزول :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جب مشرکین کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے وہ طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ اور دادا کو پایا غرض ! ان جاہلوں اور گمراہوں کو اسلام کی طرف بلانے کی مسلمانوں نے پوری کوشش کی۔ اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اخروی انعامات کی ترغیب دی۔ اس کے باوجود جب ان جاہلوں نے اپنی جہالت اور گمراہی پر اصرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مسلمانو ! تم ان کی جہالت اور گمراہی کی پرواہ نہ کرو اور ان کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔ بلکہ تم اللہ کے احکام کی اطاعت کرتے رہو اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ‘ ان سے اجتناب کرتے رہو، اس لیے اس آیت میں فرمایا اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی سے تمہیں کوئی ضرر نہیں ہوگا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل کتاب سے جزیہ قبول کرلیتے تھے اور عرب کے مشرکین سے جزیہ قبول نہیں کرتے تھے۔ ان کے لیے صرف دو راستے تھے ‘ یا اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کے لیے تیار رہیں۔ تب منافقوں نے مسلمانوں کو ملامت کی کہ تم بعض کفار سے جزیہ قبول کرتے ہو اور بعض سے قبول نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم ہدایت پر ہو تو ان کی ملامت کی پرواہ نہ کرو ‘ مسلمانوں کو اس سے بہت سخت تکلیف ہوتی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بسیار تبلیغ ‘ اس قدر معجزات کے مشاہدہ اور آپ کی اتنی کوششوں کے باوجود یہ کفار کفر کو نہیں چھوڑتے اور اپنی گمراہی پر ڈٹے ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لیے یہ آیت نازل فرمائی ‘ جس کا معنی یہ ہے کہ تم ان کو مسلمان کرنے کے مکلف نہیں ہو ‘ تم صرف اپنی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو تو ان کی جہالت اور گمراہی سے تمہیں کوئی ضرر نہیں ہوگا۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣‘ ص ٤٦١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

نجات کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ضرور ہونا : 

” تم اپنی فکر کرو “ کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو گناہوں کے ارتکاب سے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے محفوظ رکھو اور اپنی آخرت اور عاقبت سنوارنے کی فکر کرو۔ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر لوگ برے کام کر رہے ہیں تو کرنے دو تم صرف اپنی فکر کرو ‘ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی کو نیکی کا حکم دینا یا برائی سے روکنا واجب نہیں ہے ‘ صرف اپنی اصلاح کرلینا کافی ہے۔ حالانکہ یہ معنی قرآن مجید اور احادیث کی دوسری نصوص کے خلاف ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسروں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے نہیں روکتا تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا ‘ کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے ‘ اس لیے تم اپنی فکر کرو کا معنی یہ ہے کہ تم اپنی اصلاح کرو اور امر بالمعروف اور اور نھی عن المنکر کرتے رہو ‘ اس کے باوجود اگر لوگ برے کاموں سے باز نہ آئیں تو تم فکر نہ کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو ‘ نیکی کر رہے ہو اور نیکی کا حکم دے رہے ہو ‘ تو کسی کی برائی سے تمہیں ضرر نہیں ہوگا۔ 

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب بنو اسرائیل میں گناہ بہت بڑھ گئے تو ان کے علماء نے منع کیا ‘ وہ باز نہیں آئے۔ وہ علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے تو اللہ نے ان کے دل بھی ان کی طرح کر دئیے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی گئی ‘ کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹیک لگائے ہوئے تھے ‘ پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے۔ (امام ابو داؤد کی روایت میں ہے) تم ان کو ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا اور تم ظالموں کے ہاتھوں کو پکڑ لینا اور اس کو حق کے مطابق عمل پر مجبور کرنا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٥٨‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

قیس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے اللہ کی حمد وثنا کرنے کے بعد فرمایا اے لوگو ! تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی سے تمہیں کوئی ضرر نہیں ہوگا (المائدہ : ١٠٥) اور تم اس آیت سے غلط مطلب نکالتے ہو اور ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ جب لوگ ظالم کو دیکھیں ‘ اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو اللہ ان سب پر عذاب لے آئے گا اور ھیثم کی روایت میں ہے جس کسی قوم میں گناہوں پر عمل کیا جاتا ہے اور وہ ان گناہوں کو مٹانے پر قادر ہوں پھر نہ مٹائیں تو عنقریب اللہ ان سب پر عذاب لے آئے گا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٣٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٦٨‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٥٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٥) 

المائدہ : ٧٩۔ ٧٨ کی تفسیر میں ہم نے اس سلسلہ میں بہت احادیث پیش کی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 105