حُرِّمَتْ  عَلَیْكُمْ  اُمَّهٰتُكُمْ  وَ  بَنٰتُكُمْ  وَ  اَخَوٰتُكُمْ  وَ  عَمّٰتُكُمْ  وَ  خٰلٰتُكُمْ  وَ  بَنٰتُ  الْاَخِ  وَ  بَنٰتُ  الْاُخْتِ  وَ  اُمَّهٰتُكُمُ  الّٰتِیْۤ  اَرْضَعْنَكُمْ  وَ  اَخَوٰتُكُمْ  مِّنَ  الرَّضَاعَةِ  وَ  اُمَّهٰتُ  نِسَآىٕكُمْ  وَ  رَبَآىٕبُكُمُ  الّٰتِیْ  فِیْ  حُجُوْرِكُمْ  مِّنْ  نِّسَآىٕكُمُ  الّٰتِیْ  دَخَلْتُمْ  بِهِنَّ٘-فَاِنْ  لَّمْ  تَكُوْنُوْا  دَخَلْتُمْ  بِهِنَّ  فَلَا  جُنَاحَ  عَلَیْكُمْ٘-وَ  حَلَآىٕلُ  اَبْنَآىٕكُمُ  الَّذِیْنَ  مِنْ  اَصْلَابِكُمْۙ-وَ  اَنْ  تَجْمَعُوْا  بَیْنَ  الْاُخْتَیْنِ  اِلَّا  مَا  قَدْ  سَلَفَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  غَفُوْرًا  رَّحِیْمًاۙ(۲۳)

حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) اُن بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبییں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف64)

اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔

(ف65)

پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔

(ف66)

یہ سب سگی ہوں یا سوتیلی ان کے بعد ان عورتوں کا بیان کیا جاتا ہے جو سبب سے حرام ہیں ۔

(ف67)

دودھ کے رشتے شِیر خواری کی مدت میں قلیل دودھ پیا جائے یا کثیر اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے شِیر خواری کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک تیس ماہ اور صاحبین کے نزدیک دو سال ہیں شِیر خواری کی مدّت کے بعد دودھ پیا جائے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی اللہ نے رضاعت (شیر خواری ) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ اور اُس شوہرسے اُس کے جو بچے پیدا ہو ں وہ شیر خوار کے رضاعی بھائی بہن اور اُس شوہر کے علاوہ دوسرے شوہر سے جو ہوں وہ اس کی سوتیلے بھائی بہن اس میں اصل یہ حدیث ہے کہ رضاع سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں اس لئے شیر خوار پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے نسبی و رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں ۔

(ف68)

یہاں سے محرمات بالصَّہریۃ کا بیان ہے وہ تین ذکر فرمائی گئیں۔(۱) بیبیوں کی مائیں، بیبیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیبیاں بیبیوں کی مائیں صرف عقد نکاح سے حرام ہوجاتی ہیں خواہ وہ بیبیاں مدخولہ ہوں یا غیر مدخولہ (یعنی ان سے صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو)

(ف69)

گود میں ہونا غالب حال کا بیان ہے حرمت کے لئے شرط نہیں ۔

(ف70)

ان کی ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صُحبت جُدائی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔

(ف71)

اس سے مُتبنّٰی نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رَضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بیٹوں میں داخل ہیں ۔

(ف72)

یہ بھی حرام ہے خواہ دونوں بہنوں کو نکا ح میں جمع کیا جائے یاملک یمین کے ذریعے سے وطی میں اور حدیث شریف میں پھوپھی ،بھتیجی اور خالہ بھانجی کا نکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا اور ضابطہ یہ کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتو ں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہو جیسے کہ پھو پھی بھتیجی اگر پھوپھی کو مرد فرض کیا جائے تو چچا ہوا بھتیجی اس پر حرام ہے اور اگر بھتیجی کو مرد فرض کیا جائے تو بھتیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے حرمت دونوں طرف ہے اگر ایک طرف سے ہو تو جمع حرام نہ ہوگی جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی ان دونوں کو جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی لڑکی کو مرد فرض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی بیوی تو حرام رہتی ہے ۔ مگر دوسری طرف سے یہ با ت نہیں ھے یعنی شوہر کی بی بی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو یہ اجنبی ھوگااور کوئی رشتہ ہی نہ رہے گا۔

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ-كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْۚ-وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ-فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۲۴)

اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نَوِشْتہ(مقررکردہ) ہے تم پر اور اُن (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو اور قرار داد (طے شدہ)کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجائے تو اُس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بے شک اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف73)

گرفتار ہو کر بغیر اپنے شوہروں کے وہ تمہارے لئے بعد استبراء حلال ہیں اگرچہ دارالحرب میں اُن کے شوہر موجود ہوں کیونکہ تباین دارین کی وجہ سے اُن کی شوہروں سے فُرقت ہوچکی ۔

شانِ نزول: حضرت ابوسعید خُدْرِی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے ایک روز بہت سی قیدی عورتیں پائیں جن کے شوہر دارالحرب میں موجود تھے تو ہم نے اُن سے قربت میں تامّل کیا،اور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف74)

محرمات مذکورہ

(ف75)

نکاح سے یا مِلک یمین سے اِس آیت سے کئی مسئلے ثابت ہوئے مسئلہ نکاح میں مہر ضروری ہے مسئلہ: اگر مہر معین نہ کیا ہو جب بھی واجب ہوتا ہے مسئلہ: مہر مال ہی ہوتا ہے نہ کہ خدمت و تعلیم وغیرہ جو چیزیں مال نہیں ہیں مسئلہ اتنا قلیل جس کو مال نہ کہا جائے مہر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا حضرت جابر اور حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مہر کی ادنٰی مقدار دس درم ہیں اس سے کم نہیں ہوسکتا۔

(ف76)

اس سے حرام کاری مراد ہے اور اِس تعبیر میں تنبیہ ہے کہ زانی محض شہوت رانی کرتا اور مستی نکالتا ہے اور اس کا فعل غرضِ صحیح اور مقصدِ حَسن سے خالی ہوتا ہے نہ اولاد حاصل کرنا نہ نسل و نسب محفوظ رکھنا نہ اپنے نفس کو حرام سے بچانا اِن میں سے کوئی بات اس کو مدّنظر نہیں ہوتی وہ اپنے نطفۂ و مال کو ضائع کرکے دین و دنیا کے خسارہ میں گرفتار ہوتا ہے۔

(ف77)

خواہ عورت مہر مقرّر شدہ سے کم کردے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدارِ مہر کی اور زیادہ کردے ۔

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْؕ-بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۚ-فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍۚ-فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْؕ-وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۵)

اورتم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو اُن سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو (ف۷۹)ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور اُن کے مہر انہیں دو(ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو اُن پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لیے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے اور صبر کرنا تمہارے لیے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف78)

یعنی مسلمانوں کی ایماندار کنیز یں کیونکہ نکاح اپنی کنیز سے نہیں ہوتا وہ بغیر نکاح ہی مولٰی کے لئے حلال ہے معنٰی یہ ہیں کہ جو شخص حُرَّہْ مؤمنہ سے نکاح کی مَقدِرت ووُسعت نہ رکھتا ہو وہ ایماندار کنیز سے نکاح کرے یہ بات عار کی نہیں ہے۔

مسئلہ : جو شخص حُرّہْ سے نکاح کی وسعت رکھتا ہو اُس کو بھی مسلمان باندی سے نکاح کرنا جائز ہے یہ مسئلہ اس آیت میں تو نہیں ہے مگر اُوپر کی آیت ” وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ” سے ثابت ہے

مسئلہ: ایسے ہی کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز ہے اور مؤمنہ کے ساتھ افضل و مستحَب ہے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوا۔

(ف79)

یہ کوئی عار کی بات نہیں فضیلت ایمان سے ہے اِسی کو کافی سمجھو ۔

(ف80)

مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ باندی کو اپنے مولٰی کی اجازت بغیر نکاح کا حق نہیں اسی طرح غلام کو ۔

(ف81)

اگرچہ مالک اُن کے مہر کے مولٰی ہیں لیکن باندیوں کو دینا مولٰی ہی کو دینا ہے کیونکہ خود وہ اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہو سب مولٰی کی مِلک ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اُن کے مالکوں کی اجازت سے مہرانہیں دو۔

(ف82)

یعنی علانیہ و خفیہ کِسی طرح بدکاری نہیں کرتیں۔

(ف83)

اور شوہر دار ہوجائیں ۔

(ف84)

جو شوہر دار نہ ہوں یعنی پچاس تازیانے کیونکہ حُرہ کے لئے سو تازیانے ہیں اور باندیوں کو رَجم نہیں کیا جاتا کیونکہ رجم قابلِ تَنصِیف نہیں ہے۔

(ف85)

باندی سے نکاح کرنا۔

(ف86)

باندی کے ساتھ نکاح کرنے سے کیونکہ اِس سے اولاد مملوک پیدا ہوگی۔