میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے فضائل و مناقب میں بہت سی آیات و احادیث ہیں چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔

یٰنساء النبی لستن کاحد من النسآء ان اتقیتن فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض و قلن قولا معروفا

اے نبی ﷺ کی بیویو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو۔ (سورۂ احزاب)

ایک اور مقام پر اﷲ رب العزت کا ارشاد ہے ’’و ازواجہ امہاتہم‘‘ اور اس (نبی) کی بیویاں ان مومنین کی مائیں ہیں۔

یہ تمام امت کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کی مقدس بیویاں دو باتوں میں حقیقی ماں کے مثل ہیں، ایک یہ کہ ان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی کا نکاح جائز نہیں۔ دوم یہ کہ ان کی تعظیم و تکریم ہر امتی پر اسی طرح لازم ہے جس طرح حقیقی ماں کی بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ لیکن نظر اور خلوت کے معاملہ میں ازواجِ مطہرات کا حکم حقیقی ماں کی طرح نہیں ہے کیوں کہ قرآن عظیم میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’و اذا سالتموہن متاعا فاسئلوہن من ورآء الحجاب‘‘ جب نبی ا کی بیویوں سے تم لوگ کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔

مسلمان اپنی حقیقی ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کر سکتا ہے مگر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی مقدس بیویوں سے ہر مسلمان کے لئے پردہ فرض ہے اور تنہائی میں ان کے پاس اٹھنا بیٹھا حرام ہے۔

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور کی سب سے پہلی رفیقۂ حیات ہیں۔ ان کے والد کا نام خویلد بن اس اور والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ یہ خاندانِ قریش کی بہت ہی معزز اور نہایت ہی دولت مند خاتون تھیں، اہلِ مکہ ان کی پاکدامنی اور پارسائی کی بناء پر ان کو ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے، انہوں نے حضور علیہ الصلوٰہ و السلام کے اخلاق و عادات اور جمالِ صورت و کمالِ سیرت کو دیکھ کر خود ہی حضور ا سے نکاح کی رغبت ظاہر کی اور پھر باقاعدہ نکاح ہوگیا۔

آپ کا ایمان لانا

علامہ ابن اثیر اور امام ذہبی کا بیان ہے کہ اس بات پر تمام امت کا اجماع ہے کہ رسول اﷲ ﷺ پر سب سے پہلے آپ ہی ایمان لائیں اور ابتدائے اسلام میں جب کہ ہر طرف سے آپ کی مخالفت کا طوفان اٹھ رہا تھا ایسے کٹھن وقت میں صرف انہیں کی ایک ذات تھی جو رسول اﷲ ا کی مونسِ حیات بن کر تسکینِ خاطر کا باعث تھیں۔

احادیث میں آپ کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اﷲ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا کہ اے محمدا! یہ خدیجہ ہیں جو آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں کھانا ہے۔ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیں اور ان کو یہ خوشخبری سُنا دیں کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی۔ (بخاری شریف)

اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زبانِ مبارک سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہت زیادہ تعریف سُنی تو انہیں غیرت آگئی اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بیوی عطا فرمادی۔ یہ سُن کر آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں۔ خدا کی قسم خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی۔ جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا مال دے دیا اور انہیں کے شکم سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ (سیرۃ المصطفی)

امام طبرانی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دنیا میں جنت کا انگور کھلایا۔ (سیرۃ المصطفی ا)

آپ کی وفات

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پچیس سال تک حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت گزاری سے سرفراز رہیں، ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہِ رمضان المبارک میں مکہ معظمہ میں انہوں نے وفات پائی۔ حضور ﷺ نے مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حَجُون (جنۃ المعلیٰ) میں خود بہ نفسِ نفیس ان کی قبر میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپردِ خاک فرمایا۔ چوں کہ اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے آپ نے ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔

۱۰؍رمضان المبارک آپ کی وفات کا دن ہے۔ اس روز ان کی یادوں کو تازہ کرو، ان کی روحِ مقدسہ کو ایصالِ ثواب کرنے کا اہتمام کرو۔