ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

 

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نورِ نظر اور دختر نیک اختر ہیں۔ ان کی والدہ ماجدہ کا نام ’’اُمِّ رومان‘‘ ہے۔ یہ چھ برس کی تھیں جب حضور ا نے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہِ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوال ۲ ؁ھ میں مدینہ منورہ کے اندر یہ کاشانۂ نبوت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور ا کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ ازواجِ مطہرات میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہِ نبوت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔

احادیث میں آپ کا تذکرہ

حضور اقدس ﷺ نے آپ کی فضیلت میں ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الٰہی اترتی رہتی ہے۔ (بخاری شریف)

دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تین راتیں میں خواب میں دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔ (مشکوٰۃ شریف)

چند وجہوں سے آپ کی فضیلت

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر دیگر ازواجِ مطہرات پر فضیلت حاصل ہے۔

٭ حضورﷺ نے آپ کے سوا کسی دوسری کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔

٭ آپ کے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جن کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔

٭ اللہ تعالیٰ نے آپ کی برأت اور پاکدامنی کا بیان قرآن مقدس میں فرمایا۔

٭ نکاح سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ریشمی کپڑے میں لا کر آپ کی صورت حضور ﷺ کو دکھلا دی تھی اور حضور ﷺ تین راتیں آپ کو دیکھتے رہے۔

٭ آپ اور حضور ﷺ ایک ہی برتن سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے، یہ شرف ازواجِ مطہرات میں سے کسی اور کو نہیں حاصل ہے۔

٭ حضور ﷺ نمازِ تہجد پڑھا کرتے تھیں اور آپ ان کے آگے سوئی ہوتی تھیں۔ ازواجِ مطہرات میں سے کوئی اور حضورﷺ کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئیں۔

٭ آپ حضورﷺ کے ساتھ ایک ہی لحاف میں سوئی ہوتیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام پر خدا کی وحی نازل ہوتی رہتی۔

٭ حضو رﷺ کے وصال کے وقت آپ کا سرِ مبارک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی حلق اور سینے کے درمیان تھا اس حالت میں آپ کا وصال ہوا۔

٭ آپ کی باری کے دن حضور ﷺ کا وصال ہوا۔

٭ حضورﷺ کی قبرِ انور خاص آپ کے گھر میں بنی۔ (سیرۃ المصطفی ا)

احادیث مبارکہ کی نقل و روایت میں آپ کا کردار

فقہ و حدیث کے علوم میں ازواجِ مطہرات کے اندر ان کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دوہزار دوسو دس حدیثیں انہوں نے حضور ا سے روایت کی ہیں، ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چون حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔ ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میںمذکور ہیں۔

علمِ طب میں آپ کی معلومات

علم طب اور مریضوں کے علاج و معالجہ میں بھی انہیں بہت کافی مہارت تھی، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن حیران ہو کر حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے اس بات پر بہت ہی حیرانی ہے کہ آخر یہ طبی معلومات اور علاج و معالجہ کی مہارت آپ کو کہاں سے اور کیسے حاصل ہوگئی؟

یہ سُن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور ﷺ اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور عرب و عجم کے اطبا (ڈاکٹرس) آپ کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے اور میں ان دوائوں سے آپ کا علاج کرتی تھی اس لئے مجھے طبی معلومات بھی حاصل ہوگئیں۔

عبادت و سخاوت میں آپ کی ذات

عبادت میں آپ کا مرتبہ بہت ہی بلند ہے، آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روزانہ بلا ناغہ نمازِ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتی تھیں۔

سخاوت اور صدقات و خیرات کے معاملے میں بھی تمام امہات المومنین میں خاص طور پر ممتاز تھیں۔ امِّ دُرّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھی اس وقت ایک لاکھ درہم کہیں سے آپ کے پاس آیا آپ نے اسی وقت ان سب درہموں کو لوگوں میں تقسیم کردیا اور ایک درہم بھی گھر میں باقی نہیں چھوڑا، اس دن وہ روزہ دار تھیں۔

عربی اشعار میں آپ کی مہارت

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جو آپ کے بھانجے تھے ان کا بیان ہے کہ فقہ و حدیث کے علاوہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کسی کو اشعار عرب کا جاننے والا نہیں پایا۔ وہ دورانِ گفتگو ہر موقع پر کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں جو بہت ہی بر محل ہوا کرتا تھا۔

آپ کا وصال

۱۷؍ رمضان المبارک شب سہ شنبہ ۵۷ ؁ھ یا ۵۸ ؁ھ میں مدینہ منورہ کے اندر آپ کا وصال ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.