أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِىۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ‌ ۘ اِذۡ اَيَّدْتُكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِىۡ الۡمَهۡدِ وَكَهۡلًا ‌ ۚوَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَالتَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ‌ ۚ وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيْئَةِ الطَّيۡرِ بِاِذۡنِىۡ فَتَـنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِاِذۡنِىۡ‌ وَ تُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِىۡ‌ ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِاِذۡنِىۡ‌ ۚ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ‘ تم اپنے اوپر اور اپنی ماں کے اوپر میرے احسان کو یاد کرو ‘ جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی ‘ تم گہوارے میں بھی لوگوں سے کلام کرتے تھے اور پختہ عمر میں بھی ‘ اور جب میں نے تم کو کتاب ‘ حکمت ‘ تورات اور انجیل کا علم دیا ‘ اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی صورت بناتے تھے ‘ پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہوجاتی تھی ‘ اور تم میرے حکم سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو تندرست کرتے تھے ‘ اور تم میرے حکم سے مردوں کو نکالتے تھے ‘ اور میں نے (ہی) تم کو بنو اسرائیل سے بچایا ‘ جب تم ان کے پاس روشن معجزات لے کر گئے ‘ تو ان میں سے کافروں نے کہا یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ‘ تم اپنے اوپر اور اپنی ماں کے اوپر میرے احسان کو یاد کرو ‘ جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی ‘ تم گہوارے میں بھی لوگوں سے کلام کرتے تھے اور پختہ عمر میں بھی ‘ اور جب میں نے تم کو کتاب ‘ حکمت ‘ تورات اور انجیل کا علم دیا ‘ اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی صورت بناتے تھے ‘ پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہوجاتی تھی ‘ اور تم میرے حکم سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو تندرست کرتے تھے ‘ اور تم میرے حکم سے مردوں کو نکالتے تھے ‘ اور میں نے (ہی) تم کو بنو اسرائیل سے بچایا ‘ جب تم ان کے پاس روشن معجزات لے کر گئے ‘ تو ان میں سے کافروں نے کہا یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (المائدہ : ١١٠) 

آیات سابقہ سے ارتباط : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ایک یہ صفت بیان کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دن تمام نبیوں سے سوال کرے گا ‘ کہ تم کو کی جواب دیا گیا تھا ؟ اس آیت میں اس دن کی دوسری صفت بیان فرمائی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ بالخصوص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائے گا اور ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائے گا ‘ اور اس سے مقصود عیسائیوں کی مذمت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے ان پر اتنے احسانات فرمائے اور ان کی فرمائشیں پوری کیں ‘ پھر انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ‘ اور اس کا شریک بنالیا۔ دوسری امتوں کے کافروں نے تو صرف اپنے نبیوں کا کفر کیا تھا ‘ اور ان کی شان میں نازیبا باتیں کہی تھیں ‘ یہ کفر میں ان سے بڑھ گئے ‘ انہوں نے اللہ کی طرف بیوی اور بیٹے کی نسبت کی۔ ” تعالیٰ اللہ عن ذالک “۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر اپنی نعمتیں یاد دلائیں تاکہ دنیا کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کتنی عزت اور کرامت عطا فرمائی تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو اس کہ اسلام تمام آسمانی مذاہب کے رہنمائوں کی تعظیم اور تکریم کرتا ہے ‘ اور تمام نبیوں کی شان اور ان کے بلند درجات بیان کرتا ہے ‘ اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے سبق اور عبرت ہے جو پیغمبر اسلام سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنقیص اور توہین میں دن رات کوشاں رہتے ہیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی نعمتیں گنواتے ہوئے فرمایا : جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی۔ 

روح القدس کا معنی : 

روح القدس سے سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اس میں روح کی اضافت قدس کی طرف ہے ‘ قدس سے مراد اللہ عزوجل کی ذات ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ روح ‘ ارواح کی ماہیت مختلف ہوتی ہے ‘ بعض طاہرہ نورانیہ ہوتی ہیں ‘ بعض خبیثہ ظلمانیہ ہوتی ہیں۔ حضرت جبرائیل ‘ وہ روح ہیں جو طاہر اور نورانی ہے ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ ان کی مدد طاہر اور نورانی روح سے کی گئی ہے۔ 

حیات مسیح اور ان کے زمین پر نازل ہونے کی دلیل : 

تم گہوارے میں بھی لوگوں سے کلام کرتے تھے اور پختہ عمر میں بھی یعنی بچپن میں اور پختہ عمر میں ‘ ہر دور میں ان کا کلام عقل اور حکمت کے مطابق تھا اور انبیاء اور حکماء کے کلام کے موافق تھا ‘ کیونکہ پنگھوڑے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں ‘ اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھ کو نبی بنایا ہے ‘ اور میں جہاں بھی ہوں ‘ مجھے برکت والا بنایا ہے اور میں جب تک زندہ ہوں مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا۔ (مریم : ٣٠) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے گہوارے میں وحی فرمائی ‘ اب یہاں ایک سوال ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گہوارہ میں کلام کرنا تو معجزہ ہے ‘ پختہ عمر میں ان کا کلام کرنا کس طرح معجزہ ہوگیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کہولت تیس سال کے بعد کی عمر کو کہتے ہیں ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تیس سال سے آسمانوں کی طرف لیے گئے اور کئی ہزار سال بعد زمین پر ان کا نزول ہوگا ‘ اور اس وقت وہ پختہ عمر کے ہوں گے اور یہ بھی ان کا معجزہ ہے ‘ کہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی وہ صرف کہول ہوں گے ‘ حتی کہ بوڑھے بھی نہیں ہوں گے اور پختہ عمر کی حالت میں کلام کریں گے۔ 

اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین میں نزول کی بھی دلیل ہے ‘ کیونکہ وہ پختہ عمر اور کہولت کے زمانہ کو پانے سے پہلے آسمانوں پر اٹھا لیے گئے تھے اور قرآن مجید کے مطابق ان کا کہولت کی عمر میں کلام کرنا بھی ضروری ہے ‘ اس سے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ بھی ہیں اور ان کا زمین پر نزول بھی ہوگا ورنہ اس آیت کا صدق کیسے ہوگا ؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے کہولت کا زمانہ پالیا تھا اور وہ کہولت کے زمانہ میں باتیں کرتے تھے تو یہ معجزہ کیسے ہوا ؟ کہولت کے زمانہ میں تو سب باتیں کرتے ہیں ‘ یہ معجزہ اسی وقت ہوگا جب انہیں کہولت کے زمانہ سے پہلے اٹھا لیا گیا ہو ‘ اور وہ کئی ہزار برس بعد زمین پر نازل ہوں اور کہولت کا زمانہ پاکر لوگوں سے باتیں کریں ‘ سو اس طرح اس آیت میں ان کے معجزہ کا ذکر بھی ہوگا اور یہ آیت ان کی حیات اور ان کے زمین پر نازل ہونے کی دلیل بھی ہوگی۔ 

کتاب ‘ حکمت اور تورات اور انجیل کا معنی : 

اور جب میں نے تم کو کتاب ‘ حکمت اور انجیل کا علم دیا کتاب سے مراد یا تو اس کا مصدری معنی ہے ‘ یعنی لکھنا ‘ اور یا کتاب بمعنی مکتوب ہے ‘ اور اس سے مراد جنس کتاب ہے۔ کیونکہ انسان پہلے آسان کتابیں پڑھتا ہے اور پھر مشکل اور ادق کتابیں پڑھتا ہے ‘ اور حکمت سے مراد علوم نظریہ اور علوم عملیہ ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نازل شدہ کتابوں کا علم اور ان کے اسرار کی فہم ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حکمت سے مراد نفس کا کمال علمی اور علم کے تقاضوں پر عمل ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حکمت سے مراد صحیح قول ہے ‘ تورات سے مراد وہ کتاب ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی اس میں شرائع اور احکام ہیں اور انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی ‘ اس میں مواعظ اور اخلاق ہیں ‘ پہلے کتاب کا ذکر فرمایا ‘ پھر تورات اور انجیل کا ذکر فرمایا حالانکہ وہ بھی کتابیں ہیں ‘ یہ شرف اور فضیلت کی وجہ سے سے عام کے بعد خاص کا ذکر ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ملائکہ کے بعد جبرائیل اور میکائل کا ذکر کیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ بھی ملائکہ میں سے ہیں : 

(آیت) ” من کان عدوا للہ وملآئکیہ ورسلہ وجبریل ومیکل فان اللہ عدو للکافرین “۔ (البقرہ : ٩٨) 

ترجمہ : جو شخص اللہ اور فرشتوں اور رسولوں اور جبرائیل اور میکائل کا دشمن ہے ‘ تو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ 

تورات اور انجیل کے معنی کی زیادہ تفصیل اور تحقیق ہم نے آل عمران : ٣ میں کردی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پرندے بنانا ‘ بیماروں کو شفا دینا اور دیگر معجزات : 

جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی صورت بناتے تھے ‘ پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہوجاتی تھی ‘ اور تم میرے حکم سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو تندرست کرتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگوں نے بطور عناد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ‘ اگر آپ اپنے دعوی میں سچے ہیں تو ہمارے لیے چمگادڑ بنائیں اور اس میں روح ڈال دیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مٹی اٹھائی اور اس سے چمگادڑ کی صورت بنائی۔ پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی ‘ چمگادڑ کو بنانا اور اس میں پھونک مارنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کسب تھا ‘ اور اس کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا فعل تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے چمگادڑ بنانے کا مطالبہ اس لیے کیا تھا کہ یہ گوشت اور خون سے بنا ہوا عجیب ترین جانور ہے اور یہ پروں کے ساتھ اڑتا ہے اور حیوان کی طرح بچے دیتا ہے ‘ اور باقی پرندوں کی طرح انڈے نہیں دیتا ‘ اس کے تھن ہیں جن سے دودھ نکلتا ہے ‘ انسان کی طرح ہنستا ہے اور اس کو عورت کی طرح حیض آتا ہے ‘ یہ دن کی روشنی میں دیکھ سکتا ہے نہ رات کے اندھیرے میں ‘ یہ رات کے ابتدائی حصہ تک دکھائی دیتا ہے۔ (حاشیہ محی الدین شیخ زادہ علی الیضاوی ‘ ج ٢‘ ص ١٤٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

اعمی اس شخص کو کہتے ہیں جو بصیر پیدا ہو اور بعد میں اندھا ہوجائے اور اکمہ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو اندھا پیدا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مادر زاد اندھوں کو اللہ کے حکم سے بینا کرتے تھے ‘ برص ایک جلدی بیماری ہے جس کی وجہ سے جلد سفید ہوجاتی ہے اور ایک تکلیف دہ خارش ہوتی ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے برص کے مریضوں کو تندرست کردیتے تھے۔ اور تم میرے حکم سے مردوں کو نکالتے تھے۔ یعنی تم میرے حکم سے مردوں کو زندہ کرکے قبروں سے نکالتے تھے۔ جب تم اللہ سے دعا کر کے مردے سے یہ کہتے تھے ‘ اللہ کے اذن سے اپنی قبر سے باہر آ ‘ ان تینوں افعال میں اللہ کے اذن کا ذکر کیا ہے ‘ تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان افعال کا فاعل حقیقی اللہ تبارک وتعالی ہے۔ 

اور میں نے (ہی) تم کو بنو اسرائیل سے بچایا ‘ جب تم ان کے پاس روشن معجزات لے کر گئے تو ان میں سے کافروں نے کہا یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے یعنی جب تم بنو اسرائیل کے پاس اپنی نبوت اور رسالت پر دلائل اور معجزات لے کر گئے ‘ تو انہوں نے تمہاری تکذیب کی اور تم پر تہمت لگائی کہ تم جادوگر ہو ‘ اور انہوں نے تمہیں قتل کرنے اور سولی دینے کا ارادہ کیا اور میں نے تم کو اپنی طرف اوپر اٹھا لیا اور تم کو ان کے شر سے بچایا۔ (النساء : ١٥٨ میں ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھائے جانے کا بیان بڑی تفصیل سے کیا ہے ‘ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 110