خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا

خونِ خیر الرسل سے ہے جن کا خمیر

ان کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام

اس بتول جگر پارۂ مصطفی

حُجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

سیدہ، زاہرہ، طیبہ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

رمضان المبارک مسلمانوں کیلئے جہاں اس لئے محترم ہے کہ اس میں رحمتوں اور برکتوں کا نزول مسلسل ہوتا رہتا ہے، اﷲ تعالیٰ کی خصوصی توجہ اس میں دنیا والوں پر ہوتی ہے، اس کی برکت سے جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں، اس کے صدقے میں اﷲ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں و مغفرتیں ہمیں ملتی ہیں وہیں اس لئے بھی یہ ماہِ مبارک ہمارے لئے قابلِ قدر و یادگار ہے کہ اس ماہ کی تین تاریخ کو حضرت خاتونِ جنت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کا وصال با کمال ہوا۔

خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کیا مقام و مرتبہ ہے اور کتنا عظیم رتبہ ہے ان کا یہ کسی پر مخفی نہیںہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی‘‘ تم فرمائو میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔

یعنی اے محبوبﷺ ! آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں نے تمہارے مابین جو رشد و ہدایت کی ہے اور تمہیں ظلماتِ کفر سے نکال کر اسلامی انوار سے منور کیا ہے، اس پر مجھے تمہاری اجرت نہیں چاہئے ہاں اتنا مطالبہ ضرور ہے کہ میرے قریبی رشتہ داروں سے محبت رکھنا، انہیں کوئی ایذا و تکلیف نہ پہنچانا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ بیت اطہار کی محبت فرائضِ دینیہ میں سے ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے فضائل زبانِ نبوی سے

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! قربیٰ سے مراد کون لوگ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ’’علی و فاطمۃ و ولدہما‘‘ علی، فاطمہ اور ان کے بیٹے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

لہٰذا معلوم ہوا کہ حضرت فاطمہ کی محبت مطلوبِ مصطفی بھی ہے اور مرضیِ خدا بھی، اسی لئے تمام مسلمانوں پر ضروری ہے کہ ان کی محبت دل میں بسائے رکھیں اور ان کی شان میں ادنیٰ سی بے ادبی سے بھی بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ ان کے محبین میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰہ و التسلیم

حضور ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب

حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا ’’ای الناس کان احب الی رسول اللہ ا قالت: فاطمۃ فقیل من الرجال قالت: زوجہا‘‘ حضور ا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون تھا فرمائیں کہ حضرت فاطمہ تھیں پھر پوچھا گیا مردوں میں کون؟ تو بولیں ان کے شوہر۔ (مشکوٰۃ)

پیشانی کو بوسہ دیتے

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ’’کانت اذا دخلت علی النبی ا قام الیہا فقبلہا و اجلسھا فی مجلسہ و کان النبی ا اذا دخل علیہا قامت من مجلسہا فقبلتہ و اجلستہ فی مجسلہا‘‘ جب حضرت فاطمہ نبی اکرم ا کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ان کے لئے کھڑے ہو جاتے اور (ان کی پیشانی اقدس پر) بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے (محبۃً) اور جب حضور ا ان کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ کھڑی ہو جاتیں اور حضور ا (کے دستِ اقدس) کو چوم لیتیں اور (احتراماً) اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (ترمذی، مستدرک)

حضور ﷺ کا گستاخ

حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’فاطمۃ بضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی‘‘ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

اللہ کی رضامندی و ناراضگی

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’ان اللہ یغضب بغضب فاطمۃ و یرضی برضائہا‘‘ فاطمہ کے ناراض ہوجانے سے اللہ تعالیٰ غضبناک ہو جاتا ہے اور ان کے خوش ہوجانے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ (مستدرک)

جنتی عورتوں کی سردار

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پوچھنے پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خود بیان فرمایا ہے کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا ’’یا فاطمۃ اما ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء المومنین او سیدۃ نسآء ہٰذہ الامۃ‘‘ اے فاطمہ کیا تم اس سے راضی نہیں ہو کہ تمام جنتی مومنین کی عورتوں کی سردار ہو یا یہ فرمایا کہ اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔ (مسلم)

مختصر سوانح حیات

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم ﷺ کی وہ صاحبزادی ہیں جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں، محبوبِ خدا ا کی یہ لاڈلی شہزادی فاطمہ کے نام سے اور زہرا و بتول کے لقب سے جانی جاتی ہیں، حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطنِ مبارک سے آپ کی ولادت ہوئی، آپ کی ولادت کی تاریخ میں علمائے مؤ رخین نے اختلاف کیا ہے، کسی نے کہا ہے کہ اعلانِ نبوت کے پہلے سال پیدا ہوئیں، کسی نے کہا ہے کہ اعلانِ نبوت سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوئی جب کہ علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کہنا ہے کہ اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل ان کی پیدائش ہوئی۔ و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

پندرہ برس کی عمر میں جنگ احد کے بعد یا پہلے آپ کا نکاح مولائے کائنات حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور ا نے کر دیا، حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جب یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں داخل کر دی گئی ہیں تو رونے لگی تھیں پھر حضور ﷺ تشریف لائے اور فرمایا اے فاطمہ! و اللہ میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کر دیا ہے جس کا علم سب سے زیادہ ہے، جو علم میں سب سے افضل ہے، جو سب سے پہلے اسلام لانے والا ہے۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیگر صاحبزادیوں پر اس لئے بھی فوقیت حاصل ہے کہ رسول خدا ﷺ کی نسل پاک کا سلسلہ انہیں سے جاری ہے۔ حضور اقدس ﷺ کے وصال شریف کا حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قلبِ مبارک پر بہت ہی جانکاہ صدمہ گزرا یہی وجہ تھی کہ حضور اقدس ﷺ کے وصال شریف کے بعد کبھی آپ ہنستی ہوئی نہیں دیکھی گئیں۔

جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ میں جنازہ کھلالے جانے کو ناپسند کرتی ہوں، اس پر حضرت اسماء نے عرض کیا اے بنت رسول ا میں نے سر زمین حبشہ میں ایک طریقہ دیکھا ہے کہ جنازہ کی چارپائی پر درخت کی شاخیں ڈال کر اس پر کپڑا ڈال دیتے ہیں۔ حضرت فاطمہ کو یہ طریقہ پسند آگیا تو انہوں نے فرمایا جب میری وفات ہو جائے تو تم اور حضرت علی مل کر مجھے غسل دینا، اس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ حضرت فاطمہ اسلام کی وہ پہلی ہستی ہیں جن کے جنازے کو اوپر سے ڈھانپ کر لے جایا گیا جب کہ ان سے پہلے جنازہ کو چارپائی پر رکھ کر ایک چادر ڈال دتے تھے اور جنازہ کھلا جاتا تھا۔

وصال شریف

وصال نبوی ا کے چھ ماہ بعد ۳؍رمضان المبارک ۱۱ ؁ھ منگل کی رات کو جب آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اس وقت آپ کی عمر پاک تیس سال تھی۔ حضرت علی یا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ چنانچہ حضرت علی، حضرت عباس اور حضرت فضل بن عباس نے آپ کو قبر میں اتارا۔ اصح و مختار قول یہی ہے کہ آپ جنت البقیع شریف مدینہ منورہ میں مدفون ہیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! خاص کر رمضان المبارک کی ۳؍تاریخ کو مالکِ کون و مکاں ﷺ کی شہزادیٔ پاک کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کریں اور ان کی محبت نیز اہلِ بیت اطہار و ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کی محبت سے اپنے سینے سرشار رکھیں اور ان کی محبت و الفت ہی میں آخرت کی بھلائی سمجھیں اور ہر اس شخص سے محبت رکھیں جو ان کا محب ہو اور جو ان سے بغض و عداوت رکھتا ہو اس سے کنارہ کشی اختیار کریں اور کبھی بھی ان مقدس بیبیوں کے تعلق سے بے ادبی کا ادنیٰ لفظ بھی اپنی زبان پر نہ آنے دیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے اور مذکورہ باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔