شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم

مرتضی شیر حق اشجع الاشجعین بابِ فضل و ولایت پہ لاکھوں سلام

شیر شمشیر زن شاہِ خیبر شکن پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں، مسلمان گھر کا ہر بچہ انہیں جانتا اور مانتا ہے۔

ماہِ رمضان المبارک سے آپ کی تاریخِ شہادت متعلق ہے اس وجہ سے آپ کی حیاتِ طیبہ پر چند سطور سپردِ قرطاس کر رہا ہوں پڑھیں اور ان کی سیرت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔

نام و نسب

آپ کا نام نامی ’’علی بن ابی طالب‘‘ اور کنیت ’’ابوالحسن، ابو تراب‘‘ ہے۔ آپ سرکارِ اقدس ا کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضور ا کے چچا زاد بھائی ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہے اور یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔ (تاریخ الخلفاء)

نسب نامہ و ولادت

آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے۔

علی بن ابو طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف

آپ ۳۰ ؁عام الفیل میں پیدا ہوئے اور اعلانِ نبوت سے پہلے ہی مولائے کل سید الرسل جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ا کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو حضور ا نے ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو لے لیا تھا۔ اس طرح حضور ا کے سائے میں آپ نے پرورش پائی اور انہیں کی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی حضور ا کا جمالِ جہاں آرا دیکھا، انہیں کی باتیں سنیں اور انہیں کی عادتیں سیکھیں۔ اس لئے بتوں کی نجاست سے آپ کا دامن کبھی آلودہ نہ ہوا یعنی آپ نے کبھی بت پرستی نہ کی اور اسی لئے کرم اللہ تعالیٰ وجہہ آپ کا لقب ہوا۔ (تنزیہہ المکانۃ الحیدریہ)

آپ کا قبول اسلام

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نو عمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے۔ تاریخ الخلفاء میں ہے کہ جب آپ ایمان لائے اس وقت آپ کی عمر مبارک دس سال تھی بلکہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق نو سال اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ سال اور کچھ لوگ اس سے بھی کم بتاتے ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان تنزیہہ المکانۃ الحیدریہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ بوقتِ اسلام آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی۔

آپ کے اسلام قبول کرنے کی تفصیل محمد بن اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ کو اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ جب یہ لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضورﷺ سے پوچھا کہ آپ لوگ یہ کیا کر رہے تھے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا ایسا دین ہے جس کو اس نے اپنے لئے منتخب کیا ہے اور اسی کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اپنے رسول کو بھیجا ہے۔ لہٰذا میں تم کو بھی ایسے معبود کی طرف بلاتا ہوں جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تم کو اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہوں۔ حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کہا کہ جب تک میں اپنے باپ ابو طالب سے دریافت نہ کر لوں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ چوں کہ اس وقت حضور ﷺ کو راز فاش ہونا منظور نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے ہو تو ابھی اس معاملہ کو پوشیدہ رکھو، کسی پر ظاہر نہ کرو۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر چہ رات میں ایمان نہیں لائے مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ایمان کو راسخ کر دیا تھا دوسرے روز صبح ہوتے ہی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی پیش کی ہوئی ساری باتوں کو قبول کر لیا اور اسلام لے آئے۔

آپ کی ہجرت

سرکارِ اقدس ﷺ نے جب خدائے تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو بلا کر فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہو جائوں گا۔ تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سو رہو تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں انکے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔

یہ موقع بڑا ہی خوفناک اور نہایت خطرہ کا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفارِ قریش سونے کی حالت میں حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں اسی لئے خدائے تعالیٰ نے آپ کو اپنے بستر پر سونے سے منع فرما دیا ہے۔ آج حضور ا کا بستر قتل گاہ ہے لیکن اللہ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کے اس فرمان سے کہ ’’تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی امانتیں دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا‘‘ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو پورا یقین تھا کہ دشمن مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے، میں زندہ رہوں گا اور مدینہ ضرور پہونچوں گا۔ لہٰذا سرکار اقدسﷺ کا بستر جو آج بظاہر کانٹوں کا بچھونا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا۔ اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج پورب کی بجائے پچھم سے نکل سکتا ہے مگر حضور کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتاہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام سے سویا، صبح اٹھ کر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو سونپنا شروع کیا اور کسی سے نہیں چھپا۔ اسی طرح مکہ میں تین دن رہا پھر امانتوں کے ادا کرنے کے بعد میں بھی مدینہ کی طرف چل پڑا، راستہ میں بھی کسی نے مجھ سے کوئی تعارض نہ کیا، یہاں تک کہ میں قبا بھی پہنچا۔ حضور ا حضرت کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان میں تشریف فرما تھے میں بھی وہیں ٹھہر گیا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور احادیثِ کریمہ

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی احادیثِ کریمہ وارد ہیں بلکہ امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جتنی حدیثیں آپ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں۔

بخاری و مسلم میں حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسولﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ میں رہنے کا حکم فرمایا اور اپنے ساتھ نہیں لیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ا! آپ مجھے یہاں عورتوں اور بچوں پر اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑے جاتے ہیں تو سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا ’’اما ترضیٰ ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘ یعنی کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں تمہیں اس طرح چھوڑے جاتا ہوں کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر جانے کے وقت چالیس دن کے لئے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل پر اپنا خلیفہ بنایا تھا اسی طرح جنگِ تبوک کی روانگی کے وقت میں تم کو اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر جا رہا ہوں۔ لہٰذا جو مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک حضرت ہارون علیہ السلام کا تھا وہی مرتبہ ہماری بارگاہ میں تمہارا ہے۔ اس لئے اے علی! تمہیں خوش ہونا چاہئے۔ تو ایسا ہی ہوا کہ اس خوش خبری سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی ہو گئی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا ’’من سب علیا فقد سبنی‘‘ یعنی جس نے علی کو بُرا بھلا کہا تو تحقیق کہ اس نے مجھ کو بُرا بھلا کہا۔ (مشکوٰۃ)

یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ﷺ سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کی گویا اس نے حضور ا کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی شان میں توگستاخی و توہین کرنا ہے۔

حضرت ابو الطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھلے ہوئے میدان میں بہت سے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺنے یومِ غدیر خُم میں میرے متعلق کیا ارشاد فرمایا تھا؟ تو اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ حضورﷺ نے اس روز فرمایا تھا ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ‘‘ میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، یا الٰہ العالمین جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

آپ کی شہادت

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے سترہ ۱۷؍رمضان المبارک ۴۰ ؁ھ کو علی الصبح بیدار ہو کر اپنے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آج رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ کی امت نے میرے ساتھ کج روی اختیار کی ہے اور سخت نزع برپا کر دیا ہے۔ حضور ا نے فرمایا تم ظالموں کے لئے دعا کرو تو میں نے اس طرح دعا کی کہ یا الٰہ العالمین تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور میرے جگہ ان لوگوں پر ایسا شخص مسلط کر دے جو بُرا ہو۔ ابھی آپ یہ بیان فرما ہی رہے تھے کہ ابنِ نباح مؤذن نے آواز دی ’’الصلوٰۃ الصلوٰۃ‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھنے کے لئے گھر سے چلے، راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر آپ جگاتے جاتے تھے کہ اتنے میں ابنِ ملجم آپ کے سامنے آگیا اور اس نے اچانک آپ پر تلوار کا بھر پور وار کیا۔ وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری، شمشیر لگتے ہی آپ نے فرمایا ’’فزت برب الکعبۃ‘‘ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ (تاریخ الخلفاء)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت کی آمد پر آپ کے ذکر کی محفلیں قائم کرو اور ان کی زندگی کی روشن راہوں پر چل کر کامیاب و کامران ہو جائو۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین