عاصیہ ملعونہ کے بعد؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی

عاصیہ ملعونہ کی کینڈا روانگی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے کے بعد میں نے لیپ ٹاپ بند کر کے کرسی سے ٹیک لگایا اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔

میری نگاہ میں ایک بعد ایک تصویر آرہی تھی ۔۔۔۔۔گورنر سلمان تاثیر کی ہٹ دھرمی او ر اس کی آواز میں ریاستی طاقت کا گھمنڈ ۔۔۔۔علماء کا احتجاج ۔۔۔۔ہڑتال ۔۔۔۔ممتاز قادری کی جرات و بہادری سلمان تاثیر کی عبرتناک موت ۔۔۔ممتاز قادری کی گرفتاری……. ۔علماء و عوام کا احتجاج ۔۔۔۔ عوام کے ٹھاٹھے مارتے جلسے و جلوس ۔۔۔۔۔ممتاز قادری کی قد آور تصاویر ۔۔۔۔جرات و بہادری ممتاز قادری کے فلک شگاف نعرے ۔۔۔۔

پھر وہ ہولناک منظر جب رات کی تاریکی میں ممتاز قادری کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔۔۔۔۔۔غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے کا جام کس طرح نوش کرتے ہیں ممتاز قادری نے پوری دنیا کو بتا دیا ۔

ممتاز قادری کا جنازہ ۔۔۔۔اللہ اللہ

عوام کا یہ اجتماع یہ فلک پھر نہیں دیکھے گا ۔۔۔۔۔ یوں لگتا تھا مسالک کی جنگ ختم ہو گئی ۔۔۔۔۔تمام مکاتب فکر کے لوگ اس عاشق کی نمازِ جنازہ میں شریک تھے ۔۔۔۔۔جگہ نہیں مل رہی تھی ۔۔۔۔راولپنڈی کے لیے فلائیٹ نہیں تھی ۔۔۔

پاکستان کی تمام سیاسی ، سیکولر اور لبرل جماعتیں مل کر بھی ایسا ایک اجتماع نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔میرے سوچنے میں شدت آ چکی تھی ۔۔۔۔میں اب دانت بھینچ رہا تھا ۔۔۔۔میرے پنجے نے مٹھی کی شکل اختیار کر لی تھی ۔

آج سوشل میڈیا پر براجمان میرے جیسے نوجوان ایک مرتبہ پھر جنگ لڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔

معلوم ہے تم کیسی جنگ لڑ رہے ہو ؟ مجھے ایک آواز بہت قریب سے سُنائی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسی جنگ ؟

ایک ایسی جنگ جس کے جذبات میں روح نہیں ہے ۔۔۔۔۔

ایک ایسی آواز سے لڑ رہے ہو جس میں سوز نہیں ہے ۔۔۔۔۔

ایک ایسے ہتھیار سے لڑ رہے ہو جس کو جدید دنیا کا کھلونا سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک ایسے قلب و دماغ کے ساتھ لڑ رہے ہو جس میں تڑپ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

تمہارے جذبوں میں نہ تو حرارت ہے نہ ہی بے قراری ۔۔۔۔۔

تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو ؟میں نے چیختے ہو ئے کہا

تمہیں معلوم ہے ۔۔۔۔۔1857ء میں بویا گیا الحاد کا بیج نشونما پا کر تناور درخت بن چکا ہے ۔۔۔۔۔ اول تو تمہیں ابھی تک اس کی خبر نہیں اور چند لوگوں کو ہے بھی تو وہ اس درخت کے تنے پر کلہاڑا چلانے کے بجائے اس درخت کی سب اونچی شاخ کو کاٹنے کے چکر میں ہیں جہاں ان کا ہاتھ بھی نہیں جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔بس روز ایک پتھر مار کر اس شاخ کو توڑنا چاہتے ہیں ۔

تمہاری مساجد و مدارس میں لائبریری نہیں ۔۔۔۔تمہیں علم کا شوق نہیں ۔۔۔۔۔تمہارے ہاں تربیت کا نظام مفقود ہو چکا ۔۔۔۔تمہاری خانقاہیں بانجھ ہو چکیں ۔۔۔۔۔۔تمہاری مسجدیں ویران ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔تمہارے ہاں بہتے علم کے سوتے خشک ہو گئے ۔۔۔۔۔تمہارا نوجوان بگڑ چکا ۔۔۔۔۔تمہارے شاہین بچوں کو صحبت ِ زاغ برباد کر گئی ۔۔۔۔۔

اقبال بھی کیا خوب کہتا ہے ۔

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

تم کہاں کھڑے ہو کبھی اپنا تجزیہ تو کرو ۔۔۔۔۔۔

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

تم کون ہو ؟میں اس کی باتوں سے متاثر ہو رہا تھا ۔۔۔۔

میں تم سے اپنا تفصیلی تعارف کراتا ہوں ۔۔۔۔۔تم مجھے جانتے بھی ہو اور پہچانتے بھی ہو ۔۔۔۔۔

میں وہ اسلام ہو جس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ مبارک طائف کے میدان میں لہو لہان ہو ئی تھی ۔۔۔۔۔۔بلال حبشی کی احد کی صدائیں جس کے لیے مکہ کے صحراؤں میں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔بدر واحد کے مناظر سے لے کر خیبر و فتح مکہ تک کی تاریخ دعوت و عزیمت میں کہیں بھی تو وہ سہل پسندی نہیں جو آج تم جیسے مسلمانوں میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

خلافت ِ راشدہ کے آخری دور میں اغیار کی سازشیں ،منافقین و خوارج کی شورشیں ،کہیں بھی تو اس دعوت و عزیمت کی راہ میں کوئی فرق نہیں پڑا بنو امیہ ، بنو عباس ، خلافت ِ عثمانیہ یہاں تک کے برصغیر میں 1857ء میں ہو نے والے جہاد تک وہ سہل پسندی کہیں بھی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔جو آج تم میں موجود ہے ۔

تم حج کے پیسوں میں اضافے پر ناراض نظر آتے ہو ۔۔۔۔درست ہے، مگر تمہاری مسجدیں ویران ہیں نماز پر تو کوئی قیمت نہیں ہے ۔۔۔۔تم مہنگائی پر اربابِ اختیا رپر غصہ ہو تے دکھائی دیتے ہو مگر ہوسِ دولت کے سبب ناجائز منافع خوری سے باز نہیں آتے اپنے ہی مسلمان بھائی پر زندگی تنگ کیے دیتے ہو ۔۔۔۔تم اپنی معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور مذہبی زندگی کا مطالعہ کرو ۔۔۔۔۔تم اسلام کی دعوت ، احتجاج اور ثواب سہل پسندی کے ساتھ حاصل کرنے خواہش مند ہو ۔۔۔۔

جب کہ اسلام اپنے اول دن سے جدو جہد ، جدو جہد اور جدو جہد سے عبارت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

میری آنکھیں کھل چکی تھیں ۔۔۔۔۔اور میں سوچ رہا تھا کیا جدو جہد کا وقت آ گیا ہے ؟

سوشل میڈیا کے طلسم کدے سے نکل کر؟ ۔۔۔۔۔احتجاج و جلسے وجلوس کے سحر سے نکل کر ؟

ہم جدو جہد کر سکیں گے ؟۔۔۔۔۔۔۔سمت کا تعین ناگزیر ہے ۔۔۔۔۔۔اپنی جدو جہد کے رخ کا تعین کرنے کے بعد عملی جدو جہد کا عزم کیجیے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔