فضیل بن عیاض

نام و نسب:۔ نام ، فضیل ۔ والد کا نام، عیاض۔ کنیت ابو علی ہے ۔ تیمی یر بوعی خراسانی ہیں ۔

تعلیم و تربیت:۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ یونہی گزرا اور پھر جوانی کے عالم میں امام اعظم ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تعلیم پائی۔ دیگر محدثین سے علم حدیث حاصل کیا اور

مسند حدیث بند کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے اور بیت اللہ شریف کی مجاورت اختیار فرمائی ۔

واقعہ توبہ :۔ فضل بن موسی آپکی نوجوانی کا واقعہ یوں بیان کر تے ہیں کہ آپ ابیورد اورسرخس کے درمیان راستہ میں ڈاکہ زنی کر تے تھے ،جس سے لوگوں میں نہایت خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔

کسی لڑکی پر اسی دوران عاشق ہو گئے، رات کو دیوار پر چڑھ کر اسکے گھر میں داخل ہو نا چاہتے تھے کہ کسی طرف سے تلاوت قرآن کی آواز آئی ، اتفاق سے اس وقت کوئی شخص اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا۔

الم یأن للذین آمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ ۔

کیا ابھی ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ انکے دل خشیت ربانی اور ذکر الہی سے معمور ہوں۔

یہ آیت سنتے ہی اتر آئے اور بارگاہ خدا وند قدوس میں عرض کیا :۔

یا رب! قد اٰٰن۔

اے رب ! اب وہ وقت آگیا ۔

رات ایک ویرانہ میں گزار دی، وہاں آپنے ایک قافلہ کے لوگوں کی فتگو سنی ، کوئی کہہ رہا تھا، ابھی یہاں سے کوچ کرنا چاہیے، دوسرا بولا؛ نہیں صبح تک یہیں ٹھہرو، اس علاقہ میں فضیل ڈاکو پھر تا ہے ۔

خود واقعہ بیان کر کے فرما تے تھے، میں نے دل میں کہا لوگ مجھ سے اتنے خوف زدہ ہیں اور میں راتوں کو معاصی میں مبتلا رہتا ہوں۔ فوراً تائب ہوا اور واپس آیا ۔

اسکے بعد شب بیداری، گریہ و زاری آپ کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ بدن پر دو کپڑوں کے علاوہ سامان دنیا نہیں رکھتے تھے، آپ کے فضائل و مناقب سے یہ بھی ہے کہ اصحاب

صحاح ستہ نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں ۔ ثقہ صدوق صالح اور حجت تھے، محدثین آپ کی جلالت شان پر متفق ہیں۔

اساتذہ :۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام اعمش، منصور، عبید اللہ بن عمر، ہشام بن حسان، یحیی بن سعید انصاری، محمد بن اسحاق، لیث بن ابی سلیم، امام جعفر بن محمد صادق، اسمعیل بن خالد،سفیان بن عیینہ، بیان بن بشر، وغیرہم۔

تلامذہ:۔ امام سفیان ثوری، یہ ا ستاذ بھی ہیں ۔ سفیان بن عیینہ، عبد اللہ بن مبارک ، یحیی بن سعید قطان، عبد الرزاق، حسین بن علی الجعفی، وغیرہم۔

فضائل :۔ عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں :۔

آپ لوگوں میں سب سے زیادہ پرہیزگار تھے۔ میرے نزدیک آپ سے زیادہ فضیلت والا اب روے زمین پر کوئی دوسرا نہیں ۔

عبید اللہ بن عمر قوا ریری نے کہا:۔

جن مشائخ کو میں نے دیکھا آپ کو سب سے افضل پایا ۔

خلیفہ ہارون رشید کہتے ہیں:۔

امام مالک سے زیاد خشیت الہی والا، اور فضیل بن عیاض سے زیادہ تقوی والا میں نے علماء میں نہیں دیکھا۔

وصال ـ:۔ ۱۸۷ ھ میں آپ نے مکہ مکرمہ میں وصال فرمایا ، امام عادل (۱۸۷) مادۃ تاریخ ہے۔( تہذیب التہذیب۔ انوار امام اعظم)