أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ الۡحَـوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ‌ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جب حواریوں نے کہا : اے عیسیٰ ابن مریم : کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے خوان نازل کرسکتا ہے ؟ (عیسی نے) کہا : اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب حواریوں نے کہا : اے عیسیٰ ابن مریم : کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے خوان نازل کرسکتا ہے ؟ (عیسی نے) کہا : اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ انھوں نے کہا ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں یقین ہوجائے کہ آپ نے ہم سے سچ کہا تھا اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔ (المائدہ : ١١٣۔ ١١٢) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیتوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر آٹھ نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا ‘ اس آیت اور اس کے بعد والی آیتوں میں نویں نعمت کا ذکر فرمایا ہے اور وہ حواریوں کی فرمائش اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے خوان نعمت کا نازل ہونا ہے ‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا قبول ہونا ہے اور ان کے دعا کرنے میں ان کے بندہ ہونیکا اثبات ہے ‘ اور ان کی الوہیت کی نفی ہے اور اس وجہ سے لوگوں کا ان کی نبوت کی تصدیق کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ اور رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بہت بڑا احسان ہے۔ 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا تم اللہ کے لیے تیس روزے رکھو ‘ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرے گا ‘ کیونکہ جو شخص کسی کے لیے عمل کرے وہ اس کا اجر عطا فرماتا ہے۔ بنواسرائیل نے تیس روزے رکھے ‘ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے خیر کی تعلیم دینے والے ! آپ نے کہا تھا کہ جو شخص کسی کے لیے عمل کرے اس کا اجر اس کے ذمہ ہوتا ہے ‘ اور آپ نے ہمیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا تھا سو ہم نے رکھ لیے اور ہم جس کے لیے بھی تیس دن کام کرتے ‘ وہ ہمیں سیر کر کے کھانا کھلاتا ‘ تب انہوں نے کہا کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے خوان (نعمت) نازل کرسکتا ہے ؟ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٧٥۔ ١٧٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

نزول مائدہ کے فرمائشی معجزہ کی توجیہات : 

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حواریوں کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ ہم ایمان لے آئے اور اے اللہ ! تو گواہ ہوجا کہ ہم مسلمان ہیں ‘ اور اب ان کا یہ قول نقل فرمایا : کیا آپ کا رب آسمان سے خوان نازل کرسکتا ہے ؟ اور یہ قول اللہ کی قدرت پر شک کو واجب کرتا ہے۔ پھر وہ مسلمان کیسے ہوئے ؟ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں : 

(١) اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان کا حکم نہیں لگایا تھا ‘ بلکہ یہ صرف ان کا دعوی تھا کہ وہ مومن ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ تم اللہ ڈرو اگر ایمان والے ہو اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ایمان کامل نہیں تھا۔ 

(٢) وہ اپنے دعوی کے مطابق مومن تھے اور ان کا یہ کہنا کہ کیا اللہ ایسا کرسکتا ہے ؟ اللہ کی قدرت پر شک کی وجہ سے نہیں تھا ‘ بلکہ محض طمانیت قلب کے حصول کے لیے تھا ‘ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے حصول طمانیت کے لیے فرمایا تھا اے رب ! تو مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔ 

(٣) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھ رہے تھے کہ ایسا سوال کرنا آیا حکمت کے منافی تو نہیں ہے۔ 

(٤) یستطیع میں سین زائد ہے اور اس آیت کا معنی ہے کیا آپ کا رب آپ کی دعا قبول فرما لے گا۔ 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ سے ڈرو اس کا معنی یہ ہے کہ تم اللہ سے فرمائشی معجزہ نہ طلب کرو ‘ کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تم ضدی اور ہٹ دھرم ہو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم تقوی اختیار کرو اور اپنے مطالبات پر صبر کرو ‘ کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرما دیتا ہے۔ 

(آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ‘ ‘۔ (الطلاق : ٣۔ ٢) 

ترجمہ : جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں اسکا گمان بھی نہ ہوگا اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ 

حواریوں نے کہا ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں یقین ہوجائے کہ آپ نے ہم سے سچ کہا تھا اس آیت میں حواریوں نے جو اپنا عذر پیش کیا ہے اس کی حسب ذیل تقریریں ہیں : 

(١) ہم اس خوان کو کسی معجزہ کے طور پر طلب نہیں کر رہے ‘ بلکہ ہم پر بھوک غالب ہے اور ہمیں کہیں اور سے کھانا نہیں ملا ‘ اس لیے آپ سے دعا کی درخواست کی ہے۔ 

(٢) ہرچند کے ہمیں دلائل سے اللہ کی قدرت پر یقین ہے لیکن جب ہم نزول مائدہ کا مشاہدہ کریں گے تو ہمارا یقین اور پختہ ہوجائے گا 

(٣) ہرچند کہ ہم نے آپ کے تمام معجزات کی تصدیق کی ہے ‘ لیکن اس معجزہ کو دیکھ کر ہمارا عرفان اور یقین اور پختہ ہوجائے گا۔ 

(٤) اس سے پہلے جو آپ کے معجزات تھے ان سب کا تعلق زمین سے تھا اور اس معجزہ کا تعلق آسمان سے ہوگا ‘ اس کو دیکھ کر ہمارے ایمان میں مزید تقویت ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 112