” جنت البقیع”

بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے بکثرت پائے جاتے ہوں اور چونکہ بقیع قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے عوسج یعنی غرقد کے پیڑ بکثرت تھے اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع غرقد پڑ گیا، اس کا محل وقوع یہ ہے کہ یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں واقع ہے، اس کے ارد گرد مکانات اور باغات تھے اور تیسری صدی میں جو مدینہ منورہ کی فصیلی دیوار تعمیر ہوئی اس سے یہ ملا ہوا تھا، اس فصیل کی تجدیدات متعددبار ہوئی ہے، جن میں آخری تجدید عثمانی ترکی دور میں سلطان سلیمان قانونی کے زمانہ میں ہوئی، پھر اس ملک میں امن قائم ہوجانے کے بعد اس فصیلی دیوار کو منہدم کر دیا گیا، پھر مسجد نبوی شریف کی آخری توسیع میں اس قبرستان اور مسجد نبوی شریف کے درمیان جو مکانات تھے ان سب کو منہدم کر دیا گیا، ان دنوں کے درمیان جو محلہ آباد تھا، وہ اغوات کے نام سے مشہور تھا، مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں اب یہ بقیع قبرستان مسجد نبوی شریف کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات مہاجرین رضوان اللہ اجمعین نے جب مدینہ منورہ کو ہجرت کر کے اپنا مسکن و وطن بنایا، تو اس شہر مبارک میں مزید تعمیری و تمدنی ترقی ہونے لگی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ کوئی مناسب جگہ مسلمانوں کی اموات کی تدفین کے لیے متعین ہو جائے،اسی مقصد کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس(بقیع کی)جگہ تشریف لائے،تو ارشاد فرمایا: مجھے اس جگہ(یعنی بقیع) کا حکم(قبرستان کے لیے)دیا گیا ہے۔(مستدرک امام حاکم 11/193)اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (بقیع کی)جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم فرمایا تھا اور یہیں سے اس جگہ یعنی بقیع قبرستان کی فضیلت کی ابتدا ہوتی ہے۔

اس قبرستان میں تقریباً دس ہزار صحابہ، کئی امہات المؤمنین، اولاد محمد، اہل بیت، اولیاء اللہ، صوفیا، علماء،محدثین اور دیگر مدفون ہیں۔

اولین قبور

سب سے پہلے انصار مدینہ میں اسعد بن زرارہ اور عثمان بن مظعون اس قبرستان میں دفن کیے گئے، جنت البقیع میں قبروں پر ایسے کتبے یا نشانات نہیں تھے، جن سے ابتدائی دفن شدہ شخصیات کا علم آسانی سے ہو سکے۔ لیکن بعد میں مؤرخین نے تحقیق کی روشنی میں کئی اہم شخصیات کی قبروں کی نشان دہی کی تھی۔ اور وقت گزرنے کے بعد جب زیادہ قبریں ہو گئیں تو بہت سے مزارات اور گنبد تعمیر کیے گئے جو پچھلی صدی تک باقی تھے۔ اور آل سعود نے یوم الہدم کے تاریخی سیاہ واقعے میں سب اجاڑ دیے۔

خاندان رسالت

اولاد

ام کلثوم بنت محمد

رقیہ بنت محمد

زینب بنت محمد

ازواج مطہرات

عائشہ بنت ابی بکر

سودہ بنت زمعہ

حفصہ بنت عمر

زینب بنت خزیمہ

ام سلمہ

جویریہ بنت حارث

ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان

صفیہ بنت حیی بن اخطب

(خدیجہ بنت خویلد اور میمونہ بنت حارث مکہ میں دفن ہیں۔)

اہل بیتترميم

حسن بن علی

فاطمہ زہرا

محمد باقر

عباس بن عبد المطلب

زین العابدین

جعفر صادق

صحابہ و دیگر شخصیات

عثمان بن مظعون، صحابی پہلے مدفون بقیع

اسعد بن زرارہ، صحابی دوسرے مدفون بقیع

عثمان بن عفان، داماد رسول و تیسرے خلیفہ راشد

اروی بنت کریز صحابی عثمان بن عفان کی والدہ۔

عبدالرحمن بن عوف، صحابی عشرہ مبشرہ میں سے ایک۔

سعید بن زید، صحابی عشرہ مبشرہ میں سے ایک۔

سعد بن معاذ، صحابی۔

ابو سفیان بن حرب، صحابی۔

سعید بن مسیب، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

عروہ بن زبیر، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

قاسم بن محمد بن ابی بکر، تابعی سات فقہائے مدینہمیں سے ایک۔

ابوبکر بن عبدالرحمان، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

ابان بن عثمان، تابعی فقیہ مدینہ منورہ۔

سالم بن عبد اللہ، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

خارجہ بن زید بن ثابت، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

سلیمان بن یسار، تابعی سات فقہائے مدینہ میں سے ایک۔

ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف، تابعی فقیہ مدینہ منورہ۔

مالک بن انس، فقہ مالکی کے بانی و فقيہ مسلم۔

شمس الدین سخاوی، محدث ومؤرخ مؤرخ مصري۔

امام شامل، قفقاز۔

شیخ محمد غزالی سقا عالم ومفكر اسلامی

محمد سید طنطاوی ، شيخ الأزهر۔

محمد ادریس سنوسی، ملك لیبیا السابق۔

عبد المجید ثانی، خلیفہ سلطنت عثمانیہ