تحریر ابن طفیل الأزہری (محمد علی)

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی خصوصیات ( أیسی خوبیاں جو کسی أور میں نہیں تھیں) :

پہلی خصوصیت:

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں مولا علی رضی اللہ عنہ کو دوسری شادی کی إجازت نہ تھی ، أور یہ آپکی أیسی خصوصیت ہے جو قیامت تک کسی بھی عورت کو حاصل نہیں ہوگی.

( متفق علیہ ؛ صحیح بخاری : 2943 ، صحیح مسلم : 2449 )

دوسری خصوصیت:

سیدہ کائنات کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے أپنے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا قرار دیا .

( متفق علیہ ؛ صحیح بخاری : 2943 ، صحیح مسلم : 2449 )

تیسری خصوصیت:

آپکے وصال کی خبر خود حضور صلی الله علیہ وسلم نے دی ، أور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دیتے ہوئے فرمایا: میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملوں گی یعنی وصال ہوگا۔

( سنن ترمذی : 3872 ، حدیث حسن صحیح غریب ہے )

چوتھی خصوصیت:

آپ مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہیں.

( صحیح بخاری: 3426 ، 3427 )

پانچویں خصوصیت:

آپ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں سوائے حضرت مریم بنت عمران کے رضی اللہ عنہن.

( مسند أبی یعلی : 1169 ، إمام ہیثمی فرماتے ہیں: اس سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں )

چھٹی خصوصیت:

آپ کو کبھی بھوک نہیں لگی کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے دعاء فرمائی تھی .

أور آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

ائے عمران ابن حصین ! مجھے أس دعاء کے بعد کبھی بھوک نہیں لگی.

( دلائل النبوہ لامام بیہقیقی ، إمام ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند میں عتبہ ابن حمید ہے ، ابن حبان وغیرہ نے أسکی توثیق کی ہے ، أور ایک جماعت نے أسکی تضعیف کی ہے ، أور باقی رجال ثقہ ہیں)

ساتویں خصوصیت :

آپ رضی اللہ عنہا کی رضاء میں اللہ کی رضاء ہے ، أور آپکے غضب میں اللہ کا غضب ہے مطلب جس سے آپ راضی ہوگیں أس سے اللہ راضی ہے ، أور جس سے آپ ناراض ہوئیں أس سے اللہ ناراض ہوتا ہے.

( المعجم الکبیر للطبرانی : 182 ، إمام ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں : اسکی سند حسن ہے)

لیکن رافضی اس حدیث کا غلط مطلب نکالتے ہیں أنکا رد یہ ہے کہ سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ کائنات کو ذاتی رنجش نہیں دی بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے شریعت پہ عمل کیا لہذا شریعت پہ عمل کی وجہ سے ناراضگی اس حدیث کی وعید میں شامل نہیں ، أگر سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ اس وعید میں شامل ہیں تو پھر مولا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہونگے صحیح بخاری کی أس حدیث سے جسکو ہم پہلی خصوصیت کے تحت لکھ چکے ہیں

آٹھویں خصوصیت:

آپکو اور آپکی ذریت کو دوزخ پر حرام کردیا

( مسند البزار : 1829 ، إمام ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں:

اس حدیث میں عمرو بن عتاب ہے ، أور کہا گیا: ابن غیاث ضعیف ہے)

عبد عاجز کہتا ہے : مسند البزار میں عمرو بن غیاث ہے بعض نے عمر بن غیاث بھی لکھا ہے أور الموضوعات لابن الجوزی میں عمر بن عتاب ہے ایک سند میں أور اسکے علاوہ بھی کلام ہے یہاں پہ إسی پہ اختصار کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں:

کیا سب سادات دوزخ سے آزاد ہیں؟

نہیں،

اس حدیث میں ساری ذریت و سادات مراد نہیں بلکہ صرف حسن و حسین رضی اللہ عنہما مراد ہیں ،

کیونکہ ساری ذریت مراد ہو تو یہ دلائل قطعیہ کے خلاف ہے ، أور یہ حدیث دلائل قطعیہ کی تخصیص کا درجہ نہیں رکھتی کیونکہ ضعیف ہے أور ضعیف سے ثبوت ثابت نہیں ہوتا ، أور إمام حسن و حسین کے ساتھ خاص اس لیے ہے کہ أنکی تخصیص دیگر أحادیث میں وارد ہے.

إسی لیے تاریخ خطیب بغدادی میں ہے کہ إمام محمد ابن علی رضاء سے إس حدیث کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

یہ بشارت حسن و حسین ( رضی اللہ عنہما) کے ساتھ خاص ہے.

( تاریخ بغداد : 3/54 )

نویں خصوصیت:

وصال کے وقت آپکو غسل نہیں دیا گیا ، کیونکہ آپکو معلوم ہوگیا تھا جسکی وجہ سے آپ نے غسل فرمایا ، لہذا آپ اس دنیا سے گئیں تو بھی آپکے جسد اقدس کو کسی نے نہیں دیکھا لہذا طاہرہ و نقیہ گئیں ۔

( مسند إمام أحمد : 27615 ، إمام سیوطی الثغور الباسمہ میں فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند جید ہے ، أور اس میں ابن اسحاق ہیں ، أور روایت عنعنہ ہے لیکن ایک مرسل روایت اسکی شاہد ہے ، أور ابن حجر العسقلانی نے ابن جوزی کا رد کرتے ہوئے فرمایا: یہ حدیث موضوع نہیں ہے )

دسویں خصوصیت:

أما عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

مینے حضور صلی الله علیہ وسلم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر شکل و سیرت و ہدایت میں تشابہ میں کسی کو نہیں دیکھا.

( سنن الترمذی : 3872 ، حدیث حسن صحیح غریب ہے)

عبد عاجز نے حوالے الثغور الباسمہ کے محقق سے نقل کیے ہیں ،

أور اللہ کے حضور دعاء ہے کہ رب کائنات اس دور فتن میں سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کی حیاء و پاکیزگی میں سے کچھ حصہ ہمارے معاشرے کی عورتوں کو بھی عطاء فرمائے۔

آمین یارب العالمین .