أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذۡ اَوۡحَيۡتُ اِلَى الۡحَـوَارِيّٖنَ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِىۡ وَبِرَسُوۡلِىۡ‌ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَاشۡهَدۡ بِاَنَّـنَا مُسۡلِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب میں نے حواریوں پر الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے اللہ ! ) تو گواہ ہوجا کہ بیشک ہم مسلمان ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب میں نے حواریوں پر الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے اللہ ! ) تو گواہ ہوجا کہ بیشک ہم مسلمان ہیں۔ (المائدہ : ١١١) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی حکمتیں : 

حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار اور ان کے مخلص اصحاب تھے ‘ حور کا معنی ہے کسی چیز کو صاف کرنا اور ان لوگوں نے اپنے نفوس کا تزکیہ کرکے پاک اور صاف کرلیا تھا ‘ اس آیت میں مذکور ہے میں نے حواریین کی طرف وحی کی ‘ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ جس کلام کو اپنے نبی کی طرف نازل فرماتا ہے ‘ خواہ فرشتے کے واسطے سے ہو یا بلاواسطہ اس کو وحی کہتے ہیں ‘ اس لیے اس آیت کا معنی ہے ہم نے حواریین کی طرف الہام کیا۔ قرآن مجید کی اور بھی کئی آیتوں میں وحی بمعنی الہام ہے : 

(آیت) ” واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ “۔ (القصص : ٧) 

ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام فرمایا کہ انہیں دودھ پلاؤ۔ 

(آیت) ” واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون “۔ (النحل : ٦٨) 

ترجمہ : اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا ‘ اور درختوں میں اور ان چھپروں میں جنہیں لوگ اونچا بناتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں ‘ سو وہ ایمان لے آئے ‘ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہوئی نعمتوں کو شمار کرا رہا ہے ‘ اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ حواریوں کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں نعمت کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی انسان کا اس درجہ میں ہونا کہ لوگ اس کے قول کو قبول کریں ‘ اس کو محبوب بنائیں اور اس کی اطاعت کریں ‘ اس کے ماننے پر ان کی نجات موقوف ہو ‘ یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ ان آیات کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا ؟ پھر جن نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ان سب کا تعلق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے نہ کہ ان کی والدہ سے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیٹے کو جو شرف اور مقام ملتا ہے ‘ وہ اس کی ماں کے لیے عزت اور سرخ روئی کا باعث ہوتا ہے ‘ سو یہ نعمتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ہیں اور ضمنا اور بالواسطہ ان کی ماں پر بھی ہیں۔ 

جس زمانہ میں جس قسم کے کمال کا چرچا اور شہرت ہوتی ہے ‘ نبی کو اس زمانہ میں اسی نوع کا ایسا کمال دے کر بھیجا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کمال کے ماہرین اس کی نظیر لانے سے قاصر اور عاجز ہوتے ہیں اور یہی ان کا معجزہ ہوتا ہے جو ان کی نبوت کی دلیل قرار پاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادوگری اور شعبدہ بازی کا چرچا تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور یدبیضا دے کر بھیجا جو ان کی جادوگری پر غالب آگیا ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب اور حکمت کا چرچا تھا تو آپ کو حکمت کا ایسا کمال دے کر بھیجا کہ اس زمانہ کے اطباء اور حکماء اس کی نظیر لانے سے عاجز ہوگئے اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زبان دانی اور فصاحت و بلاغت کا زور تھا ‘ تو آپ کو قرآن مجید دے کا بھیجا جس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال اس زمانہ میں کوئی لاسکا ‘ نہ آج تک کوئی لاسکا ہے۔ علم اور ادب میں دن بہ دن ترقی ہو رہی ہے اور اسلام کے مخالفین بھی بہت ہیں ‘ اگر اس کی کسی ایک سورت کی بھی مثال کا لانا ہوتا تو مخالفین اب تک لا چکے ہوتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 111