تنبیہ:

جو لوگ اہل علم نہیں وہ آخر میں صرف خلاصہ کلام کو پڑھ کر حکم جان سکتے ہیں.

سؤال:

ڈراپس( Drops) کی جو مختلف أنواع ہیں أنکی وضاحت فرمادیں ، کیا أن سے روزہ پر کوئی أثر پڑھتا ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی):

ڈراپس یعنی جو دوائی کے قطرات کا استعمال ہوتا ہے اسکی درج ذیل أقسام ہیں:

۔ کان میں استعمال ہونے والے قطرات

۔ آنکھ میں استعمال ہونے والے قطرات

۔ ناک میں استعمال ہونے والے قطرات

ان مسائل میں اختلاف فقہاء قدامی أور طب معاصر میں طب کی وجہ سے ہے ، کیونکہ یہ مسائل طبیہ ہیں تو اہل طب کی راۓ راجح ہوگی اور پھر اسی اعتبار سے فقہاء کرام کا حکم لگے گا۔۔

جیسے فقہاء کرام بعض مسائل میں فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ طبیہ ہے تو لہذا طب کا اعتبار ہوگا جیسے إمام ابن قدامہ مغنی میں ، امام عینی بنایہ اور امام نووی مجموع وغیرہ میں اسکی تصریح کرچکے ہیں اور دیگر فقہاء بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کان میں استعمال ہونے والے قطرات کا حکم:

اب ہم کان میں جو قطرات ڈالے جاتے ہیں اسکا جائزہ لیتے ہیں متقدمین فقہاء کرام اور طب معاصرہ کے ہاں:

پہلی راۓ:

متقدمین فقہاء کرام کے ہاں کان میں قطرات ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یہی مذاہب اربعہ کا مفتی بہ قول ہے

(تحفۃ الملوک، 1/143 ، مواہب الجلیل، 2/426 ، روضۃ الطالبین ، 2/525 ، کافی، 3/352 )

دوسری راۓ:

بعض أئمہ شافعیہ کے ہاں روزہ نہیں ٹوٹے گا جیسے قاضی حسین اور امام غزالی کی راۓ ہے

اور أئمہ حنفیہ فرماتے ہیں پانی ڈالنے سے نہیں ٹوٹے گا

( سابقہ مصادر کا مطالعہ فرمائیں)

طب معاصر کی راۓ:

کانوں میں ڈالی ہوئی کوئی بھی شے جوف تک نہیں پہنچتی تو لہذا روزہ نہیں ٹوٹے گا

دار الافتاء المصریہ کی بھی راۓ ہے کہ اگر نہیں پہنچتا تو نہیں ٹوٹے گا

( ویب سائٹ ، دار الافتاء المصریہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھ میں استعمال ہونے والے قطرات کا حکم:

اس میں متقدمین فقہائے کرام کی دو راۓ ہیں:

پہلی:

روزہ نہیں ٹوٹتا

یہ أئمہ حنفیہ اور شافعیہ کی راۓ ہے

(مبسوط، 3/67 ، الأم، 7/145 )

دوسری راۓ:

روزہ ٹوٹ جاتا ہے

یہ أئمہ مالکیہ حنابلہ کی راۓ ہے

( مواہب الجلیل، 2/425 ، حاشیہ دسوقی، 1/524 ، الفروع ، ابن مفلح ، 3/46 )

طب معاصر :

طب معاصر کے ہاں أئمہ حنفیہ شافعیہ کی راۓ پر عمل ہوگا یعنی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

( قرارت الندویہ الفقہیہ ، مجمع الفقہ الاسلامی، دسواں عدد، 2/464 )

تنبیہ: اس مسئلہ کی بحث اکتحال صوم میں آتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناک میں قطرات کے استعمال کرنے کا حکم:

مذاہب اربعہ کے ہاں روزہ ٹوٹ جائے گا

دلیل:

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم:

۔۔بالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائم…

( تخريج حديث آکسیجن گیس کے سلنڈر والے مسئلہ میں گزر چکی ہے)

طب معاصر:

طب معاصر کے ہاں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا

اور یہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلاصہ کلام اور بندہ فقیر کا عمل:

درج بالا أقوال اور طب معاصر کو دیکھتے ہوۓ کان اور آنکھ کے قطرات( Drops )کے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

لیکن اگر ڈاکٹرز کسی کو کہیں کہ آپکے کان کے قطرات کا اثر معدہ تک جاۓ گا تو پھر وہ قضاء کرے کیونکہ کان کے پردے کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے لہذا جس قدر ہو احتیاط کریں کان أور آنکھ کے معاملے میں بھی

اور ناک کے قطرات (Drops ) کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جائے گا.

واللہ اعلم