حکایت نمبر218: جنَّتی محل کی ضمانت

حضرتِ سیِّدُناسَری بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ” ایک شخص خُرَاسَان سے بصرہ آیا اور وہیں رہنے لگا۔ اس کے پاس دس ہزار درہم تھے ، جب حج کا پُربہار موسم آیا تو اس خُرَاسَانی نے اپنی زوجہ کے ساتھ حج پر جانے کا ارادہ کیا۔ اب یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ یہ دس ہزار درہم کس کے پاس امانت رکھے جائیں؟۔ لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: ” تم اپنی رقم حبیب ابو محمد عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس رکھ دو ۔” چنانچہ وہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس آیااورکہا : ” حضور! میں اور میری اہلیہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس دس ہزار درہم ہیں آپ یہ درہم رکھ لیں اور ہمارے لئے بصرہ میں ایک اچھا ساگھر خرید لیں۔”یہ کہہ کر اس نے ساری رقم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے کی اور اپنی زوجہ کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اگر ہم ان دس ہزار درہم کا آٹا خریدلیں اور فقیروں پر صدقہ کردیں تو کیسا رہے گا ؟ لوگوں نے کہا:” حضور ! یہ رقم تو اس شخص نے آپ کے پاس اس لئے رکھوائی تھی کہ آپ کوئی مکان اس کے لئے خرید لیں ۔”ارشاد فرمایا: ” میں یہ تمام رقم صدقہ کر کے اس شخص کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنت میں گھر خریدوں گا ، اگر وہ اس گھر پر راضی ہوا تو ٹھیک،ورنہ ہم اس کی رقم واپس کردیں گے۔” پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آٹا اور روٹیاں منگواکر فقراء و مساکین میں تقسیم فرمادیں ۔”

جب وہ خُرَاسَانی ،حج کر کے واپس بصرہ آیا تو حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: ”اے ابو محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! میں نے دس ہزاردرہم آپ کے پاس رکھوائے تھے کہ آپ میرے لیے مکان خرید لیں اگر آپ نے مکان نہیں خریدا تو میری رقم مجھے واپس کردیں تاکہ میں خود کوئی مکان خریدلوں ۔” حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا: ”اے میرے بھائی ! میں نے تیرے لئے ایسا شاندار گھر خریدا ہے جس میں بہت عمدہ محل ، نہریں ،میوے اور پھل دار درخت ہیں۔” یہ سن کر وہ خُرَاسَانی اپنی زوجہ کے پاس گیا او رکہا:” حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ہمارے لئے ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے جنت میں ایک گھر خرید لیا ہے۔” اس کی زوجہ نے کہا:” ٹھیک ہے یہ تو بہت اچھا ہوا۔ میں امید رکھتی ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے عہد کو پورا فرمائے گا۔لیکن کیا معلوم کہ ہم ان سے پہلے ہی سفر آخرت کی طرف روانہ ہوجائیں ، تم ایسا کرو حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے ایک رقعہ لکھوا لو کہ وہ ہمیں جنت میں ایک گھر دلوانے کے ضامن ہيں ۔”

چنانچہ وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا اور کہا:”اے ابو محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! آپ نے جو گھر ہمارے لئے خرید ا ہے وہ ہمیں قبول ہے ، آپ ہمارے لئے رقعہ لکھ دیں کہ آپ جنت میں گھر دِلوانے کے ضامن ہیں ۔” فرمایا: ”ٹھیک ہے میں رقعہ لکھ دیتا ہوں۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس طرح رقعہ لکھا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

” یہ ضمانت نامہ ہے اس بات کا کہ حبیب ابو محمد نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے فلاں خُرَاسَانی شخص کے لئے دس ہزار درہم کے عوض جنت میں ایک ایسا گھر خریدا ہے جس میں محلات ، نہریں اور پھلدار درخت ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کر م پر ہے کہ فلاں شخص کو ایسی صفات سے متصف گھر دے کر حبیب عجمی کو اس کے عہد سے بری کردے۔ ”

خُرَاسَانی وہ رقعہ لے کرخوشی خوشی اپنے گھرآگیا۔ ابھی اس واقعہ کو چالیس(40)دن ہی ہوئے تھے کہ وہ بیمار ہوگیا۔ اس نے اپنی زوجہ کو وصیت کی” جب مجھے غسل دے کر کفن پہنایا جائے تو یہ رقعہ میرے کفن میں رکھوا دینا ۔” حسبِ وصیت رقعہ اس کے کفن میں رکھ دیا گیا ۔ دفن کے بعد لوگو ں کو اس کی قبر پر ایک پرچہ ملا جس پر لکھا تھا:

” یہ حبیب عجمی کے لئے اس گھر کا براء ت نامہ ہے جسے اس نے فلاں شخص کے لئے خریدا تھا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خُرَاسَانی کو ایسا گھر دے دیا ہے جس کا حبیب عجمی نے عہدکیا تھا ۔”

لوگ یہ پرچہ لے کر حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہ رقعہ پڑھ کر رونے لگے پھر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور فرمایا :” یہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے میرے لئے براء ت نامہ ہے۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)