سؤال :

رمضان مبارک میں أگر عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھی ہو تو کیا وتر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

یہ مسئلہ فقہائے أحناف کے درمیان مختلف فیہ ہے أنکے ہاں درج ذیل آراء ہیں:

پہلی رائے:

أگر عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں ہڑھی تو تراویح و وتر دونوں جماعت سے نہیں پڑھے گا.

دوسری رائے:

أگر تراویح جماعت سے نہ پڑھی تو وتر جماعت سے نہیں پڑھے گا.

أگر تراویح کا کچھ حصہ جماعت سے پڑھا تو وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے.

تسیری رائے:

أگر عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو تراویح جماعت سے پڑھ سکتا ہے لیکن وتر تنہاء پڑھے گا

( یہ آراء شرح منیۃ المصلی للحلبی میں مذکور ہیں ، ص: 410 ، تیسری رائے حاشیہ ابن عابدین میں ، 2/28)

چوتھی رائے:

عشاء کی نماز أور تراویح چاہے جماعت سے پڑھی یا نہ پڑھی وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے کیونکہ وتر جماعت سے پڑھنا ایک مستقل سنت ہے نہ کہ کسی کی تابع

أور عبد عاجز کے ہاں یہ رائے ہی أحسن و أصوب ہے ظاہر دلیل کی روشنی میں.

أور

إمام طحطاوی فرماتے ہیں:

لأنه ليس بتبع للتراويح ولا للعشاء عند الإمام رحمه الله.

ترجمہ :

کیونکہ إمام (أبو حنیفہ) رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ (وتر) نہ تو تراویح کے تابع ہے أور نہ ہی عشاء کے تابع.

( حاشیۃ علی الدر المختار للطحطاوی ،1/297)

لہذا إمام أبو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں جماعت سے وتر پڑھنا ایک مستقل سنت ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی عشاء کی نماز جماعت سے پڑھے یا نہ پڑھے لیکن وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے.

اعتراض:

وتر عشاء کے تابع ہیں تو جس نے عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھی وہ وتر بھی جماعت سے نہیں پڑھے گا.

رد:

أگر وتر تابع ہونے کی وجہ سے وہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا تو یہ تراویح وتر سے زیادہ عشاء کے تابع ہے پھر جو شخص عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھے وہ تراویح بھی جماعت کے ساتھ نہ پڑھے.

أور دوسرا وتر کو عشاء کے تابع کہنا إمام کی رائے کے خلاف ہے جیسے کہ إمام طحطاوی نے بیان کیا.

تیسرا یہ کہ متابعت وقت میں ہے نہ کہ وصف میں.

خلاصۂ کلام:

عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی چاہے نہ پڑھی لیکن وتر ہر حالت میں جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں.

واللہ أعلم