أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اللّٰهُ اِنِّىۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ‌ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّىۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ۞

ترجمہ:

اللہ نے فرمایا بیشک میں اس خوان کو تم پر نازل فرمانے والا ہوں ‘ پھر تم میں سے جو شخص اس کے بعد کفر کرے گا تو میں ضرور اس کو ایسا عذاب دوں گا جو تمام جہان والوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے فرمایا بیشک میں اس خوان کو تم پر نازل فرمانے والا ہوں ‘ پھر تم میں سے جو شخص اس کے بعد کفر کرے گا تو میں ضرور اس کو ایسا عذاب دوں گا جو تمام جہان والوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا۔ (المائدہ : ١١٥) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم پر اس مائدہ کو نازل کرنے اور تم کو اس کا طعام کھلانے کے بعد جس نے میرے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا اور میرے احکام کی اطاعت کرنے سے روگردانی کی تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو اس سے پہلے کسی کو نہیں دیا ہوگا۔ قتادہ نے بیان کیا ہے کہ ان کو خنزیر بنادیا گیا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا سب سے زیادہ عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا۔ منافقین کو ‘ اصحابہ مائدہ میں سے کافروں کو اور آل فرعون کو۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

نزول مائدہ کی کیفیت کی تحقیق : 

امام ابو محمد عبداللہ بن محمد المعروف بابی الشیخ الاصبہانی المتوفی ٣٩٦ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

سلمان الخیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے مائدہ (طعام کے خوان) کا سوال کیا تو آپ نے اس کو سخت ناپسند کیا اور فرمایا اے لوگو اللہ سے ڈرو اور اللہ نے تم کو جو رزق حلال زمین سے دیا ہے ‘ اس پر قناعت کرو اور آسمان سے مائدہ کا سوال نہ کرو ‘ کیونکہ اگر وہ تم پر نازل کیا گیا تو وہ تمہارے رب کی طرف سے نشانی ہوگی۔ تم سے پہلے قوم ثمود نے اپنے نبی سے نشانی کا سوال کیا تھا ‘ وہ اس نشانی میں مبتلا کیے گئے ‘ پھر اس نشانی کے تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے وہ ہلاک کردیئے گئے۔ جب ان کی قوم نے اصرار کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نماز پڑھی اور بہت گریہ وزاری سے دعا کی : اے اللہ ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما ‘ تو اللہ تعالیٰ نے دو بادلوں کے درمیان ان پر سرخ دستر خوان نازل کیا ‘ بنو اسرائیل اس کو نازل ہوتے دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ ہو کر بار بار دعا کررہے تھے ‘ اے اللہ ! اس خوان کو رحمت بنانا اور اس کو غضب نہ بنانا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے کہ وہ دستر خوان حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر ٹھہر گیا ‘ حواریوں کو اس سے ایسی خوشبو آئی جیسی انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گرگئے ‘ یہود اس خوان کو دیکھ کر غیظ وغضب سے جل گئے۔ حواری اس دستر خوان کے گرد بیٹھ گئے ‘ وہ خوان ایک رومال سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو شخص سب سے زیادہ عبادت گزار اور اللہ کا شکر گزار ہوگا ‘ وہ اس کو کھولے گا۔ حواریوں نے کہا یا روح اللہ ! آپ ہی اس کو کھولنے کے لائق ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دوبارہ وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور اللہ سے رو رو کر اپنے قوم کے لیے برکت کی دعا کی ‘ پھر اس کو کھولا ‘ تو اس میں بہت بڑی بھنی ہوئی مچھلی تھی جس میں کانٹے نہیں تھے اور اسے گھی بہہ رہا تھا اور اس کے گرد ہر قسم کی سبزیاں تھیں اور نمک اور سرکہ تھا اور پانچ روٹیاں تھیں۔ ایک روٹی پر زیتوں ‘ ایک پر کھجور اور باقیوں پر انار تھے۔ 

شمعون نے کہا یا روح اللہ ! یہ طعام دنیا کے طعام میں سے ہے یا آخرت کے طعام میں سے ؟ آپ نے فرمایا یہ نہ دنیا کا طعام ہے نہ آخرت کا ‘ اس کو اللہ نے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو اور اپنے رب کا شکر ادا کرو ‘ وہ تم کو مزید عطا فرمائے گا۔ انہوں نے کہا یا روح اللہ ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس نشانی میں ایک اور نشانی دکھائیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا سبحان اللہ ! کیا تمہارے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے جو اور نشانی کا سوال کرتے ہو۔ جب انہوں نے اصرار کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس مچھلی سے اے مچھلی ! تو اللہ کے حکم سے دوبارہ پہلے کی طرح زندہ ہوجا ‘ وہ مچھلی اللہ کی قدرت سے زندہ ہوگئی۔ وہ شیر کی طرح منہ پھاڑنے لگی اور اس کی آنکھیں گردش کرنے لگیں اور وہ پھڑکنے لگی ‘ حواری خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پہلے تم نے نشانی کا مطالبہ کیا تھا ‘ اب نشانی دیکھ کر ڈرتے کیوں ہو ؟ پھر آپ نے مچھلی سے فرمایا اے مچھلی ! اللہ کے حکم سے دوبارہ پہلے کی طرح بھنی ہوئی ہوجا ‘ پھر انہوں نے کہا اے روح اللہ ! آپ کھانے کی ابتداء کریں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! وہی کھانے کی ابتداء کرے گا جس نے اس کا مطالبہ کیا تھا۔ حواری اور اس کے اصحاب ڈرتے تھے کہ اس کے کھانے سے کہیں وہ مثلہ نہ ہوجائیں ‘ یا ان پر کوئی آفت نہ آجائے۔ تب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فقراء اور اپاہجوں کو بلایا کہ تم اللہ کے رزق اور اپنے نبی کی دعا سے کھاؤ‘ اللہ کے نام سے شروع کرو اور اللہ کے شکر پر ختم کرو ‘ تم پر کوئی آفت نہیں آگی۔ سو اس مائدہ سے تیرہ سو مردوں اور عورتوں نے کھایا ‘ اور ان میں سے ہر شخص سیر ہوگیا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حواریوں نے دیکھا وہ طعام اسی طرح تھا اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی تھی۔ پھر وہ مائدہ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور جس فقیر نے اس مائدہ سے کھایا تھا وہ غنی ہوگیا اور جس اپاہج نے کھایا وہ تندرست ہوگیا اور وہ لوگ تادم حیات اسی طرح رہے۔ پھر حواری اور ان کے اصحاب اس میں سے نہ کھانے پر پشیمان ہوئے اور تادم مرگ ان کے دل میں اس سے کھانے کی حسرت رہی۔ چند دنوں بعد پھر مائدہ نازل ہوا۔ پھر ہر جگہ سے امیر اور غریب ‘ صحت مند اور بیمار ‘ چھوٹے اور بڑے ‘ بنو اسرائیل اس پر ٹوٹ پڑے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تو آپ نے باری مقرر کردی۔ ایک دن مائدہ نازل ہوتا اور ایک دن نازل نہ ہوتا ‘ چالیس دن تک یہی معمول رہا ‘ جب تک وہ کھاتے رہتے مائدہ ان کے سامنے رہتا اور جب وہ کھا چکتے تو مائدہ آسمان کی طرف اٹھ جاتا ‘ وہ اس کو دیکھتے رہتے ‘ حتی کہ وہ ان کی نگاہوں سے غائب ہوجاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ اس مائدہ سے یتیموں ‘ فقیروں اور اپاہجوں کو کھلایا جائے اور امیر لوگوں کو نہ کھلایا جائے۔ تب امیروں نے اس میں شک کرنا شروع کردیا اور اس کے متعلق بری باتیں پھیلا دیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ‘ کہ آپ ہمیں مائدہ کے نزول کے متعلق مطمئن کریں ‘ کیونکہ بہت لوگ اس میں شک کرتے ہیں (کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے یا نہیں) حضرت عسی (علیہ السلام) نے فرمایا بخدا ! اگر تم نے اس شک کیا تو تم ہلاک ہوجاؤ گے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے اسی شرط سے مائدہ نازل کیا تھا کہ جو اس کے بعد کفر کرے گا میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں ایسا عذاب کسی کو نہ دیا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ‘ اے اللہ ! اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تم ان کو بخش دے تو تو بہت غالب اور حکمت والا ہے۔ شام کو جب شک کرنے والے بستروں پر اپنی عورتوں کے ساتھ لیٹے تو ان کی اچھی صورتیں تھیں اور رات کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخ کر کے خنزیر بنادیا ‘ صبح کو وہ کوڑے اور گندگی کے ڈھیروں پر گندگی تلاش کر کے کھانے لگے۔ پھر باقی بنو اسرائیل خوف زدہ ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کرنے لگے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باہر نکلتے تو وہ خنزیر دوڑتے ہوئے آپ کے پاس آتے اور آپ کے پیروں پر گرتے اور زار وقطار روتے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ہر شخص کا نام لے لے کر پکارتے ‘ ان میں سے ہر ایک اپنا سر ہلاتا تھا اور بول نہیں سکتا تھا۔ آپ فرماتے ‘ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا تھا ‘ گویا میں پہلے سے یہ دیکھ رہا تھا ‘ وہ تین دن تک اسی طرح بلکتے رہے اور ان کے گھر والے ان کو دیکھ کر روتے رہے ‘ لوگوں کے دل ان کا حال دیکھ کر پگھل گئے ‘ پھر چوتھے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ ان پر موت طاری کردے ‘ سو چوتھے روز وہ مرگئے اور زمین پر ان کا مردہ جسم نہیں دکھائی دیا ‘ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے مردہ اجسام کہاں گئے۔ البتہ ‘ یہ ایسا عذاب تھا جس سے ان لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور روئے زمین پر ان کا نام ونشان باقی نہیں رہا۔ (کتاب الغظمہ ‘ ص ٣٦٧۔ ٣٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

اس حدیث کو بعض مفسرین نے اختصار سے اور بعض نے تفصیل سے بعض نے اپنی سند سے اور بعض نے بغیر سند کے بیان کیا ہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے : (زاد المسیر ‘ ج ٢‘ ص ٤٦١۔ ٤٥٩‘ تفسیر کبیر ‘ ج ٣‘ ص ٤٧٢‘ الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ٢٨٢‘ تفسیر ابن کثیر ‘ ج ٢ ص ٦٨٥۔ ٦٨٢‘ البیضاوی مع الکازرونی ‘ ج ٢‘ ص ٣٨٢۔ ٣٨١‘ الدرالمنثور ‘ ج ٢‘ ص ٣٤٧۔ ٣٤٦‘ تفسیر ابو السعود علی ہامش التفسیر الکبیر ‘ ج ٤‘ ص ٩٧۔ ٩٥‘ تفسیر الجمل ‘ ج ١‘ ص ٥٤٦۔ ٥٤٥‘ روح المعانی ‘ ج ٧‘ ص ٦٤۔ ٦٣‘ قصص الانبیاء للثعلبی ‘ ص ٤٠٢۔ ٤٠١‘ تفسیر السمر قندی ‘ ج ١‘ ص ٤٦٨) 

علامہ سیوطی نے اس حدیث کو حکیم ترمذی کی نوادر الاصول کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے۔ میں نے ان کی چاروں جلدیں دیکھیں ‘ ان میں یہ حدیث نہیں ہے۔ امام رازی ‘ علامہ سمرقندی اور علامہ قرطبی نے اس حدیث کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے ‘ باقی سب نے پوری تفصیل کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے۔ ان مفسرین نے بغیر کسی جرح کے اس روایت کو نقل کردیا ہے۔ علامہ ابو الحیان اندلسی نے لکھا ہے کہ میں اس روایت کے ذکر سے اعراض کرتا ہوں ‘ کیونکہ اس روایت میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس پر قرآن مجید کی آیت دلالت کرتی ہو اور سب سے اچھی وہ روایت ہے جس کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا ‘ اس میں گوشت اور روٹیاں تھیں۔ بنو اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس میں سے بچا کر نہ رکھیں اور خیانت نہ کریں ‘ انہوں نے اس حکم کی معصیت کی تو یہ مائدہ اٹھا لیا گیا اور ان کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ (البحرالمحیط ‘ ج ٤‘ ص ٤١٥۔ ٤١٤) 

امام ترمذی کی روایت کا مفاد یہ ہے کہ بنو اسرائیل نے کفران نعمت کیا تو ان پر عذاب نازل ہوا اور سلمان الخیر کی مفصل روایت کا مفاد یہ ہے کہ انہوں نے اس مائدہ کے نزول کے بعد بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت میں شک کیا اور یہ کفر ہے تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ لیکن ترمذی کی حدیث صحاح میں سے ہے اور وہ حدیث مرفوع ہے اور اس حدیث کی سند میں وھب بن منبہ ہیں یہ اسرائیلی عالم تھے ‘ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ سو یہ حدیث اسرائیلیات میں سے ہے ‘ اس لیے ہمارے نزدیک بھی اس کے مقابلہ میں امام ترمذی کی روایت ہی کو ترجیح ہے ‘ ہم نے صرف تحقیق مقام کے لیے اس روایت کو پوری تفصیل کے ساتھ اس کے ماخذ کے ساتھ درج کیا ہے ‘ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ 

یہ واضح رہے کہ عیسائیوں کی کتابوں میں نزول مائدہ کا ذکر نہیں ہے ‘ نہ وہ اس دن کو عید مناتے ہیں ‘ لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں مائدہ کو نازل فرماؤں گا اس لیے ہمارے نزدیک حجت قرآن اور حدیث ہے ‘ عیسائیوں کا نقل نہ کرنا ہمارے نزدیک حجت نہیں ہے۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس (سلمان الخیر) کی حدیث میں بحث کی گنجائش ہے اور یہ سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ابو عبدالرحمان سلمی نے کہا مائدہ کا طعام روٹی اور مچھلی تھی۔ حضرت عمار بن یاسر اور قتادہ نے کہا مائدہ آسمان سے نازل ہوتا تھا اور اس میں جنت کے پھل تھے ‘ اور وھب بن منبہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو کی روٹیاں اور مچھلیاں نازل کی تھیں اور یہ تین اقوال امام ترمذی کی حدیث کے خلاف ہیں۔ اس میں مذکور ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان سے مائدہ نازل ہوا ‘ اس میں روٹیاں اور گوشت تھا اور ترمذی کی حدیث ان اقوال سے اولی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ٢٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

دسترخوان اور میز پر کھانا کھانے کا شرعی حکم : 

سلمان الخیر کی حدیث میں مائدہ کا بیان ہے اور اس میں یہ مذکور ہے کہ وہ سفرہ (چمڑے کا دسترخوان) تھا ‘ وہ کوئی خوان (میز) نہیں تھی جس کے پائے ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عربوں کا مائدہ سفرہ (چمڑے کا دسترخوان تھا) حکیم ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی خوان کے اوپر کھانا کھایا نہ پالی میں اور نہ کبھی آپ کے لیے چپاتی پکائی گئی۔ قتادہ نے حضرت انس (رض) سے پوچھا پھر وہ کس چیز پر کھانا کھاتا تھے ؟ انہوں نے کہا : سفرہ پر۔ میں کہتا ہوں یہ حدیث صحیح ہے۔ امام ترمذی نے کہا خوان ایک نئی چیز ہے جس کو عجمیوں نے ایجاد کیا ہے ‘ عرب سفرہ پرکھانا کھاتے تھے ‘ سفرہ چمڑے کا دستر خوان ہے جس کو کھولا بھی جاتا ہے اور لپیٹا بھی جاتا ہے ‘ کپڑے کے دسترخوان کو مائدہ کہتے ہیں اور خوان چوکی یا میز کو کہتے ہیں جس کے پائے ہوں اور سفرہ چمڑے کا دسترخوان ہے حسن نے کہا میز پر کھانا کھانا بادشاہوں کا فعل ہے اور کپڑے کے دسترخوان پر کھانا عجمیوں کا فعل ہے اور سفرہ پر کھانا عربوں کا طریقہ ہے اور یہی سنت ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ٢٨٨ ‘۔ ٢٨٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

امام مسلم نے حضرت ابن ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اگر گوہ حرام ہوتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مائدہ پر نہ کھائی جاتی۔ (صحیح مسلم ‘ الصید ‘ ٤٦‘ (١٩٤٧) ٤٩٥٠‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث ‘ ٢٥٧٥‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٧٩٣‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث : ٤٣١٨) اس سے معلوم ہوا کہ کپڑے کے دسترخوان اور چمڑے کے دسترخوان دونوں پر کھانا سنت ہے ‘ اور میز ایک نئی چیز ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کھانے سے منع نہیں فرمایا ‘ اس لیے اس پر کھانا مباح ہے۔ اور اگر میز پر کپڑے یا چمڑے کا دسترخوان بچا لیا جائے اور اس پر کھانا کھایا جائے تو سنت پر بھی عمل ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 115