أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِىۡ وَاُمِّىَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ سُبۡحٰنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَـيۡسَ لِىۡ بِحَقٍّ‌ؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ‌ؕ تَعۡلَمُ مَا فِىۡ نَفۡسِىۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِىۡ نَفۡسِكَ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب اللہ فرمائے گا : اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو ؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے میرے لیے یہ جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں ہے، اگر میں نے (بالفرض) یہ کہا ہوتا تو تو اسے ضرور جانتا، تو ان باتوں کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہیں اور میں ان چیزوں کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں ‘ بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب اللہ فرمائے گا : اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو ؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے میرے لیے یہ جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں ہے، اگر میں نے (بالفرض) یہ کہا ہوتا تو تو اسے ضرور جانتا، تو ان باتوں کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہیں اور میں ان چیزوں کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں ‘ بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے۔ (المائدہ : ١١٦) 

اس اشکال کا جواب کہ عیسائی تو حضرت مریم کو خدا نہیں کہتے اور اللہ کی الوہیت کی نفی نہیں کرتے : 

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال فرمایا کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دود خدا بنا لو ‘ اس سوال کی کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو خدا بنا لیا تھا ‘ اس آیت سے ان کو زجر وتوبیخ کرنا ‘ ان کا رد کرنا اور ان کی مذمت کرنا مقصود ہے ‘ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے انکار کریں گے تو ان لوگوں کی واضح تکذیب ہوگی۔ نیز اس سوال و جواب سے یہ بتانا تھا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ان کے دین کو بدل دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ایسی چیز کا دعوی کیا جس کے وہ خود قائل نہ تھے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نصاری نے حضرت مریم کو خدا نہیں کہا ‘ اور نہ یہ ان کا عقیدہ ہے تو پھر یہ آیت کس طرح صادق ہوگی ‘ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ انہوں نے صراحتہ حضرت مریم کو خدا نہیں کہا ؟ لیکن ان کے اقوال سے یہ بات لازم آتی ہے ‘ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم نے کسی انسان کو جنم نہیں دیا ‘ انہوں نے خدا کو جنم دیا ہے اور بیٹا ماں کا جز اور ماں کی جنس سے ہوتا ہے ‘ تو جب بیٹا خدا ہے تو اس سے لازم آیا کہ اس کی ماں بھی خدا ہو۔ گویا وہ صراحتا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے ہیں اور التزاما ان کی ماں کو بھی خدا کہتے ہیں ‘ اس کی نظیر یہ آیت ہے : 

(آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم “۔ (التوبہ : ٣١) 

ترجمہ : انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ 

حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا رسول اللہ ! عیسائی اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت تو نہیں کرتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے اس کو ان کے علماء اور درویش حرام کہیں تو یہ اس کو حرام قرار دیتے ہیں اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہو اس کو ان کے علماء اور درویش حلال کہیں تو یہ اس کو حلال کہتے ہیں۔ میں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا یہی ان کی عبادت کرنا ہے (اور ان کو خدا ماننا ہے۔ ثعلبی) سو جس طرح عیسائی صراحتا اپنے علماء اور دریشوں کو خدا نہیں کہتے لیکن یہ ان پر لازم آتا ہے ‘ اسی طرح وہ مریم کو صراحتا خدا نہیں کہتے لیکن یہ ان پر لازم آتا ہے۔ 

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو حالانکہ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور خدائی کی کبھی نفی نہیں کی۔ خود قرآن مجید میں عیسائیوں کے متعلق مذکور ہے : 

(آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ “۔ (المائدہ : ٧٣) 

ترجمہ : بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائی یہ کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم کے ہاتھوں سے جو معجزات ظاہر ہوئے ان کے خالق حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم ہیں۔ اس لحاظ سے ان سے یہ نقل اور حکایت کرنا صحیح ہے کہ ” کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا ‘ کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو “۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ وہ اللہ کے خدا اور معبود ہونے کی نفی نہیں کرتے تھے ‘ لیکن وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضت مریم کی عبادت بھی کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ جب اللہ کی عبادت کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت بھی کی جائے گی تو تو گویا کہ اللہ کی عبادت نہیں کی عبادت نہیں کی گئی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تنہا مستحق عبادت ہے اور وہی عبادت اللہ کی عبادت کہلائے گی جو صرف اسی کی ‘ کی جائے اور جب اس کی عبادت کے ساتھ دوسروں کی عبادت بھی کی جائے تو پھر وہ اس کی عبادت نہیں ہوگی تو حقیقت میں عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم کو معبود بنایا اور اللہ تعالیٰ کو معبود بنایا اور اللہ تعالیٰ کو معبود نہیں بنایا ‘ اس لیے فرمایا اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو۔ 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کمال ادب سے اپنی براءت کرنا۔ : 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا تو سبحان (پاک) ہے ‘ میرے لیے یہ جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی ‘ بلکہ ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمایا کہ میں حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ بات حق نہیں ہے ‘ اس لیے میں نے نہیں کہی اور کمال ادب سے اس کو اللہ تعالیٰ کے علم پر چھوڑ دیا کہ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو تجھے علم ہوتا کیونکہ تجھے میرے متعلق علم ہے اور مجھے تیرے متعلق علم نہیں ہے ‘ یا اس کا معنی ہے تو میرے غیب کو جانتا ہے اور میں تیرے غیب کو نہیں جانتا ‘ یا تجھے میری دنیا کے متعلق علم ہے اور مجھے تیری اخروی امور کے متعلق علم نہیں ہے ‘ یا تجھے میرے اور افعال کا علم ہے اور مجھے تیرے اقوال اور افعال کا علم نہیں ہے ‘ پھر اس کی تاکید کے طور پر فرمایا : بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کلام کی ابتداء لفظ سبحان سے کی ‘ ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جو شریک کی نسبت کی گئی ہے اس کی تنزیہ کریں اور دوسرے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی عزت اور سطوت کا بیان کیا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 116