باب المستحاضہ

مستحاضہ کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مستحاضہ وہ عورت ہے جسے استحاضہ کا خون آتا ہو۔استحاضہ بیماری ہے جس میں عورت کی رگ کھل کر خون جاری ہوجاتاہے۔یہ خون حیض یانفاس کانہیں ہوتا،اس کی کوئی مدت نہیں اور اس میں نماز،روزہ،صحبت،مسجد میں داخلہ کچھ بھی منع نہیں،بلکہ اس کاحکم معذورکاساہے کہ ایک وقت وضو کرکے نمازپڑھتی رہے اگرچہ خون آتا رہے وقت نکل جانے پر وضو ٹوٹ جائے گا۔

حدیث نمبر :523

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئیں ۱؎ اوربولیں کہ یارسول اﷲ!میں استحاضے والی عورت ہوں کہ پاک ہی نہیں ہوتی تو کیا نمازچھوڑدوں فرمایانہیں یہ تو رگ ہےحیض نہیں ۲؎ جب تمہارا حیض آیا کرے تو نمازچھوڑدیاکرواورجب چلاجائے تو خون دھوڈالاکرو پھرنمازپڑھ لیاکرو۳؎ (مسلم وبخاری)

شرح

۱؎ مسئلہ پوچھنے اوردین حاصل کرنے کے لئے،آپ فاطمہ بنت حبیش ابن عبدالمطلب ابن اسدابن عبدالعزیٰ ابن قصی ابن کلاب ہیں،یہ عبدالمطلب حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نہیں وہ تو عبدالمطلب ابن ہاشم ہیں۔

۲؎ یعنی رحم کے قرب کی کوئی رگ کھل گئی ہے جس سے یہ خون جاری ہوگیا ہے رحم کا خون نہیں ہے،لہذا اس کے احکام حیض و نفاس کے سے نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عور ت عالم سے مسئلہ پوچھنے میں اورعالم مسئلہ بتانے میں شرم نہ کرے ورنہ دین کی تبلیغ کیسے ہوگی۔

۳؎ یعنی استحاضہ کی بیماری لگنے سے پہلے تمہیں جن تاریخوں میں حیض آتا تھا وہ ہی تاریخیں اب بھی حیض کی مانو،ان میں نمازوغیرہ چھوڑدو اوران تاریخوں کے بعد خون استحاضہ کاشمارکرو اورنمازوغیرہ شروع کردو اور جس عورت کو بالغہ ہوتے ہی استحاضہ شروع ہوجائے ،حیض کی تاریخیں مقرر نہ ہونے پائیں وہ ہر مہینہ کے اول دس دن حیض شمار کرے اور بیس دن استحاضہ کے کہ اسی میں احتیاط ہے۔یہاں خون دھو ڈالنے سے مراد اگرحیض کا خون ہے تب تو دھوڈالنے سے مرادغسل کرنا ہےکیونکہ حیض جانے پرغسل فرض ہے۔اوراگراستحاضہ کا خون مراد ہے تو مطلب یہ ہے کہ اپنے بدن وکپڑے سے استحاضہ کاخون دھوکرپھروضوکرکے نمازپڑ ھ لیا کرو۔اس میں غسل واجب نہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ مستحاضہ حیض کے بعدغسل ضرورکرے گی مگر یہاں صرف خون دھونے کا حکم دیا گیا۔