ابراہیم بن ادہم

نام و نسب:۔ نام، ابراہیم۔ والد کا نام، ادہم۔ اور داد ا کانام منصور ہے۔

تعلیم و تربیت:۔ ابتدائی تعلیم کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورحدیث وفقہ کی تعلیم حاصل کی ۔ ساتھ ہی دوسرے محدثین و فقہاء کی خدمت میں بھی حاضر رہے اور پھر مسند درس و تدریس کو زینت بخشی۔

شیخ المشائخ حضرت داتا گنج بخش ہجویری فرماتے ہیں :۔

آپ اپنے زمانہ کے یگانہ عار ف باللہ اور سید اقران گزرے ہیں ،آپ کی بیعت حضرت خضر علی نبینا و علیہ الصلوۃ و التسلیم سے تھی۔

آخر عمر میں درس و تدریس سے کنارہ کش ہو کر ہمہ تن عبادت میں مصروف ہو گئے تھے۔ آپ کے دست حق پرست پر ہزاروں غیر مسلم زمرۂ اسلام میں داخل ہوئے اور سینکڑوں گناہگار مسلمان آپ کے ہاتھ پر تائب ہو کر مرتبہ ولایت پر فائز ہوئے۔ آپ نہایت صابر و شاکر اور متقی و سخی تھے۔

وصال:۔ آپ مجاہدین اسلام کے ساتھ لشکر میں شامل ہو کر جہاد کے لئے بلاد روم میں تشریف لے گئے اور یہاں ہی ۱۶۲ ھ میں وصال فرمایا۔

اساتذہ:۔ امام اعظم ابو حنیفہ، یحیی بن سعید انصاری، سعید بن مرزبان، مقاتل بن حبان، وغیرہم۔

تلامذہ:۔ امام سفیان ثوری، ابراہیم بن بشار، بقیہ بن ولید، شفیق بلخی، اوزاعی، وغیرہ۔

محدثین آپ کو ثقہ و مامون کہتے ہیں۔(تہذیب التہذیب۔ انوار امام اعظم)