اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ‌ۚ وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 118

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ‌ۚ وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔ (المائدہ : ١١٨) 

اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مشرکین کی شفاعت کی : 

سیاق وسباق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد آپ کو اور آپ کی ماں کو معبود بنا لیا تھا کیونکہ سلسلہ کلام ان ہی کے ساتھ مربوط ہے اور وہ لوگ مشرک تھے اور مشرکوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ کہ وہ ان کو نہیں بخشے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی شفاعت کیسے کی ؟ کیونکہ مشرکوں کے لیے شفاعت جائز نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اس میں ضمیر ان کی طرف راجع ہے جنہوں نے موت سے پہلے اپنے کفر سے توبہ کرلی تھی۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا قیامت کے دن کے بارے میں نہیں ہے ‘ بلکہ آسمان پر اٹھانے جانے کے بعد ہے اس تقدیر پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تو ان کو کفر باقی رکھے ‘ حتی کہ یہ مرجائیں اور تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں توبہ کی توفیق دے اور اپنی توحید اور اطاعت کی ھدایت دے ‘ پھر تو ان کو بخش دے تو تو بہت غالب ہے تیرے ارادہ کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہے اور تو اپنے افعال میں حکیم ہے جس میں چاہتا ہے گمراہی پیدا کرتا ہے اور جس میں چاہتا ہے ہدایت پیدا کرتا ہے۔ اس جواب سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ اور ” اگر تو ان کو بخش دے “ کے ساتھ تو غالب اور حکمت والا ہی مناسب ہے اور غفور رحیم مناسب نہیں ہے۔ 

العزیز الحکیم اور الغفور الرحیم کا فرق : 

امام رازی کے والد ضیاء الدین عمر رازی رحمۃ اللہ عنہ نے فرمایا اس آیت کے آخر میں العزیز الحکیم ‘ الغفور الرحیم سے اولی ہے۔ کیونکہ غفور رحیم ایسی صفت ہے جو ہر محتاج کے لیے مغفرت کو واجب کرتی ہے اور عزیز رحیم ایسی صفت ہے جو ہر ایک کے لیے مغفرت کو واجب نہیں کرتی ‘ کیونکہ عزیز ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غالب ہے جو چاہے کرے ‘ کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے اور جب وہ عزیز ہو اور ہر اعتبار سے غالب ہو ‘ پھر اس کا بخش دینا اس کا بہت بڑا کرم ہے اور بعض علماء نے یہ کہا : کہ اگر وہ غفور رحیم کہتے تو یہ متبادر ہوتا کہ وہ شفاعت کر رہے ہیں ‘ اور جب انہوں نے العزیز الحکیم کہا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ معاملہ بالکلیہ اللہ کے سپرد کردیا ہے۔ 

فساق مومنین کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت : 

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گناہ کبیرہ کے مرتکبین کے لیے شفاعت فرمائیں گے ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ کہا اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں یہ نیکوکاروں کے حق میں نہیں فرمایا تھا ‘ کیونکہ وہ عذاب کے سزا وار نہیں ہیں اور نہ ہی یہ دعا کفار کے حق میں ہے ‘ کیونکہ ان کا یہ قول ” اگر تو ان کو بخش دے تو تو بہت غالب بہت حکمت والا ہے “ کفار کے لائق نہیں ہے ‘ کیونکہ کافروں کی بخشش نہیں ہوسکتی۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ شفاعت ان مومینن کے لیے ہے جو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مرتکبین کبائر کی شفاعت ثابت ہے تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مرتکبین کبائر کی شفاعت بہ طریق اولی ثابت ہوگی ‘ اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کی شفاعت کے لیے اس آیت کو پڑھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی تلاوت کی اے میرے رب ! ان بتوں نے ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ‘ سو جس نے میری پیروی کی وہ بیشک میرا ہے ‘ اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (ابراہیم : ٣٦) اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو بہت غالب ‘ بہت حکمت والا ہے۔ (المائدہ : ١١٨) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا اے اللہ ! میری امت ! میری امت اور آپ رونے لگے۔ اللہ عزوجل نے کہا اے جبرائیل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور تمہارا رب خوب جاننے والا ہے ‘ ان سے پوچھو ان کو کیا چیز رلاتی ہے ؟ جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور آپ سے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خبر دی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرائیل ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور کہو ہم آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردی گے اور رنجیدہ ہونے نہیں دیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ الایمان ‘ ٣٤٦ (٢٠٢) ٤٨٩‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١٢٦٩) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت پر بہت شفیق تھے اور امت کی بھلائی اور بہتری میں کوشاں رہتے تھے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہاتھ بلند کہ ہاتھ بلند کرکے دعا کرنا مستحب ہے اور اس حدیث میں اس امت کے لیے بہت عظیم بشارت ہے اور اس میں امت کی مغفرت کی بہت بڑی امید ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت عزت اور وجاہت ہے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجنے سے آپ کے شرف اور مرتبہ کا اظہار مقصود ہے۔ یہ حدیث اس آیت کے موافق ہے۔ عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ کو راضی کر دے گا۔ (الضحی : ٥) اللہ اکبر سارا جہان اللہ کو راضی کرتا ہے اور اللہ آپ کو راضی کرتا ہے۔ آپ کو راضی کرنے کی بشارت دینے کے بعد یہ فرمایا : اللہ آپ کو رنجیدہ ہونے نہیں دے گا ‘ کیونکہ بعض امتیوں کو بخش دینے سے بھی راضی کرنا متحقق ہوسکتا ہے ‘ لیکن اگر آپ کا ایک امتی بھی دوزخ میں رہ گیا تو آپ رنجیدہ ہوں گے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم آپ کو رنجیدہ ہونے نہیں دیں گے اور آپ کے تمام امتیوں کو دوزخ سے نجات دے دیں گے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 118

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.