روزہ سکھاتا ہے گناہوں سے پرہیز

آج ہم بات کریں گے ان گناہوں کی جو توبہ کے بغیر معاف نہیں کیے جاتے، جن کو کبیرہ گناہ کہتے ہیں۔

اللہ کا فضل دیکھیے ! کبیرہ گناہ آپ چھوڑ دیجئے ،صغیرہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:۔

اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِاٰتِکُمْ

ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے توتمہارے (صغیرہ ) گناہ ہم بخش دیں گے۔(پ 5 ،النسآء : 31)

نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں

اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿114﴾

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔(پ 12، ھود: 114)

بلکہ اللہ گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے

اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا

مگر جن لوگوں نے توبہ کی، ایمان لائے اور نیک کام کئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ ہمیشہ سے بڑا مہربان اور انتہائی رحم فرمانے والا ہے ۔

نیکی پھلتی پھولتی رہتی ہے

وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا

اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دو گنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے عظیم اجر فرماتا ہے۔

مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ

جو لوگ قیامت کے دن ایک نیکی لائیں گے ان کے لئے اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب (١) ہوگا اور جو ایک برائی لائیں گے ان کو ایک ہی برائی کی جزادی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

حدیث شریف میں ہے

الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے جب تک کبیرہ گناہوں کو مرتکب نہ ہو ۔ جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 207 حدیث مرفوع

کبیرہ گناہ ہے کیا؟

(1)حضرت سیدنا حسن بصری، حضرت سیدنا ابن جبیر، حضرت سیدنا مجاہد اور حضرت سیدنا ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں کہ ہر وہ گناہ، کبیرہ ہے جس کے مرتکب سے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہو۔

(2)ہر وہ فعل جس کی حرمت پر قرآن پاک میں نص وارد ہو یعنی قرآن پاک میں اس کے بارے میں تحریم (یعنی حرام کرنے)کا لفظ استعمال کیا گیاہو۔

(3)سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی فرماتے ہیں :ہروہ گناہ جسے آدمی خوف یا ندامت محسوس کئے بغیر حقیر جانتے ہوئے کرے اور وہ اس پر جری بھی ہوتو وہ کبیرہ ہے ۔

(4)مگر کئی کبیرہ گناہ ایسے ہیں جن میں حدواجب نہیں ہوتی جیسے سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا، جادو کرنا، چغل خوری، جھوٹی گواہی دینا، شکوہ کرنا، بدکاری کی دلالی کرنا وغیرہ ۔

(5اور جو گناہ دل کے وسوسوں کی پیداوار ہو اورپھر اس پر ندامت بھی محسو س ہونیز اس سے لذت حاصل کرنا بھی دشوار ہو تو وہ کبیرہ نہیں ۔

ایک حدیث شریف میں کچھ تفصیل اس طرح ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَبَائِرُ الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ۔سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 320 حدیث مرفوع

عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہیں (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا (2) والدین کی نافرمانی کرنا (3) ناحق کسی کا خون کرنا (4) اور مقابلہ والے دن کفار سے قتال سے بھاگنا۔

کبیرہ گناہوں کی تعداد

حضرت ابو طالب مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:کبیرہ گناہ سترہ ہیں۔

چار کا تعلق دل سے ہے: (۱)شرک (۲)گناہ پر اصرار (۳)مایوسی اور (۴)اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا۔

چار کا تعلق زبان سے ہے: (۱)تہمت لگانا (۲)جھوٹی گواہی دینااور (۳)جادو کرنا اور جادو ہر اس کلام کو کہتے ہیں جو انسان یا اس کے بدن کے کسی حصہ( کی حالت) کو بدل دے (٤)جھوٹی قسم اٹھانا اور اس سے مراد وہ قسم ہے جس کے ذریعے کسی کا حق ضائع کیا جائے یا کسی ناحق کو حق ثابت کیاجائے۔

تین کا تعلق پیٹ سے ہے: (۱)یتیم کا مال ظلماً کھانا (۲)سود کھانا(۳)ہر نشہ آور چیز پینا۔

دوکا تعلق شرمگاہ سے ہے: (۱)زنااور (۲)لواطت۔

دو کا تعلق ہاتھوں سے ہے: (۱)قتل کرنااور (۲)چوری کرنا۔

ایک کا تعلق پاؤں سے ہے:وہ جہاد سے فرار ہونا ہے۔

ایک گناہِ کبیرہ کا تعلق پورے جسم سے ہے: وہ والدین کی نافرمانی کرنا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔ آمین

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی