🍁سائنس اور رویت ہلال کا دینی تقاضا🍁

فواد چوہدری صاحب جو اپنی چرب زبانی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، بد زبانی جن کا وطیرہ ہے، ہذیان بکے جانا جن کی عادت کریمہ ہے اور اندھیرے میں تنقیدی نشتر چلانا جن کا معمول ہے ، انہوں نے کہا کہ مفتی منیب نے رویت ہلال کا مسئلہ پیچیدہ بنایا ہوا ہے وہ اس مسئلہ کو کیوں حل نہیں کرتے ، کچھ اسی قسم کی بولی حسن نثار المعروف گالیوں والی سرکار اور سلیم صافی نے بھی جیو نیوز پر بولی ۔ نیز فواد چودری نے خود ساختہ ایشو اور مسئلہ کا حل تجویز کرتے ہوئے یہ کہا کہ ہم سائنسی آلات اور محکمہ موسمیات کے مدد سے کئی سالوں کے کیلینڈر خود جاری کر دیں گے تا کہ رویت ہلال کے مسائل پیدا نہ ہوں ۔۔۔۔

موصوف اور دیگر غیر معزز صحافیوں کی قابل احترام مفتی منیب الرحمن صاحب حفظہ اللہ کے خلاف لن ترانیوں کا جواب دینے سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی دوسری بات جس میں انہوں نے رویت ہلال کو ایشو بنانے، اسے پیچیدہ بنانے اور حل نہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا ہے اس کا جواب دینا ضروری سمجھوں گا ۔

سب سے پہلے تو فواد چوہدری صاحب یہ جان لیں ، کئی سالوں بعد تک کے کیلنڈر بنانے کی صلاحیت علم توقیت و علم فلکلیات پڑھنے والے علماء بحسن خوبی رکھتے ہیں، وہ آپ کی اس تجویز سے قبل ہی ایسا کرنے کی استعداد رکھتے ہیں ، مگر اس کے باوجود یہ علماء اپنے حساب کے مطابق کیلینڈر جاری نہیں کرتے کیونکہ اولا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس حوالے سے اسلام اور بانی اسلام کا کیا حکم ہے ، کیونکہ یہ خالصتا ایک دینی معاملہ ہے لہذا اس حوالے سے رسول کریم ﷺ کا حکم جاننا اور اس کے مطابق چلنا اولین فرض ہے ،،،

جب ہم اس مسئلہ کے حل کیلیے شریعت مطھرہ کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں رسول کریم ﷺ کے واضح ارشادات رہنمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں،

👈 چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ , وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ , فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ» أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ

جب تک (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزے مت رکھو اور جب تک (شوال کا) چاند نہ دیکھ لو روزے رکھنا مت چھوڑو۔ (بخاری، مسلم، موطا امام مالک)

معلوم ہوا کہ چاند دیکھنے کا حکم خود رسولِ پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے، اگرچہ ہمارے سائنسی شمار و حساب کیسے بھی ہوں تاہم رویت ہلال یعنی چاند دیکھنا رسول پاک ﷺ کا حکم اور شریعت کا تقاضا ہے۔

لہذا شارع علیہ السلام کا حکم ہوتے ہوئے ہم کسی ڈبو شبو کی سائنس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ وارثنین انبیاء کی اطاعت کرتے ہوئے ہلال رمضان و شوال کی رویت کا اہتمام کریں گے۔

👈

اور عالم اسلام کے عظیم فقیہ امام ابن ھمام رحمہ اللہ اپنی کتاب فتح القدیر میں فرماتے ہیں :

’’رمضان کا چاند دیکھنا واجب علی الکفایہ ہے ۔‘‘

(فتح القدیر جلد2 صفحہ 318)

👈 نیز شام کے مفتی اعظم مفتی اسعد محمد سعید الصاغرجی رحمہ اللہ اپنی کتاب الفقہ الحنفی و ادلتہ جلد دوم صفحہ 373 میں فرماتے ہیں :

’’29 شعبان کو رمضان کا چاند دیکھنا واجب کفایہ ہے جو کہ نبی کریم ﷺ اور سلف صالحین سے منقول ہے ۔۔۔۔۔۔۔ الخ‘‘

(الفقہ الحنبی و ادلتہ جلد دوم صفحہ 373)

👈 اور صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ اپنی کتاب بہار شریعت میں فتاوی رضویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا، واجب کفایہ ہے۔

(۱) شعبان۔

(۲) رمضان۔

(۳) شوال۔

(۴) ذیقعدہ۔

(۵) ذی الحجہ۔

شعبان کا اس لیے کہ اگر رمضان کا چاند دیکھتے وقت اَبر یا غبار ہو تو یہ تیس پورے کر کے رمضان شروع کریں اور رمضان کاروزہ رکھنے کے لیے اور شوال کا روزہ ختم کرنے کے لیے اورذیقعدہ کا ذی الحجہ کے لیے اور ذی الحجہ کا بقرعید کے لیے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10)

مذکورہ بالا دلائل سے رویت ہلال کے متعلق اسلام کا حکم روز روشن کی طرح واضح ہو گیا، لہذا اب لائق صد دشنام فواد چوہدری سابّ ہمیں آپ کے تجویز کردہ کسی حل کی ضرورت نہیں، آپ پہلے ہی ایک وزارت سے دھتکارے ہوئے ہیں ابھی تک اس کی ذلالت سنبھال نہیں پا رہے کہ اور عزت کروانے کیلیے علماء کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر اتر آئے ہیں ۔

وزیر سائنس ہونے کے باوجود آپ ماہرین سائنس سے زیادہ بہتر سائنس نہیں جان سکتے تو پھر زمانے بھر کی ذلتیں اٹھائے آپ علماء سے بہتر اسلام کیسے جان سکتے ہیں۔۔۔۔

اللہ آپ کو ھدایت دے یا پھر اس دھرتی کو آپ کے بوجھ سے راحت نصیب کرے۔

✍️فقیرالمصطفی