أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوۡمُ يَـنۡفَعُ الصّٰدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ‌ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع پہنچائے گا، ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع پہنچائے گا، ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آسمانوں، اور جو کچھ ان میں ہے ان کی سلطنت اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (المائدہ : ١٢٠۔ ١١٩) 

سچ بولنے کا فائدہ صرف آخرت میں کیوں ہوگا ؟ 

اس پر اجماع ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے ‘ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں سچ بولا تھا ‘ ان کا سچ اس دن کام آئے گا اور ان کو نفع دے گا ‘ اور اس دن کسی کا سچ بولنا اس کے لیے نفع آور نہیں ہوگا ‘ کیونکہ دارالتکلیف اور دارالعمل دنیا ہے اور قیامت کا دن یوم الجزاء ہے۔ اس دن تو شیطان بھی سچ بولے گا اور کہے گا۔ 

(آیت) ” وقال الشیطن لما قضی الامر ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم “۔ (ابراہیم : ٢٢) 

ترجمہ : اور فیصلہ ہو چکنے کے بعد شیطان کہے گا بیشک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ یا سو میں نے اس کے خلاف کیا۔ 

شیطان کا یہ قول سچ ہے لیکن اس دن کسی کا سچ اس کے کام نہیں آئے گا۔ 

دوسری تفسیر یہ ہے کہ مسلمان یوم آخرت میں انبیاء (علیہم السلام) کے تبلیغ کر نیکی جو سچی گواہی دیں گے اور اپنے اعمال کی سچی گواہی دیں گے تو مسلمانوں کی یہ سچی گواہی ان کو نفع دے گی ‘ اور نفع یہ ہے کہ ان سے شہادت کے چھپانے کا مواخذہ نہیں ہوگا اور ان کی مغفرت کردی جائے گی۔ 

سچ بولنے کا نفع ویسے تو انسان کو ہر روز حاصل ہوتا ہے ‘ لیکن آخرت میں دائمی اجر وثواب صرف اس دن حاصل ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آخرت میں سچ بولنے کا کیا نفع ملے گا ‘ وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہیں۔ انسان کو کوئی نعمت مل جائے تو پھر بھی اس کو یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ کہیں یہ نعمت زائل نہ ہوجائے اور اگر نعمت زائل نہ ہو تو اس نے ایک دن مرجانا ہے ‘ تب بھی وہ اس خیال سے ملول رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت کی نعمتیں زائل نہیں ہوں گی نہ ان کو موت آئے گی ‘ بلکہ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ جنت انسان کے جسم کی نعمت ہے اور اس کی روح کی نعمت یہ ہے کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے تو جنت کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کیا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر فرمایا : یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سب سے بڑی کامیابی اللہ کا راضی ہونا ہے ‘ جنت میں مرغوبات نفس ہیں اور اللہ کی رضا اس سے بہت بڑا اور اعلی درجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرے ‘ ہم جنت کے لائق تو نہیں ہیں وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور سب سے بڑا مطلوب یہ ہے کہ وہ ہم سے راضی ہوجائے۔ 

اللہ کی عظمت وجبروت کے ذکر پر سورت کا اختتام :

آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے ان کی سلطنت اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ‘ اس آیت میں لفظ ما استعمال فرمایا ہے۔ جو غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے۔ من کا لفظ استعمال نہیں فرمایا ‘ جو ذوی العقول کے لیے آتا ہے ‘ اس میں ہوسکتا ہے یہ تنبیہ کرنا مقصود ہو کہ آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے خواہ وہ ذوی العقول اور ذوی العلوم ہوں ‘ غیر ذوی العقول اور غیر ذوی العلوم سب اس کے قبضہ وقدرت میں مسخر ہیں اور سب اس کی قضاء وقدرت کے تابع ہیں۔ اور ذوی العقول اس کے سامنے غیر ذوی العقول اور جمادات کے درجہ میں ہیں ‘ اس کی قدرت کے سامنے کسی کی قدرت نہیں اور اس کے علم کے سامنے کسی کا علم نہیں ‘ اس لیے اس آیت میں غیر ذوی العقول کو ذول العقول پر غلبہ دے کر لفظ ما استعمال فرمایا۔ 

شریعت اور حقیقت کی طرف اشارہ :

جب آسمان اور زمین کی ہر چیز اللہ کی ملک میں ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم بھی اللہ کی ملک میں ہیں۔ اس کے مملوک اور عبد ہیں اور جو مملوک اور عبد ہوں ‘ وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اس آیت میں عیسائیوں کے اس عقیدہ کا رد ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم خدا ہیں ‘ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا اے ایمان والو ! (اپنے) عہد پورے کرو اور احکام شرعیہ کے ذکر سے اس اس سورت کی ابتداء کی تھی اور اس سورت کا اختتام اللہ عزوجل کی کبریائی ‘ اس کی عزت و جلال اور اس کی سلطنت اور قدرت پر کیا ہے۔ گویا یہ سورت شریعت کے ذکر سے شروعی ہوتی ہے اور حقیقت کے ذکر پر ختم ہوتی ہے اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ شریعت ابتداء ہے اور حقیقت انتہاء ہے ‘ اور یہ کہ شریعت پر عمل کرکے ہی انسان حقیقت تک پہنچے گا۔ 

تمام مضامین سورت کی دلیل :

اس سورت میں احکام شرعیہ بیان کیے گئے ہیں اور یہود کا رد کیا گیا ہے جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا انکار کرتے تھے اور عیسائیوں کا رد کیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے معتقد تھے ‘ اور اس سورت کو اس آیت پر ختم کیا ہے جس کا معنی ہے ہر چیز اللہ کی ملک میں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ تمام ممکنات ‘ ارواح اور اجسام کا موجد اور خالق ہے اور جب اللہ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے تو اسے اپنی مخلوق کو امر اور نہی ‘ حکم دینے اور منع کرنے کا حق ہے اور یہی شریعت ہے ‘ سو یہی آیت احکام شرعیہ کی دلیل ہے اور اللہ خالق اور مالک ہے تو اسے یہ حق ہے کہ وہ جس حکم کو چاہے معطل کر دے جس شریعت کو چاہے منسوخ کردے۔ سو اس نے یہود کی شریعت کو منسوخ کر کے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کو نافذ کردیا ‘ سو اس آیت سے یہود کا رد بھی ہوگیا اور اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ عیسائیوں کا رد بھی ہوگیا۔ کیونکہ جب ہر چیز اس کی مملوک ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کے مملوک ہیں ‘ اور جو مملوک ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ‘ سو یہ آخری آیت اس پوری سورت کے مضامین کی دلیل ہے۔ 

اختتامی کلمات : 

آج بہ روزچہار شنبہ مورخہ ١٩ صفر ١٤١٨ ھ۔ ٢٥ جون ١٩٩٧ سحری کے مبارک وقت میں سورة مائدہ کی تفسیر ختم ہوگئی۔ اس سورت کے تمام حقائق و معارف اور تمام اسرار و رموز کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ میں نے اسلاف کی کتابوں سے استفادہ کرکے اور زیادہ سے زیادہ احادیث پیش کرکے اپنی استطاعت کے مطابق اس تفسیر کی سعی کی ہے۔ 

الہ العالمین ! اس سعی کو قبول فرما ‘ اس میں جو کوتاہی ہوگئی اس سے درگزر فرما اور جس طرح تو نے محض اپنے فضل سے سورة مائدہ کی تفسیر کی توفیق دی ہے ‘ بقایا سورة قرآن کی تفسیر کی بھی توفیق عطا فرما اور محض اپنے فضل و کرم سے میری محبین اور قارئین کی مغفرت فرما۔ ہم سب کو دنیا اور آخرت کی ہر مشکل ‘ مصیبت اور پریشانی اور عذاب سے محفوظ رکھ اور دنیا اور آخرت کی ہر سعادت اور نعمت عطا فرما۔ شرح صحیح مسلم ‘ اس تفسیر اور میری ہر تصنیف کو میرے لیے صدقہ جاریہ کر دے ‘ ان کتابوں کے فیضان کو تاقیام قیامت باقی اور عام رکھ ‘ ان کتابوں کو موافقین کے لیے موجب استقامت اور مخالفین کے لیے ذریعہ ہدایت بنا۔ آمین یا رب العالمین بجاہ نبیک سیدنا محمد خاتم النبیین ‘ قائد المرسلین ‘ شفیع المذنبین ‘ وعلی الہ الطیبین الطاھرین وعلی اصحابہ الکاملین الراشدین وعلی ازواجہ امھات المؤمنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 119