مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِىۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبَّكُمۡ‌ۚ وَكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ‌ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِىۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 117

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِىۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبَّكُمۡ‌ۚ وَكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ‌ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِىۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

میں نے ان سے وہی کہا جسے کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ (صرف) اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر اسی وقت تک نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا ‘ پھر جب تو نے مجھے (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے ان سے وہی کہا جسے کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ (صرف) اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر اسی وقت تک نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا ‘ پھر جب تو نے مجھے (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ (المائدہ : ١١٧) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے پر ایک اشکال کا جواب : 

اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں۔ کیونکہ توفی کا معنی وفات ہے اور اس کا ظاہری معنی یہ ہے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی ‘ تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق جو احادیث ہیں ‘ وہ حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اور النساء : ١٥٨ کی تفسیر میں ہم نے بہت زیادہ احادیث پیش کی ہیں۔ 

توفی کا مادہ وفا سے ہے۔ وفاء کا معنی ہے کسی چیز کو پورا کرنا یا کسی چیز کا تمام و کمال کو پہنچنا ‘ موت کو وفات اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں مدت حیات پوری ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” واوفوا الکیل “۔ (الانعام : ١٥٢) پورا پورا ماپ کردو (آیت) ” واوفوا بعھدی “۔ (البقرہ : ٤٠) مجھ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (آیت) ’ ’ ووفیت کل نفس ماکسبت “۔ (آل عمران : ٢٥) ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ 

قرآن مجید میں توفی کا لفظ موت کے لیے بھی آیا ہے اور نیند کے لیے بھی : 

(آیت) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا “۔ (الزمر : ٤٢) 

ترجمہ : اللہ موت کے وقت روحوں کو قبض کرلیتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ان کی نیند کے وقت۔ 

(آیت) ’ وھو الذی یتوفکم بالیل “۔ (الانعام : ٦٠) 

ترجمہ : وہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔ 

اور اس آیت میں توفی کا معنی پورا پورا اٹھا لینا ہے جیسا کہ بکثرت احادیث میں بیان کیا گیا ہے اس آیت میں توفی کا معنی موت مراد لینے پر مرزائی حسب ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر نصیحت کرتے ہوئے خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! تم اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے درآنحالیکہ تم ننگے پیر ‘ ننگے بدن اور غیر مختون ہوگے اللہ نے فرمایا ہے جس طرح ہم نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا تھا ‘ ہم اسی حالت میں اس کو لوٹائیں گے ‘ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم بیشک اس کو کرنے والے ہیں (الانبیاء : ١٠٤) اور سنو مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا اور سنو ! میری امت میں سے چند لوگ لائے جائیں گے۔ ان کو بائیں جانب سے پکڑا ہوا ہوگا ‘ میں کہوں گا ‘ اے میرے رب ! یہ میرے اصحاب ہیں ‘ سو کہا جائے گا آپ (از خود) نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی باتیں نکالی ہیں ‘ تو میں اس طرح کہوں گا جس طرح اللہ کے عبد صالح نے کہا تھا میں ان پر اسی وقت تک نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا ‘ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی ‘ تو تو ہی ان پر گواہ تھا۔ الایہ (المائدہ : ١١٨۔ ١١٧) سو مجھ سے کہا جائے گا ‘ آپ کے دنیا سے جانے کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑیوں پر پلٹ گئے تھے۔ (مرتد ہوگئے تھے) (صحیح مسلم ‘ الجنت ‘ ٥٨‘ (٢٨٦٠) ٧٠٦٧‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٥٢٦‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٢٣۔ ٣١٦٧‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٠٨٧) 

اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة مائدہ کی اسی آیت کو نقل فرمایا ہے اور اس آیت میں توفی وفات کے معنی میں ہے۔ مرزائی کہتے ہیں ‘ اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں توفی وفات وفات کے معنی میں ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس آیت کو پڑھیں گے تو آپ کے حق میں اس کا معنی وفات ہی ہوگا ‘ کیونکہ آپ کے حق میں اس معنی کے خلاف کوئی قرینہ نہیں ہے ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب توفیتنی فرمائیں گے تو ان کے حق میں اس کا معنی وفات نہیں ہوگا ‘ کیونکہ اس معنی کے خلاف بہ کثرت احادیث ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے ‘ سو اس کا معنی ہوگا ‘ جب تو نے مجھے (آسمان پر) اٹھالیا۔ بعض اوقات فاعل کے اختلاف سے فعل کا معنی مختلف ہوجاتا ہے۔ صلی اللہ کا معنی ہے اللہ کی رحمت نازل کی ‘ صلی الملائکہ کا معنی ہے فرشتوں نے استغفار کیا ‘ صلی المسلمون کا معنی ہے مسلمانوں نے رحمت طلب کی۔ اس لیے مستبعد نہیں ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توفیتنی فرمائیں تو اس کا معنی ہو تو نے مجھے وفات دی اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) توفیتنی کہیں تو اس کا معنی ہو تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا جبکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ توفی کا معنی لازما موت اور وفات نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 117

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.