سؤال:

انجیکشن کی جو مختلف أنواع ہیں انکی وضاحت فرما دیں کہ کیا ان سے روزے پر کوئی أثر پڑتا ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری (محمد علی):

انجیکشن کی مختلف أنواع کی تو اس دور ارتقائی میں انجیکشن کی کافی أنواع ہیں :

– انٹرامسلر انجیکشن

۔سکن انجیکشن

۔انٹرا وینس انجیکشن

۔أینل انجیکشن( جو شرمگاہ میں لگایا جاتا ہے)

یہ ہیں انجیکشن کی معروف أنواع پھر ان انجیکشن کی بھی آگۓ أنواع ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

أب ہم ان تمام أنواع میں کبار علمائے کرام کی آراء کا ذکر کرتے ہیں:

پہلی راۓ:

تمام أنواع کے انجیکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، یہ دار الافتاء المصریہ کی راۓ ہے ، اور شیخ بخیت المطیعی ، ازہر کے سابق شیخ شلتوت وغیرہ کی بھی۔

( فتاوای دار الافتاء المصریہ ،موقع المصراوی، فتاوی شیخ شلتوت، ص 136 ، فتاوی دار الافتاء المصریہ ، شاملہ، 1/93 )

دوسری راۓ:

یہ دکتور وہبہ زحیلی اور دیگر بعض معاصرین کی راۓ ہے اور مفتی عطیہ صقر کی بھی

یہ تفصیل کرتے ہیں کہ:

وہ انجیکشن جو غذاء یا طاقت کے لیے استعمال نہیں ہوتے ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

اور وہ انجیکشن جس میں غذائی مواد شامل ہو یا طاقت کا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

( مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی، دسواں عدد، ج 2، ص 377 ، فتاوی دار الافتاء المصریہ ، شاملہ، 9/259 )

تیسری راۓ:

انجیکشن کی تمام أنواع سے روزہ نہیں ٹوٹتا سواے أینل انجیکشن کے اور أینل انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے

(فتاوی دار الافتاء المصریہ، شاملہ، فتوی حسن مامون، 1/116 )

دار الافتاء المصریہ کا عمل راۓ مالکیہ پہ ہے یعنی أینل انجیکشن سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا

( 23 جون،2015 ، موقع : الیوم السابع نقلا عن موقع دار الافتاء المصریہ )۔

۔۔۔۔

خلاصۂ کلام:

یہ سب اجتہادی آراء ہیں جس پہ آپکا دل مطمئن ہو أس پہ عمل کر سکتے ہیں لیکن بندہ فقیر کے نزدیک تمام قسم کی أنواع سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔

پاکستان میں بھی مفتیانِ کرام کے درمیان إس مسئلے میں اختلاف ہے أور بعض کے نزدیک سب انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

لہذا احتیاط کرنی چاہیے۔۔۔