أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا  ؕ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنۡدَهٗ‌ ثُمَّ اَنۡـتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا فرمایا ‘ پھر مدت (حیات) مقرر فرما دی، اور قیامت کا معین وقت اللہ ہی کے پاس ہے اور تم لوگ شک کرتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا فرمایا ‘ پھر مدت (حیات) مقرر فرما دی، اور قیامت کا معین وقت اللہ ہی کے پاس ہے اور تم لوگ شک کرتے ہو۔ (الانعام : ٢) 

عالم صغیر کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر استدلال : 

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین یعنی عالم کبیر کو پیدا کرنے سے اپنی خالقیت اور وحدانیت پر استدلال کیا تھا اور اس آیت میں انسان یعنی عالم صغیر کو پیدا کرنے سے اپنی خالقیت اور وحدانیت پر استدلال فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور تم آدم کی اولاد ہو ‘ لہذا تم کو بھی مٹی سے پیدا کیا۔ 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن خطبہ میں فرمایا اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی عیب جوئی اور اپنے باپ دادا پر فخر کرنے کو دور کردیا ہے۔ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ مومن ‘ متقی ‘ کریم اور فاجر ‘ درشت خو اور ذلیل۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٤ ص ٢٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ) 

اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تم کو بلاواسطہ مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حافظ ابو نعیم نے اپنی کتاب حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو فرشتہ رحم پر مقرر کیا گیا ہے ‘ وہ نطفہ کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر یہ کہتا ہے ‘ اے رب ! اس کی تخلیق کی جائے گی یا نہیں کی جائے گی ؟ اگر اللہ فرمائے کہ اس کی تخلیق کی جائے گی تو پھر کہتا ہے ‘ اے رب ! اس کا رزق کتنا ہے ؟ اس کانشان کیسا ہے ؟ اور اس کی موت کب ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم لوح محفوظ دیکھو۔ وہ لوح محفوظ میں دیکھتا ہے تو اس میں اس کا رزق ‘ اس کا نشان ‘ اس کی موت اور اس کا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے۔ جس جگہ اس کو دفن کیا جائے گا ‘ وہ وہاں سے مٹی لیتا ہے اور اس کو اس کے نطفہ میں ملا کر گوندھتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مصداق ہے : 

(آیت) ” منھا خلقنا کم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “۔ (طہ : ٥٥) 

ترجمہ : ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹا دیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ٣٠٠‘ مطبوعہ بیروت) 

امام عبد بن حمید اور امام ابن المنذر نے عطا خراسانی سے روایت کیا ہے جس جگہ انسان کو دفن کیا جائے گا ‘ وہاں کی مٹی کو فرشتہ نطفہ پر چھڑکتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مصداق ہے ” منھا خلقناکم “۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٤‘ ص ٣٠٢‘ مطبوعہ ایران) 

حافظ ابو نعیم اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مولود کے اوپر اس کی قبر کی مٹی چھڑ کی جاتی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٢‘ ص ٢٨٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ علی متقی برھان پوری متوفی ٩٧٥ ھ خطبیب کے حوالے سے لکھتے ہیں ‘ حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مولود کی ناف میں وہ مٹی ہوتی ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے۔ جب وہ ارذل عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو اس مٹی کی طرف لوٹایا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا تھا اور میں اور ابوبکر اور عمر ایک مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اسی مٹی میں دفن کیے جائیں گے۔ (کنزالعمال ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث : ٣٣٦٧٣) 

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ ہر انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ احادیث کے علاوہ اس موقف پر عقل سے بھی استدلال کیا گیا ہے ‘ کیونکہ انسان کو منی اور حیض کے خون سے پیدا کیا گیا ہے اور یہ دونوں چیزیں خون سے بنتی ہیں اور خون غذا سے بنتا ہے اور غذا گوشت اور زمینی پیداوار (سبزیوں اور پھلوں) پر مشتمل ہوتی ہے اور حیوان کا گوشت بھی زمینی پیداوار سے بنتا ہے تو مال زمینی پیداوار ہے اور زمینی پیداوار مٹی سے حاصل ہوتی ہے۔ سو خلاصہ یہ ہے کہ انسان مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ‘ پھر اس طریقہ سے مٹی سے نطفہ بنتا ہے اور نطفہ سے متعدد اعضاء بنتے ہیں جو رنگ روپ اور صورت شکل میں مختلف ہوتے ہیں۔ مثلا قلب دماغ ‘ پھپھڑے ‘ جگر اور دیگر بڑی بڑی ہڈیاں ‘ باریک شریانیں اور پٹھے وغیرہ اور ایک مادہ یعنی مٹی سے مختلف صورت وشکل اور مختلف طبائع اور حقائق کے اعضاء پیدا کرنا اور ایک مٹی سے دنیا کے متعدد اور مختلف رنگ ونسل کے انسان پیدا کرنا ‘ صرف اسی کی تخلیق سے عمل میں آسکتا ہے جو حکیم اور مدبر اور قادر اور قیوم ہو ؛۔ پھر ان مختلف انسانوں کی پیدائش ہزارہا سال سے ایک ہی نظم اور ایک ہی طرز پر ہو رہی ہے اور انسان کی تخلیق کے اس سلسلہ کا نظم واحد پر ہونا پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا ناظم بھی واحد ہے اور وہ اللہ الواحد القہار ہے۔ 

دو اجلوں کی تفسیریں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اس نے اجل (موت) مقرر فرما دی اور اجل مسمی (مدت مقررہ) اس پاس ہے۔ اجل کے معنی موت ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو موتوں ذکر فرمایا ہے۔ ان موتوں کی کئی تفسیریں ہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ پہلی اجل سے مراد موت ہے اور دوسری اجل سے مراد قیامت ہے ‘ کیونکہ آخرت میں ان کی حیات کی مدت کی کوئی انتہا نہیں ہے اور نہ وہ کبھی ختم ہوگی اور اس کی مدت اور اس کی کیفیت کا حال اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہیں ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلی اجل سے مراد انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک کی مدت ہے۔ اور دوسری اجل سے مراد موت کے بعد سے لے کر اس کے دوبارہ پیدا ہو کر اٹھنے تک کی مدت ہے اور اس مدت کو برزخ کہتے ہیں۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ پہلی اجل سے مراد نیند ہے اور دوسری اجل سے مراد موت ہے۔ چوتھی تفسیر یہ ہے کہ پہلی اجل سے مراد طبعی موت ہے اور دوسری اجل سے مراد حادثاتی موت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ وہ اس کے پاس مقرر ہے۔ اس کا معنی ہے وہ اس کو معلوم ہے اور لوح محفوظ میں مذکور ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ اللہ کہ اللہ کی خالقیت اور اس کی وحدانیت کے اس قدر واضح دلائل ہونے کے باوجود تم اس کی وحدانیت میں شک کرتے ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 2