أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ اللّٰهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الۡاَرۡضِ‌ؕ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَ جَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں میں عبادت کا مستحق ہے، وہ تمہارے ظاہر اور باطن کے حال کو جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے واقف ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں میں عبادت کا مستحق ہے، وہ تمہارے ظاہر اور باطن کے حال کو جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے واقف ہے۔ (الانعام : ٣) 

اللہ تعالیٰ کے کمال علم پر دلیل : 

اس سورت کی پہلی آیت میں فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اور تاریکیوں اور نور کو پیدا فرمایا ‘ دوسری آیت میں فرمایا جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تمہاری خلوت اور جلوت کو جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے واقف ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کمال علم پر دلیل ہے اور کمال علم اور کمال قدرت یہ ایسی دو صفتیں ہیں جن پر الوہیت مدار ہے اور ان دونوں آیتوں کے مجموعہ سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر دلیل مکمل ہوگئی۔ 

اس آیت کا بظاہر معنی یہ ہے یہ کہ وہی اللہ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اس سے یہ لازم آیا کہ آسمان اور زمین اللہ کے لیے ظرف ہیں اور اللہ تعالیٰ مظروف ہے اور مظروف محدود ہوتا ہے اور محدود ہونا الوہیت کے منافی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی ہے اللہ آسمانوں اور زمینوں میں معظم ہے ‘ یا معبود ہے ‘ یا مستحق عبادت ہے ‘ یا اس کا معنی ہے اللہ آسمانوں اور زمینوں کی تدبیر میں منفرد ہے ‘ یا اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری خلوت اور جلوت کو آسمانوں اور زمینوں میں جانتا ہے ‘ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے اللہ جانتا ہے جو تم کسب کرتے ہو ‘ کسب کا معنی ہے حصول نفع یا دفع ضرر کے لیے کوئی کام کرنا ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے افعال کو کسب نہیں کہا جاتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 3