أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا ۖ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ایسی قومیں تباہ و برباد کردیں جن کو ہم نے زمین میں ایسا اقتدار دیا تھا جیسا تمہیں نہیں دیا ہم نے ان پر آسمان سے موسلادھار بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے (کھیتوں اور باغوں کے) نیچے دریا بہائے پھر ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو تباہ و برباد کردیا اور ان کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم پیدا کردی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ایسی قومیں تباہ و برباد کردیں جن کو ہم نے زمین میں ایسا اقتدار دیا تھا جیسا تمہیں نہیں دیا ہم نے ان پر آسمان سے موسلادھار بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے (کھیتوں اور باغوں کے) نیچے دریا بہائے پھر ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو تباہ و برباد کردیا اور ان کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم پیدا کردی۔ (الانعام : ٦) 

ربط آیات اور خلاصہ مضمون : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ کی نشانوں سے اعراض کرنے ‘ ان کی تکذیب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا تھا اور ان کے اس انکار اور استہزاء پر ان کو عذاب کی وعیدہ سنائی تھی۔ اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار اور مکذبین کو عذاب کی وعید سنانا اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے۔ کیا ان مکذبین کو لوگوں سے خبریں سن کر یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی سابقہ امتوں کو مثلا قوم عادوثمود ‘ قوم فرعون اور قوم لوط کو ہلاک کردیا۔ جنہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں اس گھمنڈ سے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی کہ وہ بہت مالدار اور طاقتور ہیں۔ وہ قریش مکہ سے اس بات میں ممتاز تھے کہ ان پر بکثرت موسلادھار بارشیں نازل ہوتی تھیں، جس سے ان کی زرعی زمینیں بہت زرخیز ہوتی تھیں اور ان کے مکانوں کے کنارے پر دریا بہتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کے بعد ایک اور قوم پیدا کی جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتی تھی اور یہ بھی اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس قوم کو ملیا میٹ کردیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا فتلک مساکنھم لم نسکن من بعدھم الا قلیلا وکنا نحن الورثین، وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا تتلوا علیھم ایتنا وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظالمون “۔ (القصص : ٥٩۔ ٥٨) 

ترجمہ : ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا (جن کے رہنے والے) اپنی خوشحالی پر اترانے لگے تھے۔ سو یہ ہیں ان کے مکان ‘ جن میں انکے بعد بہت کم رہائش کی گئی ہے اور (بالاخر) ہم ہی وارث ہیں، اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان بستیوں کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دے ‘ جو ان پر ہماری آیتوں کی تلاوت کرے اور ہم اس وقت ہی بستیوں کو ہلاک کرتے ہیں جب اس کے رہنے والے ظلم کرنے والے ہوں۔ 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ کفار مکہ کو نصیحت کی جائے اور انہیں اس بات سے ڈرایا جائے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو پچھلی امتوں کے ان کے ان جیسے کافروں پر آیا تھا ‘ جب کہ وہ لوگ دنیاوی شان و شوکت اور قوت و طاقت اور عددی حیثیت سے اہل مکہ کی بہ نسبت کہیں زیادہ اور برتر تھے۔ 

قرن کی تحقیق : 

اس آیت میں فرمایا ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے قرن تباہ کردیئے اس آیت میں قرن کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ : نے قرن کا یہ معنی لکھا ہے قرن ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ایک زمانہ میں مقترن ہوں اس کی جمع قرون ہے (المفردات ‘ ص ٤٠١) علامہ ابن اثیر جزری متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے ‘ ہر زمانہ کے لوگوں کو قرن کہتے ہیں اور یہ ہر زمانہ میں متوسط عمروں کی مقدار پر مشتمل لوگ ہیں۔ بہ لفظ اقتران سے ماخوذ ہے ‘ یعنی جتنے زمانہ میں اس زمانہ کے لوگ اپنی عمروں اور اپنے احوال سے متقرن ہوں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ زمانہ چالیس سال کا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اسی سال کا زمانہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ سو سال کا زمانہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مطلق زمانہ ہے۔ (النہایہ ‘ ج ٤‘ ص ٥١) امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے کہ واحدی نے کہا ہے کہ زمانہ کی جس مدت میں ایک قوم مقترن ہو وہ قرن ہے ‘ یعنی جس مدت میں ایک قوم مقترن ہو ‘ پھر موت سے وہ دوسری قوم سے متفرق ہوجائے تو وہ قوم ایک قرن ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس کے بعد آئیں گے وہ ایک دوسری قوم ہوں گے اور وہ آپس میں مقترن ہوں گے ‘ تو یہ دوسری قرن ہے۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام قرنوں میں بہترین میرا قرن ہے۔ اور جبکہ عموما لوگوں کی عمریں ساٹھ ‘ ستر ‘ اور اسی سال کے لگ بھگ ہوتی ہیں اس وجہ سے بعض لوگوں نے کہا قرن ساٹھ سال کا زمانہ ہے۔ بعض نے کہا ستر سال کا اور بعض نے کہا اسی سال کا زمانہ ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اس میں زمانہ کی کوئی ایسی معین مقدار نہیں ہے جس پر زیادتی یا اس سے کمی نہ ہو سکے ‘ بلکہ اس سے مراد ہے ہر زمانہ کے لوگ اور جب اس زمانہ کے اکثر لوگ ختم ہوجائیں گے تو کہا جائے گا کہ وہ قرن ختم ہوگئی۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤ ص ١١‘ طبع قدیم) 

امام رازی نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے ‘ وہ یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سب میں بہترین میرا قرن ہے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں۔ (الحدیث) (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٥١‘ صحیح مسلم ‘ فضائل صحابہ ‘ ٢١٣‘ (٢٤٣٥) ٦٢٥٥‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٥٧‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٢٩‘ سنن نسائی ‘ ٣٨١٨‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٢٩‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١٢‘ ص ١٧٦‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٠٨‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٩٤‘ طبع قاہرہ ‘ مسند احمد ج ١‘ ص ٢٧٩‘ طبع قدیم) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اکثر محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ قرن سو سال کا زمانہ ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے فرمایا تھا کہ تم ایک قرن تک زندہ رہو گے تو وہ سو سال زندہ رہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٦ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

بعض سوالوں کے جوابات : 

اس آیت پر ایک یہ اعتراض ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مکذبین کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ اس میں زجر وتوبیخ کی کون سی بات ہے ؟ کیونکہ موت تو ہر شخص کو آنی ہے۔ خواہ مومن ہو یا کافر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زجر وتوبیخ کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب شدید سے موت آئی۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ کیا انہوں نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کو نہیں دیکھا ؟ حالانکہ کفار مکہ نے گزشتہ امتوں کے احوال کا مشاہدہ نہیں کیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر دینے کے وہ مصدق نہیں تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی ہے کیا ان کو ان امتوں کے احوال نہیں معلوم اور ان امتوں کی ہلاکت کے احوال تواتر سے نقل ہو رہے تھے اور لوگوں کے درمیان مشہور تھے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اس بات کے ذکر کی کیا ضرورت ہے کہ اللہ ان کی جگہ ایک اور قوم کو لے آئے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کو ہلاک کرنا اللہ پر دشوار نہیں ہے ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ دوسری قوم کو لے آئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 6