روزہ کی حقیقی روح، غریب پروری،رحم اور نرم دلی

اللہ تعالی نے روزہ رکھنے کا حکم دیا یہ بھی غریب پروری کا ہی ایک سبق ہے۔

روزے کی بھوک، تجھے بھوکے کی بھوک کا احساس دلاتی ہے۔

رمضان المبارک میں سحری اور افطاری میں کھانا، دوپہر کا بچانا( جو کہ تیس دنوں میں دس دنوں کی خوراک بنتی ہے) پھر اس کو صدقہ و خیرات اور فطرانہ کی صورت میں غریب تک پہنچانا، یہی غریب پروری کا سبق ہے۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى ۔

اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے۔

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ روزہ سارا سبق ہی غریب پروری کا ہے۔

حضرت سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،جس نے روزہ افطار کروایا تو اسے بھی روزے دار کے برابر ثواب ملے گااور روزہ دار کے اجر میں بھی کمی واقع نہ ہوگی ۔ (ترمذی ، کتاب الصوم )

اور اگر کوئی کسی بےروز کو افطاری پر دعوت دے اور ثواب کی امید رکھے، تعجب ہے، اجر تو ملنا ہے روزہ دار کے برابر…

ایک دن کی افطاری پر اتنا اجروثواب اگر کوئی مہینے بھر کا راشن ڈال دے۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا، جو حلال کمائی سے کسی روزے دار کا روزہ افطار کروائے تو ملائکہ اس پر پورا مہینہ اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔

ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم !آ پ تو جانتے ہیں اگرکسی کے پاس اتنا نہ ہو؟ سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا، چاہے ایک لقمہ یا روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی ہو ۔

ایک ددسرے صحابی نے عرض کیا ، یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم! آپ کو تو معلوم ہے اگرکسی کے پاس اتنا بھی نہ ہو؟ ‘نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،چاہے دودھ کی لسی ہی ہو۔

ایک اورصحابی عرض گزار ہوئے ،اگر اتنا بھی نہ ہوتو؟حضورسرورِکونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،چاہے پانی کے ایک گھونٹ سے افطار کروادے (تب بھی یہ ثواب پائے گا)۔ (الترغیب والترہیب ، کتاب الصوم ، باب فی اطعام الطعام )

اوپر والی روایت کو پڑھنے سے بھی غریب کا ہی پتہ چلتا ہے، ورنہ امیر کو کون پانی کے گھونٹ سے دعوت پہ بلاتا ہے۔۔

اور پھر یہ روایت پڑھیے!

جو کسی روزہ دار کو پانی پلائے گااللہ عزوجل اسے میرے حوض سے ایسا گھونٹ پلائے گاجس کے بعد اسے پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

(ابن خزیمہ،کتاب الصیام، با ب فضائل شہر رمضان)

اُس ماہ کا اوّل رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے ۔۔

اگر رمضان مبارک کا اول رحمت ہے، تو کیا تجھے بھی اپنے ملازم، خادم، ورکر پر رحم آیا ہے یا نہیں……

یہاں پر یورپ میں ہمارے ایک دوست بتا رہے تھے کہ فیکٹری کے مالک نے تمام مسلمان ورکروں کو ایک گھنٹہ کام کی رعایت دے دی ہے آٹھ گھنٹے کی بجائے سات گھنٹے کام کریں گے…

ایک اٹالین فیکٹری کے مالک نے مسلمان ورکروں کے لیے صبح 6 سے ایک بجے تک کا ٹائم کردیا ہے….

کیا بطور مسلمان ہم بھی اپنے ورکروں کے ساتھ کچھ نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں یا ہمارا کہنا یہی ہے( بھائی جی عبادت اللہ کے لئے کرنی ہے ہمیں بس کام کی ضرورت ہے)….

یہاں پر اٹلی میں میں نے بارہا مشاہدہ کیا کہ کوئی پاکستانی مزدور کام کی تلاش میں ہو تو وہ کہتا ہے کسی اٹالین کے پاس کام ملے گا تو کرونگا پاکستانی مالک سے اللہ بچائے…

یہ بات ہمارے رویوں کی سختی کو بخوبی بیان کرنے کے لیے کافی ہے…….

اس ماہ مبارک میں مجموعی طور پر مسلمانوں کے دل نرم اورنیکی کی طرف راغب ہوتے ہیں کہ پورا ماحول اللہ سے تعلق اور اس کی رحمت و مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے۔

یہ سچ ہے دعاؤں میں رقت اور رویوں میں کچھ نرمی بھی آجاتی ہے۔

مگر کیا رویوں کی نرمی، صدقہ و خیرات کی فراوانی، تسبیح ٹوپی، رمضان کے بعد بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں…..؟

آج کامسلمان ذخیرہ اندوزی بھی کرتا ہے،اور اُس کے بعد صدقہ و خیرات بھی دل کھول کر۔

ذرا یہ فرمان نبوی ﷺ سنیے !جس نےکسی پر 40دن تک کھانا روکے رکھا(یعنی ذخیرہ اندوزی کی) پھر صدقہ بھی کر دیا تو یہ اس کا کفارہ نہیں ہو سکتا۔ الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع )

اے مسلمان ! کسی کا حق بھی مارتا ہے،اور اُس کے بعد عمرے پر بھی چلا جاتا ہے۔

فرمان نبوی ﷺ ہے ! اللہ عزوجل اس قوم کو پاک نہیں کرتا جس کا کمزور شخص، طاقتور سے پریشان ہو کر اپنا حق وصول کرے۔…..

کمزور اور نادار رشتہ داروں کو دھتکار کر اپنے گھر کے سامنے غریبوں اور محتاجوں کی لائنیں بنوا کر ان میں خیرات تقسیم کرتے ہو۔

اللہ حکم دیتا ہے! إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى ۔

ترجمہ : ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے۔

اللہ کے بندے ! تم ملازمین کی تنخواہیں روک کو مساجد کو چندے دیتے ہو۔

اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں! جو اس مہینے میں اپنے غلاموں و خادموں کے کام میں تخفیف کریگا اللہ عزوجل اس کی مغفرت فرمادے گا اوراسے جہنم سے آزاد فرمادے گا۔ (ابن خزیمہ،کتاب الصیام، با ب فضائل شہر رمضان)

ٹیکس چوری کرکے فلاحی اداروں کو عطیات دیتے ہو۔

کمیشن کے پیسوں اور رشوت کی رقم سے اجتماعی افطاریاں اور رمضان دستر خوان سجاتے ہو۔

گزشتہ چند سال سے ٹی وی چینلز پر رمضان شوز کی نئی روایت شروع ہوئی ہے، چند ایکٹرز مسخروں کے انداز میں یہ پروگرام کرتے ہیں اور ہزاروں لوگ بھیک منگوں کی طرح انعامات کے انتظار میں، عبادات کی لذت سے محروم ہوتے ہیں،

بھائی! اے ٹی وی مالکان اگر تم رمضان المبارک میں مار لٹانا ہی چاہتے ہو، تو کسی سیلاب زدہ، یا آفت زدہ علاقے میں جاکر حاجتمندوں کو کیوں نہیں دے دیتے…

اور عموماً لوگ افطار کی دعوت بھی مال داروں کو دیتے ہیں اور غریب و محتاج افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جب کہ یہ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کی افطاری و سحری اور کھانے کا اہتمام کیا جائے تا کہ ان کے دل سے جو دعائیں نکلیں وہ گناہوں کا کفارہ بن جائیں۔

سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو مرتبہ ملا ہے وہ محض عبادت سے نہیں ملا بلکہ خدمتِ خلق سے ملا، غم گساری سے ملا۔

فرمانِ باری تعالی ہے: ۔ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ……

پھر لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی (البلد : 17)

اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے اللہ تعالی ہمارے دلوں میں نرمی پیدا فرمائے رحم اور محبت کا جذبہ انسانیت کے لیے بالخصوص مسلمانوں کے لیے نصیب فرمائے آمین

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی