سؤال:

روزے کی حالت میں بلڈ ٹیسٹ ( Blood Test ) اور بلڈ ڈونیشن ( Blood Donation ) کا کیا حکم ہے ؟ کیا ان سے روزہ کی قضاء لازم ہوگی؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

ٹیسٹ کے لیے جو بلڈ لیا جاتا ہے اسکی مین تین أنواع ہیں:

۔ پولنگ کیپلری بلڈ

یہ ہاتھوں کی انگلیوں کے سر سے یعنی ناخن کے قریب سے

۔ وینی بلڈ

یہ اکثر یہ خون ٹیسٹ کے لیے لیا جاتا ہے۔، وہ جو کہنیوں کے ساتھ والے حصے سے لیتے ہیں ڈاکٹرز

۔أیری ٹیریل بلڈ

یہ شریانوں سے جو خون لیا جاتا ہے اسے کہتے ہیں یہ بہت کم استعمال ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

أب ہم بلڈ ٹیسٹ کی مذکورہ بالا أقسام کے حکم شرعی کا جائزہ لیتے ہیں:

فقہاء کے ہاں ایک صورت معروف تھی جسکو:

( الفصد )

یعنی فلیبو ٹومی جو اس وقت کے ڈاکٹرز علاج کے لیے گندہ خون نکالتے تھے

۔اور آج کے بلڈ ٹیسٹ کی تمام أقسام اسی عمل کا ارتقاء ہے

اور فلیبو ٹومی( الفصد) کے بارے میں فقہاء کی دو راۓ ہیں:

پہلی:

روزہ نہیں ٹوٹتا

یہ مذاہب اربعہ کا مفتی بہ قول ہے

لیکن اگر کمزوری ہو اسکے کرنے کی وجہ سے تو مکروہ تنزیہی ہے انکے ہاں

( رد المختار، 2/411 ، مواہب الجلیل، 2/416 ، روضۃ ، 2/357 ، فروع، 1/36 )

دوسری راۓ:

روزہ ٹوٹ جاتا ہے

یہ بعض حنابلہ کی راۓ ہے

( انصاف فی معرفۃ الراجح، مرداوی، 3/303

مختاط راۓ :

روزہ نہیں ٹوٹے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

أب ہم بلڈ ڈونیشن کے حکم شرعی کیا ہے فقہاء کرام کے ہاں اسکو بیان کرتے ہیں:

فقہاء معاصرین اسکی تخریج مسئلہ حجامہ( کپنگ ) پہ کرتے ہیں

حجامہ میں مختار رائے یہ ہے کہ:

روزہ نہیں ٹوٹتا

تو لہذا بلڈ ڈونیشن سے روزہ نہیں ٹوٹے گا

لیکن بعض معاصرین کے ہاں روزہ ٹوٹ جاتا ہے حجامہ پہ قیاس کرنے کی وجہ سے۔

تنبیہ:

بلڈ ٹیسٹ کی تخریج الفصد پہ کی کیونکہ دونوں میں خون بہت کم مقدار میں نکالا جاتاہے

اور بلڈ ڈونیشن کی تخریج حجامہ پہ کی کیونکہ دونوں میں خون زیادہ مقدار میں نکالا جاتاہے۔

تنبيه:

فصد( فلیبو ٹومی)

یہ خود فرع ہے حجامہ کی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلاصۂ کلام اور بندہ فقیر کا عمل:

بلڈ ٹیسٹ اور بلڈ ڈونیشن دونوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا بشرطیکہ خون لیتے وقت سرنج کے ساتھ کچھ بھی میڈیسن وغیرہ استعمال نہ کی ہو تو روزہ صحیح ہوگا اور قضاء نہیں کرے گا ۔

کیونکہ فقہاء ایک قاعدہ بیان کرتے ہیں:

الفطر مما دخل والوضوء مماخرج

ترجمہ:

یعنی داخل ہونے والی اشیاء سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور خارج ہونے والی اشیاء سے وضوء ٹوٹتا ہے ۔

یہ جو قاعدہ بیان ہوا ہے یہ عام نہیں بلکہ اغلبیت کے اعتبار سے ہے

واللہ أعلم