*لمبی تراویح اور اس کے نقصانات*

تراویح کے سلسلے میں اکثر لوگ ایک غلط فہمی کا شکار ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان شریف میں ایک مرتبہ پورا قرآن سن لیا بس کافی ہے ۔اب نہ قرآن سننے کی ضرورت ہے نہ تراویح کی ۔ جبکہ ایسا سوچنا غلط ہے ۔رمضان المبارک کو قرآن سے گہرا تعلق ہے اور اگر تراویح کی نماز میں قرآن سنا جائے تو یہ بہت بہتراور بڑے ثواب کا باعث ہے۔لیکن کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پوری تراویح میں پورا قرآن سنا جائے ۔اس طرح تراویح بھی چلتی رہتی ہے اور قرآن پاک سننے کی سعادت بھی ملتی رہتی ہے ۔چند دنوں کی قرآن والی تراویح کا جو رواج پڑ گیا ہے اس کی خرابی یہ ہے کہ قرآن پاک پانچ ،آٹھ یا دس دن میں سننے کے بعد آخر ماہ رمضان تک کی تراویح ہی چھوڑ دی جاتی ہے۔ جو ایک گناہ ہے۔تراویح کا حکم الگ ہے اور پورے قرآن کو ختم کرنا علیٰحدہ حکم رکھتا ہے ۔ جب کہ تراویح رمضان کےپورے مہینے تک پڑھنے کا حکم ہے ۔اگر جلد قرآن ختم بھی کر لیا گیا تو تراویح کا التزام بہر حال ضروری ہے ۔پورا قرآن جلد سننے کے چکر میں باقی ایام کی تراویح چھوڑ دینا بہت بڑا نقصان ہے اور عقلمندی کے بھی خلاف ۔

دوسری خرابی یہ پیدا ہو جاتی ہےکہ جب جلد قرآن ختم کرنے کی فکر ہوتی ہے تو حافظ جلد پڑھنے اور جلد ختم کرنے کی کوشش میں لگ کرلپیٹنے والی پڑھائی کرنے لگتے ہیں ۔نہ تجوید کا خیا ل کرتے ہیں نہ صحت کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ کبھی کبھی حروف بھی کھاجاتے ہیں جس کی وجہ سے صحت قراءت ہی میں فرق پیدا ہو جاتا ہے ۔جب قرآن صحیح نہیں پڑھا گیا تو نہ نماز ہوئی نہ ہی ثواب ملا اور پڑھنے سننے والوں نے گمان کر لیا کہ ہم نے اچھا کام کیا ۔

حضرت صدرالشریعہ علامہ حکیم محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں ؛“قراءت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے اد ا کیے جائیں کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز (الگ) ہوجائے” ۔

📒(بہار شریعت حصہ سوم،ص 511،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ ،دہلی)

مزید فرماتے ہیں ؛ “خوش خواں (اچھی آواز سے پڑھنے والے) کو امام نہ بنانا چاہیے بلکہ درست خواں (صحیح پڑھنے والے ) کو امام بنائیں ”۔(عالمگیری)

افسوس صد افسوس کہ اس زمانے میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے ۔اکثرتو ایساپڑھتے ہیں کہ یعلمون تعلمون کے سوا کچھ پتا نہیں چلتا ،الفاظ و حروف کھاجایا کرتے ہیں ۔جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انہیں دیکھیں تو حروف صحیح اد انہیں کرتے ۔ہمزہ ،الف ،عین اور ذ،ز،ظ اور ث ،س،ص ،ط اور ت وغیرہ حروف میں تفرقہ(فرق )نہیں کرتے ۔جس سے قطعا ً نماز نہیں ہوتی ۔فقیر (امجد علی)کو اِنہیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا ۔مولیٰ عزوجل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ ما انزل (جیسا نازل ہوا ) پڑھنے کی کوشش کریں ۔

📒(بہار شریعت ح 4،ص 691)

اب جو لوگ ایک پارہ ،ڈیڑھ پارہ پڑھیں اور ایسی غلطیاں کریں جو مذکور ہوئیں تو وہ بھی ضرور ماخوذ ہوں گے ۔پھر جو تین دن میں ،پانچ دن میں اور بعض ایک ہی شب میں ختم کرنے کے عادی ہیں وہ بھلا سوچیں کہ کس قدر صحیح پڑھ پاتے ہیں؟اور یہ بھی غور کریں کہ اس طرح کس قدر گناہ اپنے سر لادتے ہیں ؟

پھر چند دنوں کے ختم میں نماز کی جو بے حرمتی ہوتی ہے وہ علیٰحدہ ہے کہ کچھ تو پہلی رکعت میں بیٹھے ہی رہتے ہیں جب امام رکوع میں جاتا ہے تب جلدی سے اٹھ کر رکوع میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ ان میں اکثر نیت و تحریمہ کا لحاظ نہیں کر پاتے یا جھکے جھکے ہی تحریمہ باندھ لیتے ہیں جو کسی طرح صحیح نہیں ،کیوں کہ تحریمہ کے لیے قیام ضروری ہے ۔ان کی تو سرے سے نماز ہی نہیں ہوتی ۔اور بہت وہ ہیں جو سرے سے جماعت میں شامل ہی نہیں ہوتے ،بیٹھے رہ جاتے ہیں ۔نماز باجماعت ہو اور آدمی بلا عذر بیٹھا رہے گناہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟اور بعض تو اسی درمیان باتیں بھی کرتے رہتے ہیں یہ ایک اور بڑا گناہ ہے ۔ کیا یہ نماز وجماعت کی بے قدری نہیں ؟اور جو بیٹھے رہتے ہیں وہ بھی بغور سنتے نہیں اِدھر ادھر کرتے ہیں کبھی آپس میں جھگڑ پڑتے ہیں ۔یہ خرابیا ں وہ ہیں جو بیان کے قابل نہیں ۔از خود ہر ذی ہوش مسلمان دین کی معمولی معلومات رکھنے والا بھی محسوس کر سکتا ہے ۔میرا مشورہ یہ ہے کہ رسمی تراویح کے بجاے شرعی ترایح پڑھنے پڑھا نے کا اہتمام ہونا چاہیے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ رمضان شریف اور قرآن پاک کی پوری پوری برکتوں سے ہم فیض یاب نہیں ہو پاتے ۔ مولیٰ تبارک و تعالیٰ ہمارے مسلمان بھائیوں کو صحیح طریقے سے روزہ رکھنے،اچھی طرح قرآن اور تراویح پڑھنے اور سننے اور شریعت کے احکام کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

*مفتی محمد عبد المبین نعمانی*

چریاکوٹ ضلع مئو،یوپی

ترسیل پیغام اصلاح :

نوری مشن مالیگاؤں