أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب بھی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آتی ہے وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب بھی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آتی ہے وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ سو بیشک جب ان کے پاس حق آگیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیاسو عنقریب ان کے پاس اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (الانعام : ٥۔ ٤) 

کفر باللہ پر ملامت کے بعد کفر بالرسول کی مذمت : 

اس سے پہلی تین آیات تعلق آیات کا تعلق توحید کے ساتھ تھا اور آیتوں کا تعلق رسالت کے ساتھ ہے۔ سابقہ آیتوں میں مشرکین کے اس کفر کو بیان فرمایا تھا جو وہ اللہ کے ساتھ کرتے تھے اور ان آیتوں میں ان کے اس کفر کو بیان فرمایا ہے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کرتے تھے اور ان آیات میں وجہ ارتباط یہ ہے کہ مشرکین مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار بھی اس لیے کرتے تھے ‘ کہ آپ اللہ عزوجل کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے۔ اس وجہ سے وہ آپ کی تکذیب کرتے تھے اور جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی رسالت کے صدق پر اللہ کی طرف سے کوئی نشانی اور معجزہ پیش کرتے تو وہ اس سے منہ موڑ لیتے تھے۔ سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ آپ نے قرآن مجید پیش کیا اور یہ دعوی کیا کہ کوئی انسان اس کی چھوٹی سے چھوٹی آیت کی بھی نظیر نہیں لاسکتا ‘ سو کوئی اس کی نظیر نہیں لاسکتا۔ پھر آپ نے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا اور کئی معجزات پیش کیے ‘ لیکن انہوں نے ان معجزات کا نہ صرف انکار کیا بلکہ ان کا مذاق اڑایا۔ 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے انکار اور کفر کے تین احوال بیان فرمائے ہیں۔ پہلا حال یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں سے اعراض کیا اور منہ موڑا۔ دوسرا حال یہ ہے کہ انہوں نے ان نشانیوں کی تکذیب کی اور ان کو جھٹلایا اور تیسرا حال یہ ہے کہ انہوں نے ان نشانیوں کا مذاق اڑایا اور یہ ان کے کفر اور انکار کی انتہاء ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب ان کے پاس اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اس وعید میں دو احتمال ہیں ‘ اس سے مراد دنیا کا عذاب بھی ہوسکتا ہے ‘ جیسا کہ جنگ بدر میں مشرکین مکہ کو شکست فاش ہوئی اور ان کو اپنی عددی برتری اور طاقت کا جو گھمنڈ تھا ‘ وہ خاک میں مل گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد آخرت کا عذاب ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 4